SHAWORDS
Nawaz Deobandi

Nawaz Deobandi

Nawaz Deobandi

Nawaz Deobandi

poet
2Sher
2Shayari
20Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

zakhm kaa marham dard kaa apne darmaan bech ke aae hain

زخم کا مرہم درد کا اپنے درماں بیچ کے آئے ہیں ہم لمحوں کا سودا کر کے صدیاں بیچ کے آئے ہیں بکنے پر جب آ ہی گئے تھے اونچے مول تو بکتے ہم ہم کو ہمارے رہبر لیکن ارزاں بیچ کے آئے ہیں مینہ کیوں برسے خشک زمیں پر کیسے ہو مقبول دعا جب خود بارش مانگنے والے ندیاں بیچ کے آئے ہیں بھوک کی یہ شدت بھی آخر کیا سے کیا کر دیتی ہے مجبوراً کل بچوں کی ہم گڑیاں بیچ کے آئے ہیں

غزل · Ghazal

sahraa sahraa chikhtaa phirtaa huun main

صحرا صحرا چیختا پھرتا ہوں میں ہو کے دریا کس قدر پیاسا ہوں میں جان کر گونگا ہوں اور بہرا ہوں میں اس لئے اس شہر میں زندہ ہوں میں اس کو منزل جانتے ہیں راہبر اتفاقا جس جگہ ٹھہرا ہوں میں قید ہوں میں وسعتوں کے باوجود وہ مرا ساحل ہے اور دریا ہوں میں اس نے رسماً جب بھی پوچھا میرا حال میں نے طنزاً کہہ دیا اچھا ہوں میں وہ شجر تنہا شجر چوپال کا اس شجر کا آخری پتا ہوں میں

غزل · Ghazal

be-kaar jab duaa hai davaa kyaa karegi aaj

بے کار جب دعا ہے دوا کیا کرے گی آج ایسے میں زندگی بھی وفا کیا کرے گی آج یہ دور سخت و تلخ کلامی کا دور ہے لہجوں کی نرم طرز ادا کیا کرے گی آج کل تک بہت غرور میں پھرتی تھی زندگی اب موت سامنے ہے بتا کیا کرے گی آج ضبط غم فراق کی دل میں کہاں سکت ظالم کے روٹھنے کی ادا کیا کرے گی آج

غزل · Ghazal

koi mujh mein hai main kisi mein huun

کوئی مجھ میں ہے میں کسی میں ہوں میں اندھیرا ہوں روشنی میں ہوں تیرے غم میں ہوں میں خوشی میں ہوں دھوپ میں اور چاندنی میں ہوں موت جس سے نجات دیتی ہے قید ایسی ہی زندگی میں ہوں کیوں مرے دوست مجھ سے بچتے ہیں ایسا لگتا ہے مفلسی میں ہوں میرے عیب و ہنر چھپیں کیسے میں نوازؔ اپنی شاعری میں ہوں

غزل · Ghazal

nindon kaa bojh palkon pe Dhonaa paDaa mujhe

نیندوں کا بوجھ پلکوں پہ ڈھونا پڑا مجھے آنکھوں کے التماس پہ سونا پڑا مجھے تا عمر اپنے کاندھوں پہ بے گور بے کفن اپنی انا کی لاش کو ڈھونا پڑا مجھے کم ظرف ناخداؤں کے احساں سے بچ گیا حالاں کہ کشتیوں کو ڈبونا پڑا مجھے وہ میری بے بسی پہ کچھ اتنا ہنسا نوازؔ ہنسنے کے احترام میں رونا پڑا مجھے

غزل · Ghazal

dharti par jab khuun bahtaa hai baadal rone lagtaa hai

دھرتی پر جب خوں بہتا ہے بادل رونے لگتا ہے دیکھ کے شہروں کی ویرانی جنگل رونے لگتا ہے لاکھ کرے وہ ضبط کا دعویٰ وقت رخصت سب بیکار آنکھیں چاہیں روئیں نہ روئیں کاجل رونے لگتا ہے بیٹی کی ضد کے آگے ماں چپ ہو جاتی ہے لیکن ننگے سر کی محرومی پر آنچل رونے لگتا ہے خوشبو خوشبو لپٹے رہنا سانپوں کی مجبوری ہے ورنہ اپنی بے قدری پر صندل رونے لگتا ہے تجھ سے بچھڑ کر غیر کے آگے روئے ہوں تو ہم مجرم دل کا کیا ہے دل پاگل ہے پاگل رونے لگتا ہے

Similar Poets