ham do bande hain aur cigarette ek
ab khabar hogi dosti ki dost

Muzdam Khan
Muzdam Khan
Muzdam Khan
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
مجھ سے بہتر تو مل گیا ہے تمہیں اور اللہ سے کیا گلہ ہے تمہیں ہم اکٹھے نہیں رہیں گے کبھی میرے بچوں کا تو پتا ہے تمہیں میں تمہیں دیکھ بھی نہیں سکتا دیکھنا بھی تو مسئلہ ہے تمہیں یعنی تم اتنی خوب صورت ہو چھوٹا بچہ بھی دیکھتا ہے تمہیں میں تمہارا اگر بتا بھی دوں لوگ پوچھیں گے اور کیا ہے تمہیں جو کسی کو کبھی نہیں ہوتا کتنی آسانی سے ہوا ہے تمہیں
mujh se behtar to mil gayaa hai tumhein
دنیا کو شاندار کا مطلب نہیں پتا مطلب ہمارے یار کا مطلب نہیں پتا میں نے کہا تلاش کروں گا کہاں تمہیں اس نے کہا قطار کا مطلب نہیں پتا وہ وقت پر ملے نہ ملے فائدے میں ہوں وہ یوں کہ انتظار کا مطلب نہیں پتا اللہ کرے تم آنکھیں دکھاؤ کبھی اسے جس شخص کو خمار کا مطلب نہیں پتا بے باک آدمی ہوں مگر ہوں تو آدمی شرم آ رہی ہے پیار کا مطلب نہیں پتا
duniyaa ko shaandaar kaa matlab nahin pataa
ایک دفعہ جو ترے زیر اثر اندھا ہوا اگلی دفعہ بھی وہی ہوگا اگر اندھا ہوا میرے اندر روشنی تھی خون تو تھا ہی نہیں وار کرنے والا پہلے وار پر اندھا ہوا وہ نظر آتا ہے تو پھر کچھ نظر آتا نہیں اس کو جس جس نے بھی دیکھا عمر بھر اندھا ہوا سب اسی کو دیکھ کر آئے ہیں راہ عشق پر جس کا آغاز سفر میں ہم سفر اندھا ہوا آنکھیں کھل جاتی ہیں جس حالت میں خود کو دیکھ کر میں اسی حالت میں اس کو دیکھ کر اندھا ہوا اس کو آنکھیں مل گئیں گھر میں ہمیشہ کی طرح میں ہمیشہ کی طرح اوروں کے گھر اندھا ہوا اس نے اک اندھے کو تحفے میں چھڑی کیا بھیج دی دیکھتے ہی دیکھتے سارا نگر اندھا ہوا میرے اندھے پن کا اوروں نے اٹھایا فائدہ وہ جدھر ہوتا نہیں تھا میں ادھر اندھا ہوا ایسے اندھے کی حکومت ہے ہمارے ملک میں جس کو یہ بھی کہہ نہیں سکتے کدھر اندھا ہوا
ek dafa jo tire zer-e-asar andhaa huaa
حسین عورتوں کو چھوڑ کر عجب سب تھے کوئی ہمارا نہ تھا صاحب نسب سب تھے میں صرف اس لئے زندہ ہوں جب عذاب آئے تو اس سے آنکھیں ملا کر کہوں کہ سب سب تھے حسین عورتیں لشکر میں بھرتی کر دی گئیں شکست ہو گئی دشمن کو کیونکہ اب سب تھے قیامت آئی تو شکوے کے طور پر میں نے مذاق اڑایا کہاں رہ گئی تھی جب سب تھے دو چار لوگ مریں گے تمہارے آنے پر زیادہ دیر لگا دی ہے تم نے تب سب تھے الف گرانے کو بھی شرک جانتے تھے ہم خدا پکارتے تو کیسے زیر لب سب تھے ہجوم کہنے لگا آسماں سے ہے کوئی اور اس نے ہاں کہا پھر اس کے بعد کب سب تھے ہمارے پاس الگ ہونے کا بہانا تھا ہماری پہلی ملاقات کا سبب سب تھے
hasin auraton ko chhoD kar ajab sab the
تجھے میری خموشی سے بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ میں اب صرف باتوں سے تر و تازہ نہیں ہوتا ترا آنا بھی دیکھے گا ترا جانا بھی ہر کوئی محل کی طرح گھر میں چور دروازہ نہیں ہوتا نتیجوں سے بھری دنیا میں پیدا ہونے والوں کا بھروسہ تو بہت ہوتا ہے خمیازہ نہیں ہوتا تری آواز بھاری ہوتی تو سنتا نہیں کوئی ترے پاؤں نہیں ہوتے تو آوازہ نہیں ہوتا وہ جس کی ایک ٹھوکر سے ہماری خاک اڑتی ہے اسی کے پاس گالوں کے لئے غازہ نہیں ہوتا اسے ان شاعروں سے تازہ پھولوں کی توقع ہے کہ جن کی شاعری میں شعر بھی تازہ نہیں ہوتا بچھڑتے وقت ہم دونوں کی حالت ایک جیسی تھی بکھرتے وقت جیسے کوئی شیرازہ نہیں ہوتا
tujhe meri khamoshi se bhi andaaza nahin hotaa
بھائی کمال کر دیا دیوار کھینچ کر پہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کر اتنا جھکا دیا ہے ترے ہجر نے مجھے بچہ بھی سر سے لے گیا دستار کھینچ کر کردار بھی دکھاتا اگر شکل کی طرح دے مارتے زمیں پہ مجھے یار کھینچ کر یہ کائنات میرے تخیل سے چھوٹی ہے دیکھا ہے اس کو میں نے کئی بار کھینچ کر نوکر نہیں سمجھتا زباں کو میں کان کا پڑھتا نہیں ہوں اس لئے اشعار کھینچ کر
bhaai kamaal kar diyaa divaar khinch kar





