SHAWORDS
Naina Adil

Naina Adil

Naina Adil

Naina Adil

poet
1Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

دوسرا کوئی چہرہ دیکھتا نہیں ہے تو فرض کر لیا میں نے بے وفا نہیں ہے تو ساتھ ساتھ چلتے ہیں جبکہ دونوں بارش میں تر بہ تر ہوں میں لیکن بھیگتا نہیں ہے تو شرح غم تو کیا کیا ہوگی رقص دیکھنے والے گھنگھرؤں سے پائل کے آشنا نہیں ہے تو وہ خوشی ہوں جس کو تو چاہتا ہے اپنانا اور درد وہ جس کو جھیلتا نہیں ہے تو

dusraa koi chehra dekhtaa nahin hai tu

غزل · Ghazal

ریا کاری کے دھندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل خدا کے نیک بندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل وفا کی سوکھتی جھیلوں سے لاکھوں کوچ کرتے ہیں مگر اڑتے پرندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل تماشا دیکھتے ہیں آپ اپنا اور ہنستے ہیں ہمارے درد مندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل ابھی تو بھیگتے لمحوں نے پہلا بھید پایا ہے ابھی بارش کی بوندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل چھلکتے ہیں محبت راستی اور حرف کے پیالے کہیں کیسے کہ رندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل فساد و قتل کرتے ہیں جو تیرے میرے ناموں پر الٰہی ان درندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل نہ اعزازات اور پی آر نے سیمینار اور تمغے ادب کے شر پسندوں میں نہ تو شامل نہ میں شامل

riyaa-kaari ke dhandon mein na tu shaamil na main shaamil

غزل · Ghazal

ہے بال و پر میں وحشت سی بے سمت اڑانیں بھرتی ہوں اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں پھر آس کا دریا بہتا ہے پھر سبزہ اگ اگ آتا ہے پھر دھوپ کنارے بیٹھی میں اک خواب کی چھاگل بھرتی ہوں کیوں آگ دہکتی ہے مجھ میں کیوں بارش ہوتی ہے مجھ میں جب دھیان سے ملتی ہوں تیرے جب تیرے من میں اترتی ہوں کب مجھ کو رہائی ملتی تھی ناحق جو قفس بھی توڑ دیا بج اٹھتی ہیں زنجیریں سی میں پاؤں جہاں بھی دھرتی ہوں اک پھول کی پتی کا بستر اک اوس کے موتی کا تکیہ تتلی کے پروں کو اوڑھ کے میں خوابوں میں آن ٹھہرتی ہوں دل غم سے رہائی چاہتا ہے اور وہ بھی جیتے جی صاحب پھر تجھ میں پنہ لے لیتی ہوں پھر خود سے کنارہ کرتی ہوں ہیں ناگ کا پھن کالی راتیں لمحہ لمحہ ڈستی جاویں سو بار تڑپتی ہوں صاحب سو بار میں جیتی مرتی ہوں

hai baal-o-par mein vahshat si be-samt uDaanein bharti huun

غزل · Ghazal

دے کر فریب پیاس کی آزردگی کو ہم آؤ نا گھونٹ بھر کے پئیں زندگی کو ہم کھلنے لگی ہے نیند کی بھیدوں بھری کتھا چھونے لگے ہیں خواب کی دل بستگی کو ہم صحرا قبول کرتا ہے بارش کا عندیہ مٹی میں گوندھ لیتے ہیں جب تشنگی کو ہم رکھ کر ہزار آئنے اس رخ کے روبرو دھوکہ دیا کریں گے تری سادگی کو ہم رقصاں ہے بوزنوں کی طرح وقت بے تکان تکتے ہیں پتلیوں کی طرح ڈگڈگی کو ہم اندر ہی اپنے خاک اڑاتے ہیں دور تک باہر نہیں نکالتے آوارگی کو ہم حاجت کے دام گرتے نہیں ہیں نقاب میں یعنی حجاب کرتے ہیں بے پردگی کو ہم سنتا تھا بے کنار سمندر ہماری نظم اوروں کو بھی سناتے رہے دل لگی کو ہم لفظوں کی میزبانی اگر سونپ دی گئی مہماں کریں گے آپ کی سنجیدگی کو ہم

de kar fareb pyaas ki aazurdagi ko ham

غزل · Ghazal

بوجھ اپنا سہارتے ہیں ہم کون سا تیر مارتے ہیں ہم آنکھ کے پار کس خموشی سے ایک دریا اتارتے ہیں ہم اور ہنستا ہے آئینہ ہم پر اور خود کو سنوارتے ہیں ہم ہر نئی شام اپنے پہلو میں ایک سائے کو مارتے ہیں ہم کوئی بھی تو نہیں ہے کوئی بھی جانے کس کو پکارتے ہیں ہم

bojh apnaa sahaarte hain ham

غزل · Ghazal

حیرت سرائے حرف میں آؤ تو بات ہے اور واپسی کی راہ نہ پاؤ تو بات ہے خوشبو کے بھید کھلتے نہیں چار روز میں پھولوں کے ساتھ عمر بتاؤ تو بات ہے ایسے کھلو کھلے ہے غزل جیسے میرؔ کی آ کر بھی یعنی ہاتھ نہ آؤ تو بات ہے لے کر تمہارے گیت جو اترے دلوں کے پار کاغذ پہ ایسی ناؤ بناؤ تو بات ہے کیا لطف آئینے سے ملی روشنی میں ہے نیناؔ دیے کی قید میں آؤ تو بات ہے

hairat saraae harf mein aao to baat hai

Similar Poets