"safar ka khatma hota nahin kahin apna har ik paDav se ik ibtida nikalti hai"

Nashir Naqvi
Nashir Naqvi
Nashir Naqvi
Sherشعر
safar ka khatma hota nahin kahin apna
سفر کا خاتمہ ہوتا نہیں کہیں اپنا ہر اک پڑاؤ سے اک ابتدا نکلتی ہے
jaane kab kaun se lamhe men zarurat paD jaa.e
جانے کب کون سے لمحے میں ضرورت پڑ جائے تم ہمارے لئے پہلے سے دعا کر رکھنا
us ke karam ka ek sahara jo mil gaya
اس کے کرم کا ایک سہارا جو مل گیا پھر عمر بھر کسی کی ضرورت نہیں ہوئی
vafa ki raah men dil ka sipas rakh dunga
وفا کی راہ میں دل کا سپاس رکھ دوں گا میں ہر ندی کے کنارے پہ پیاس رکھ دوں گا
Popular Sher & Shayari
8 total"jaane kab kaun se lamhe men zarurat paD jaa.e tum hamare liye pahle se dua kar rakhna"
"us ke karam ka ek sahara jo mil gaya phir umr bhar kisi ki zarurat nahin hui"
"vafa ki raah men dil ka sipas rakh dunga main har nadi ke kinare pe pyaas rakh dunga"
safar kaa khaatma hotaa nahin kahin apnaa
har ik paDaav se ik ibtidaa nikalti hai
jaane kab kaun se lamhe mein zarurat paD jaae
tum hamaare liye pahle se duaa kar rakhnaa
us ke karam kaa ek sahaaraa jo mil gayaa
phir umr bhar kisi ki zarurat nahin hui
vafaa ki raah mein dil kaa sipaas rakh dungaa
main har nadi ke kinaare pe pyaas rakh dungaa
Ghazalغزل
main khush bahut huun mujh ko faqiri jo raas hai
میں خوش بہت ہوں مجھ کو فقیری جو راس ہے ورنہ امیر شہر بہت بد حواس ہے کتنی عظیم تر مرے ہونٹوں کی پیاس ہے جو لفظ ہے ترائی کا اب اس کے پاس ہے کس نے گلاب رنگ شفق میں ملا دیا ہر پھول کے بدن پہ سنہری لباس ہے کچھ اس لئے سفر پہ سفر کر رہا ہوں میں ناآشنا حیات کو کچھ مجھ سے آس ہے اچھا تو یہ تھا کچھ بھی نہ ہوتا سفر میں ساتھ تھک اس لئے گیا ہوں کہ سامان پاس ہے آنکھوں کی نیند سے بھی سبک دوش کر گیا تنہائیوں میں کون مرا غم شناس ہے اک کشمکش سی رہتی ہے سچ اور فریب میں وہ دور ہے ضرور مگر آس پاس ہے باندھا ہوا ہے خود کو سبھی نے حصار میں غم بانٹنے کا وقت یہاں کس کے پاس ہے کل جو سمجھ کے چھوڑ گیا تھا شکستہ پا منزل پہ آج دیکھ کے مجھ کو اداس ہے اب تک کی زندگی میں تو سمجھا ہے بس یہی دنیا ہے اک فریب نظر اک قیاس ہے ناشرؔ کسی سے کرتا نہیں ہے شکایتیں شاید یہی سبب ہے زباں میں مٹھاس ہے
ik aisaa zindagi kaa zaabta tashkil kar aayaa
