apni khuddaari to paamaal nahin kar sakte
us kaa number hai magar kaal nahin kar sakte

Nadir Areez
Nadir Areez
Nadir Areez
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
نئے مجرم ہیں پرانوں کی طرف دیکھتے ہیں مقتدی اپنے اماموں کی طرف دیکھتے ہیں خوف سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں بزدل فوجی ہم ندامت سے شہیدوں کی طرف دیکھتے ہیں اتنا پیارا ہے وہ چہرہ کہ نظر پڑتے ہی لوگ ہاتھوں کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیں ہجر راس آتا تو کیوں کرتے تجھے یاد میاں دھوپ لگتی ہے تو چھاؤں کی طرف دیکھتے ہیں کیا خسارا ہے انہیں بچوں کا گھر بسنے میں ہم تعجب سے بزرگوں کی طرف دیکھتے ہیں جن کو آسانی سے دیدار میسر ہے ترا وہ کہاں باغ میں پھولوں کی طرف دیکھتے ہیں پہلا موقع ہے محبت کی طرف داری کا کبھی اس کو کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں
nae mujrim hain puraanon ki taraf dekhte hain
1 views
اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتے اس کا نمبر ہے مگر کال نہیں کر سکتے سیم جائے گا تو پھر نقش ابھاریں گے کوئی کام دیوار پہ فی الحال نہیں کر سکتے رہ بھی سکتا ہے ترا نام کہیں لکھا ہوا سارے جنگل کی تو پڑتال نہیں کر سکتے دوست تصویر بہت دور سے کھینچی گئی ہے ہم اجاگر یہ خد و خال نہیں کر سکتے روتی آنکھوں پہ میاں ہاتھ تو رکھ سکتے ہیں پیش اگر آپ کو رومال نہیں کر سکتے دے نہ دے کام کی اجرت یہ ہے مرضی اس کی پیشۂ عشق میں ہڑتال نہیں کر سکتے دشت آئے جسے وحشت کی طلب ہو نادرؔ یہ غذا شہر ہم ارسال نہیں کر سکتے
apni khuddaari to paamaal nahin kar sakte
1 views
مری جاں پر یہ پتھر اس لیے بھاری زیادہ ہے محبت کم ترے لہجے میں غم خواری زیادہ ہے یہ سب سے مختصر رستہ ہے اس وادی میں جانے کا مگر اس پر سفر کرنے میں دشواری زیادہ ہے ہم اپنی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں خود اکثر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ خودداری زیادہ ہے محبت کے قریب آیا تو اندازہ ہوا مجھ کو کہ دل کش گھر سے گھر کی چار دیواری زیادہ ہے ابھی یہ بحث نادرؔ وقت کی چوکھٹ پہ رکھتے ہیں یہ کل دیکھیں گے کس کا کام معیاری زیادہ ہے
miri jaan par ye patthar is liye bhaari ziyaada hai
کئی دنوں تک نظر میں رہنے پہ ہاں کرے گی وہ پہلی کوشش پہ دل کشادہ کہاں کرے گی خدا کی مرضی بتا رہا تھا بچھڑنے والا وہ جانتا تھا کہ گیلی لکڑی دھواں کرے گی مجھے پتا ہے میں اس کی نظروں سے گر گیا ہوں مری توجہ بھی اب اسے بد گماں کرے گی بچھڑ گئے دوست تو غلط فہمیاں بڑھیں گی زمیں پہ بکھرے تنوں کا دیمک زیاں کرے گی بغیر پتوار معجزہ ہوگا پار لگنا یہ لہر پر ہے کدھر سفینہ رواں کرے گی کوئی شگوفہ تمہارے ہنسنے کا منتظر ہے کسی نظارے کو دھوپ آ کر عیاں کرے گی
kai dinon tak nazar mein rahne pe haan karegi





