raushan bhi hami se rahi taqdir hamaari
aur apne muqaddar ki siyaahi bhi hamin the

Naseem Siddiqi
Naseem Siddiqi
Naseem Siddiqi
Popular Shayari
4 totalrasta bhi hami log the raahi bhi hamin the
aur apni masaafat ki gavaahi bhi hamin the
qumqumon ki aanch ne pighlaa diye manzar tamaam
chaand ab koi kisi bhi baam par miltaa nahin
maslahat kaa ye kafan rakhtaa hai be-daagh hamein
ahl-e-imaan hain ham-rang se Dar lagtaa hai
Ghazalغزل
خوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے مرحبا سنیے تو آہنگ سے ڈر لگتا ہے ہو کھرا بانٹ تو تلنے سے نہیں کوئی گریز ہاں مگر جنبش پاسنگ سے ڈر لگتا ہے مصلحت کا یہ کفن رکھتا ہے بے داغ ہمیں اہل ایمان ہیں ہم رنگ سے ڈر لگتا ہے ہم جو تلوار اٹھا لیں تو قیامت آ جائے ہاں مگر یہ کہ ہمیں جنگ سے ڈر لگتا ہے فاصلہ دل کا ہے دنیا سے محض اک فرسنگ اور ہمیں بس اسی فرسنگ سے ڈر لگتا ہے ڈر نہیں لگتا کسی خواب سے ہم کو لیکن اس کی تعبیر کی فرہنگ سے ڈر لگتا ہے آہنی عزم ہوں پر آنکھ بھی نم ہے میری بھیگے موسم میں مجھے زنگ سے ڈر لگتا ہے سر کو دیوار سے محفوظ رکھا ہے پہ نسیمؔ اپنی مٹھی میں چھپے سنگ سے ڈر لگتا ہے
khush-navaai tere nairang se Dar lagtaa hai
زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں صورت تصویر میں بھی آئنہ خانے میں ہوں یا بہ شکل جنس ہوں حصہ کسی بازار کا یا کسی کردار کا مانند افسانے کا ہوں ایک پل ہوں سکۂ رائج بہ تزک و احتشام دوسرے پل کوڑیوں کے مول بک جانے کو ہوں ہے خسارہ ہی خسارہ ساری ہستی سب وجود میں بھی شامل ہوں اسی میں اور ہرجانے میں ہوں ہوں کبھی میں ساغر سیرابیٔ کون و مکاں تشنگی بن کر کبھی ہستی کے پیمانے میں ہوں نامرادانہ ہی سرگرم عمل ہوں دہر میں میں نہ پانے کے تقاضے میں نہ کھو جانے میں ہوں
zinda rahne mein huun shaamil aur na mar jaane mein huun
رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہمیں تھے جو جنگ چھڑی تھی اسے جیتے بھی ہمیں لوگ رن چھوڑ کے بھاگے وہ سپاہی بھی ہمیں تھے وہ شہر بسا بھی تھا ہماری ہی بدولت اس شہر تمنا کی تباہی بھی ہمیں تھے روشن بھی ہمی سے رہی تقدیر ہماری اور اپنے مقدر کی سیاہی بھی ہمیں تھے ہے دام جو دریا میں وہ پھینکا تھا ہمیں نے اس دام میں پھنستی ہوئی ماہی بھی ہمیں تھے
rasta bhi hami log the raahi bhi hamin the
بس در و دیوار مل جاتے ہیں گھر ملتا نہیں ایسا دستاروں کا جمگھٹ ہے کہ سر ملتا نہیں خواہ دونوں ساتھ مل کر طے کریں یہ فاصلہ اے ہوا تجھ کو بھی کوئی ہم سفر ملتا نہیں قمقموں کی آنچ نے پگھلا دیے منظر تمام چاند اب کوئی کسی بھی بام پر ملتا نہیں اک تقاضا ہوں جو پورا ہی نہیں ہوتا کبھی سچ یہی ہے اور اس سچ سے مفر ملتا نہیں
bas dar-o-divaar mil jaate hain ghar miltaa nahin
زخم سنتے ہیں لہو بولتا ہے چاک چپ ہے تو رفو بولتا ہے خامشی ایسی کہ دیکھی نہ سنی ہر طرف عالم ہو بولتا ہے خواب سمجھوں کہ حقیقت اس کو اک پرندہ لب جو بولتا ہے میں کہ مر کر بھی ابھی زندہ ہوں جسم پر ہر سر مو بولتا ہے اب تو اک نام عطا کر یا رب کس و ناکس مجھے تو بولتا ہے وہ نمازیں کہ ادا ہو نہ سکیں اب بھی صحرا میں وضو بولتا ہے
zakhm sunte hain lahu boltaa hai





