sunaa hai ham ne ki aariz pe hai ghubaar saa kuchh
balaa se khat kaa hamaare agar javaab nahin
Nasim Maysori
Nasim Maysori
Nasim Maysori
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں تمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیں جلا بھنا ہوں مجھے خواہش کباب نہیں پلا دے دھو کے سبو ہی اگر شراب نہیں سنا ہے ہم نے کہ عارض پہ ہے غبار سا کچھ بلا سے خط کا ہمارے اگر جواب نہیں تری خبر کے لئے دیکھتے ہیں سب اخبار مطالعہ میں کسی کے کوئی کتاب نہیں رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت تمہاری زلف سے خاطر کو پیچ و تاب نہیں پلانا تول کے بادہ مغاں خدا کے لئے یہ دن شرف کے ہیں میزاں میں آفتاب نہیں فرار کیوں نہ ہو ہر روز جاں نثار اک ایک حضور آپ کی وہ دولت شباب نہیں تمہارے زلف کی تصویر کیا کرے سیراب خطا معاف ہو ہم تشنۂ سراب نہیں نسیمؔ پی گئے اب مے کدوں میں ہے کیا خاک دوا کے واسطے لندن میں بھی شراب نہیں
vo bekali nahin dil ko vo iztiraab nahin
2 views
آئی بہار دور ہو ساقی شراب کا دریا بہا دے بزم میں اشک کباب کا اس آفتاب رخ پہ نظر اپنی پڑتے ہی شبنم کی طرح اڑ گیا پردہ حجاب کا کس بے وفا پہ مرتا ہے کیا کیجیے اسے گھر اور ہو کہیں دل خانہ خراب کا کرنے تو دو سوال کریں ہیں تو کیا عاشق ہوں میں بھی اک بت خانہ خراب کا ہر دم وہ مجھ کو دیکھ کے ابرو چڑھاتے ہیں پیاسا ہے خنجر ان کا مرے خون ناب کا قدموں کو چومتا اے صنم آتے جاتے میں کیوں سنگ میں بنا نہیں تیری جناب کا صدمے فراق یار کے کیا کم ہیں اے نسیمؔ محشر میں مجھ کو خوف نہیں کچھ حساب کا
aai bahaar daur ho saaqi sharaab kaa
2 views
آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایا میری تقدیر نے پھر مجھ کو وطن دکھلایا عین مستی میں جو وہ شوخ ہوا سر کہ جبیں یہ اڑے ہوش کہ نشے نے ہرن دکھلایا جھٹ پٹا وقت ہوا موت کا ساماں شب وصل سحر ہجر کا مردوں نے کفن دکھلایا چاند کو دیکھتے ہیں لوٹتے انگاروں پر تم نے کیوں کبک دری کو یہ چلن دکھلایا آئے واللہ دل حیران میں کیا کچھ ارماں اس نے آئینے کو تن تن کے جو تن دکھلایا مرتے جیتے ہی رہے ہم تو اجی دم دم میں نہ کمر اس نے دکھائی نہ دہن دکھلایا یاد میں پھول سے گالوں کے سنبھالا دل کو کبھی نسریں تو کبھی اس کو سمن دکھلایا پھر ترا شور تبسم جو نمک ریز ہوا پھر مرا تازہ مجھے زخم کہن دکھلایا کل جو تھا وعدۂ وصل آج وہ فردا نکلا دن قیامت کا تو اے وعدہ شکن دکھلایا کیوں نہ میں خار بنوں چشم رقیباں میں نسیمؔ پھول سے گال مجھے غنچہ دہن دکھلایا
aaj sayyaad ne bhule se chaman dikhlaayaa
1 views
سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہرا سورۂ نور کا دکھلاتا ہے جلوہ سہرا ریش یعقوب نے رکھی ہے رخ یوسف پر چشم بد دور کہ ہے زلف زلیخا سہرا باغ الفت سے حسینوں نے جو کلیاں بینی اس پری کے لئے پریوں نے بنایا سہرا جدولیں سونے کی یاقوت رقم نے کھینچی یا ہے مصحف پہ سر لوح مطلا سہرا جلوۂ طور کا موسی کو گماں ہو جاتا میرے نوشہ جو ذرا دیکھتے سر کا صحرا شعلۂ حسن جو ان کا نہ چھپا سہرے میں عجز سے آپ کو قدموں پہ گرایا سہرا پوتے پڑپوتوں کے تم باندھیو سر کو سہرے جیسا بابا نے تمہارے تمہیں باندھا سہرا حب کا تعویذ بنے پھول ہر اک سہرے کا وصل یار اس کو ہو جس نے ترا دیکھا سہرا اوفتادہ بھی ہے یہ اور بڑا شوخ بھی ہے گل رخسار کا لے لیتا ہے بوسہ سہرا سہرا جو باندھتے ہیں ہند میں نوشاہوں کو چشم بد کے لئے شاید ہے یہ نکلا سہرا پنجۂ مہر سے زہرا نے بلائیں لے لیں جب نسیمؔ چمن شوق نے لکھا سہرا
sar ko nausha ke mire shaah ne baandhaa sehraa
1 views
میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہوا چشم مخمور سے مخمور ہوا خوب ہوا شعلۂ آہ مرا نور ہوا خوب ہوا ان کا گیسو شب دیجور ہوا خوب ہوا نکہت زلف سے مسرور ہوا خوب ہوا سانپ کے زہر سے مخمور ہوا خوب ہوا سر جو قدموں پہ رکھا ہاتھ سے سرکا نہ دیا عجز پر میرے وہ مغرور ہوا خوب ہوا آئے پریوں کے پرے وصف کمر کھلوانے مثل عنقا کے میں مشہور ہوا خوب ہوا اس جہاں کے نظر آتے ہیں تماشے مجھ کو دوربیں دیدۂ ناسور ہوا خوب ہوا اب انا الحق کے کہے پر نہیں مارے جاتے اس زمانے میں جو منصور ہوا خوب ہوا پھنس گیا ہے کسی گیسو میں دل خانہ خراب دشمن جانی سے میں دور ہوا خوب ہوا میرے درماں ہیں بدل مردم بادام فروش چشم بیمار سے رنجور ہوا خوب ہوا اشک سے چشم کے ہم زخم جگر دھوتے ہیں خون دل بادۂ انگور ہوا خوب ہوا ہم نے دنیا ہی میں جنت کا مزا لوٹ لیا مہرباں ہم پہ جو وہ حور ہوا خوب ہوا بے حجابانہ گلے لگتے ہیں دور اور چلے چشم بد دور وہ مخمور ہوا خوب ہوا زانوئے زہرہ جبیناں پہ دھرا رہتا ہے سر مرا کاسۂ طنبور ہوا خوب ہوا وعدہ شب کا تھا مجھے دن کو وہ دیکھا تو کہا نام زنگی اجی کافور ہوا خوب ہوا کیا ہی خوش گو ہے نسیمؔ اہل سخن کہتے ہیں باغ ہند آپ سے میسور ہوا خوب ہوا
main na minnat-kash-e-angur huaa khuub huaa
1 views
میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتا ہر پری زاد کو دیوانہ بنایا ہوتا تو جو روشن مرا کاشانہ بنایا ہوتا منہ ہر اک شمع سے پروانہ بنایا ہوتا ہار تو اس کے گلے کے نہ بنے اشک مرے دل کو بالے ہی کا دردانہ بنایا ہوتا دیکھی مسجد کی بنا میں نے یہ دل میں سوچا کاش اس جا کوئی مے خانہ بنایا ہوتا دیکھتے شوق سے چھاتی کو لگا بھی لیتے دل کو جو آئینہ خانہ نہ بنایا ہوتا حسرت بوسۂ لب کس لئے جاناں رہتی خاک سے میرے جو پیمانہ بنایا ہوتا سر کو بازو پہ مرے آپ جو رکھ کر سوتے زلف کا پلکوں ہی سے شانہ بنایا ہوتا چمن کوچۂ جاناں میں جو ہوتا میں نسیمؔ غیر کو سبزۂ بیگانہ بنایا ہوتا
mere ahvaal kaa afsaana banaayaa hotaa
1 views