اک ایسا زندگی کا ضابطہ تشکیل کر آیا جو سنگ ذات تھا میں اس کو سنگ میل کر آیا نہ حرف و لفظ ہی رکھے نہ ہے صوت و صدا ان میں بس اک سادے ورق پر زندگی تحلیل کر آیا مسیحائی کے چرچے حشر تک یوں ہی مرے ہوں گے صدائے قم بہ اذن اللہ کو انجیل کر آیا جو تیری بات تھی مالک بیاں کر دی زمانے سے جو تیرا حکم تھا اس حکم کی تعمیل کر آیا مرا ہر شعر ناشرؔ زندگی کا ترجمہ ٹھہرا سخن میں ڈھال کر قصے کو با تفصیل کر آیا
khud apni hi hadon kaa daaera thaa saaebaan ham the
خود اپنی ہی حدوں کا دائرہ تھا سائباں ہم تھے نہ جانے رات کتنے تجربوں کے درمیاں ہم تھے صداؤں کے تعاقب میں خود اپنے ہوش کھو بیٹھے درختوں کی گھنیری چھاؤں تھی اور بے زباں ہم تھے کیا جب غور تو سب وسعتیں محدود تر نکلیں فریب خود نگاہی میں تو بحر بیکراں ہم تھے گری اک اینٹ دیوار شکستہ سے مگر ساکت کہ جیسے سیکڑوں صدیوں کے بس اک رازداں ہم تھے چلو کب تک یوں ہی ملتے رہیں بوجھل سی پلکوں کو کہ جس میں رات بھر گھٹتا رہا دم وہ دھواں ہم تھے کبھی ہنسنا کبھی رونا کبھی خوشیاں کبھی آنسو کرایہ دار وہ سب تھے کرائے کا مکاں ہم تھے عجب انداز کی سوزش تھی ناشرؔ جھلسے ماضی کی ملا کرتے تھے شہزادے جہاں وہ داستاں ہم تھے
khudi ko aazmaanaa chaahtaa huun
خودی کو آزمانا چاہتا ہوں تجھے بھی بھول جانا چاہتا ہوں ترے لوگوں میں رشتے مر رہے ہیں زمیں کو یہ بتانا چاہتا ہوں بہت روئے ہیں یہ شبنم سے مل کر گلوں کو میں ہنسانا چاہتا ہوں بنا تیرے مہک کس طرح پھیلی ہوا کو یہ دکھانا چاہتا ہوں جو پس منظر میں رہتے ہیں ہمیشہ انہیں منظر میں لانا چاہتا ہوں نظر اکتا گئی ہے منظروں سے نئی دنیا بسانا چاہتا ہوں فقیرانہ چٹائی کو بچھا کر سر شاہی جھکانا چاہتا ہوں اب اپنے ہجر کی روداد ناشرؔ ستاروں کو سنانا چاہتا ہوں
khaamushi rakkhi to chaahat baDh gai
خامشی رکھی تو چاہت بڑھ گئی میری چپ سے اس کی ہمت بڑھ گئی جب تلک تنہا تھا گھر میں شاد تھا بزم میں آیا تو وحشت بڑھ گئی اپنی بدنامی سے ظالم شاد ہے ہو گیا رسوا تو شہرت بڑھ گئی تھا یہ خود غرضی کا اک رد عمل میرے لہجے کی بغاوت بڑھ گئی میرے خط پر اس کا آنسو گر گیا بات چھوٹی تھی عبارت بڑھ گئی
chehron ke khad-o-khaal kaa manzar nahin dekhaa
چہروں کے خد و خال کا منظر نہیں دیکھا تم نے کبھی آئینوں کے اندر نہیں دیکھا پھولوں کے تبسم پہ نہ اتراؤ نظارو پھولوں کا کبھی تم نے مقدر نہیں دیکھا کس طرح سے قاتل کہوں تہمت رکھوں ان پر جن ہاتھوں میں میں نے کبھی خنجر نہیں دیکھا پانی کے ترنم میں تو مسحور سبھی تھے گرتے ہوئے جھرنے کو سمجھ کر نہیں دیکھا معصوم تبسم نے ترے توڑے ہیں پیکاں تجھ جیسا مجاہد علی اصغرؔ نہیں دیکھا اے دست طلب سر نہ انا کا کہیں جھک جائے میں نے کبھی زرداروں کو مڑ کر نہیں دیکھا





