SHAWORDS
Nashir Naqvi

Nashir Naqvi

Nashir Naqvi

Nashir Naqvi

poet
4Sher
4Shayari
23Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 23
غزل · Ghazal

main khush bahut huun mujh ko faqiri jo raas hai

میں خوش بہت ہوں مجھ کو فقیری جو راس ہے ورنہ امیر شہر بہت بد حواس ہے کتنی عظیم تر مرے ہونٹوں کی پیاس ہے جو لفظ ہے ترائی کا اب اس کے پاس ہے کس نے گلاب رنگ شفق میں ملا دیا ہر پھول کے بدن پہ سنہری لباس ہے کچھ اس لئے سفر پہ سفر کر رہا ہوں میں ناآشنا حیات کو کچھ مجھ سے آس ہے اچھا تو یہ تھا کچھ بھی نہ ہوتا سفر میں ساتھ تھک اس لئے گیا ہوں کہ سامان پاس ہے آنکھوں کی نیند سے بھی سبک دوش کر گیا تنہائیوں میں کون مرا غم شناس ہے اک کشمکش سی رہتی ہے سچ اور فریب میں وہ دور ہے ضرور مگر آس پاس ہے باندھا ہوا ہے خود کو سبھی نے حصار میں غم بانٹنے کا وقت یہاں کس کے پاس ہے کل جو سمجھ کے چھوڑ گیا تھا شکستہ پا منزل پہ آج دیکھ کے مجھ کو اداس ہے اب تک کی زندگی میں تو سمجھا ہے بس یہی دنیا ہے اک فریب نظر اک قیاس ہے ناشرؔ کسی سے کرتا نہیں ہے شکایتیں شاید یہی سبب ہے زباں میں مٹھاس ہے

غزل · Ghazal

ik aisaa zindagi kaa zaabta tashkil kar aayaa

اک ایسا زندگی کا ضابطہ تشکیل کر آیا جو سنگ ذات تھا میں اس کو سنگ میل کر آیا نہ حرف و لفظ ہی رکھے نہ ہے صوت و صدا ان میں بس اک سادے ورق پر زندگی تحلیل کر آیا مسیحائی کے چرچے حشر تک یوں ہی مرے ہوں گے صدائے قم بہ اذن اللہ کو انجیل کر آیا جو تیری بات تھی مالک بیاں کر دی زمانے سے جو تیرا حکم تھا اس حکم کی تعمیل کر آیا مرا ہر شعر ناشرؔ زندگی کا ترجمہ ٹھہرا سخن میں ڈھال کر قصے کو با تفصیل کر آیا

غزل · Ghazal

khud apni hi hadon kaa daaera thaa saaebaan ham the

خود اپنی ہی حدوں کا دائرہ تھا سائباں ہم تھے نہ جانے رات کتنے تجربوں کے درمیاں ہم تھے صداؤں کے تعاقب میں خود اپنے ہوش کھو بیٹھے درختوں کی گھنیری چھاؤں تھی اور بے زباں ہم تھے کیا جب غور تو سب وسعتیں محدود تر نکلیں فریب خود نگاہی میں تو بحر بیکراں ہم تھے گری اک اینٹ دیوار شکستہ سے مگر ساکت کہ جیسے سیکڑوں صدیوں کے بس اک رازداں ہم تھے چلو کب تک یوں ہی ملتے رہیں بوجھل سی پلکوں کو کہ جس میں رات بھر گھٹتا رہا دم وہ دھواں ہم تھے کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی خوشیاں کبھی آنسو کرایہ دار وہ سب تھے کرائے کا مکاں ہم تھے عجب انداز کی سوزش تھی ناشرؔ جھلسے ماضی کی ملا کرتے تھے شہزادے جہاں وہ داستاں ہم تھے

غزل · Ghazal

khudi ko aazmaanaa chaahtaa huun

خودی کو آزمانا چاہتا ہوں تجھے بھی بھول جانا چاہتا ہوں ترے لوگوں میں رشتے مر رہے ہیں زمیں کو یہ بتانا چاہتا ہوں بہت روئے ہیں یہ شبنم سے مل کر گلوں کو میں ہنسانا چاہتا ہوں بنا تیرے مہک کس طرح پھیلی ہوا کو یہ دکھانا چاہتا ہوں جو پس منظر میں رہتے ہیں ہمیشہ انہیں منظر میں لانا چاہتا ہوں نظر اکتا گئی ہے منظروں سے نئی دنیا بسانا چاہتا ہوں فقیرانہ چٹائی کو بچھا کر سر شاہی جھکانا چاہتا ہوں اب اپنے ہجر کی روداد ناشرؔ ستاروں کو سنانا چاہتا ہوں

غزل · Ghazal

khaamushi rakkhi to chaahat baDh gai

خامشی رکھی تو چاہت بڑھ گئی میری چپ سے اس کی ہمت بڑھ گئی جب تلک تنہا تھا گھر میں شاد تھا بزم میں آیا تو وحشت بڑھ گئی اپنی بدنامی سے ظالم شاد ہے ہو گیا رسوا تو شہرت بڑھ گئی تھا یہ خود غرضی کا اک رد عمل میرے لہجے کی بغاوت بڑھ گئی میرے خط پر اس کا آنسو گر گیا بات چھوٹی تھی عبارت بڑھ گئی

غزل · Ghazal

chehron ke khad-o-khaal kaa manzar nahin dekhaa

چہروں کے خد و خال کا منظر نہیں دیکھا تم نے کبھی آئینوں کے اندر نہیں دیکھا پھولوں کے تبسم پہ نہ اتراؤ نظارو پھولوں کا کبھی تم نے مقدر نہیں دیکھا کس طرح سے قاتل کہوں تہمت رکھوں ان پر جن ہاتھوں میں میں نے کبھی خنجر نہیں دیکھا پانی کے ترنم میں تو مسحور سبھی تھے گرتے ہوئے جھرنے کو سمجھ کر نہیں دیکھا معصوم تبسم نے ترے توڑے ہیں پیکاں تجھ جیسا مجاہد علی اصغرؔ نہیں دیکھا اے دست طلب سر نہ انا کا کہیں جھک جائے میں نے کبھی زرداروں کو مڑ کر نہیں دیکھا

Similar Poets