"bhuke bachchon ki tasalli ke liye maan ne phir paani pakaya der tak"

Nawaz Deobandi
Nawaz Deobandi
Nawaz Deobandi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"tere aane ki jab khabar mahke teri khushbu se saara ghar mahke"
bhuke bachchon ki tasalli ke liye
maan ne phir paani pakaayaa der tak
tere aane ki jab khabar mahke
teri khushbu se saaraa ghar mahke
Ghazalغزل
zakhm kaa marham dard kaa apne darmaan bech ke aae hain
زخم کا مرہم درد کا اپنے درماں بیچ کے آئے ہیں ہم لمحوں کا سودا کر کے صدیاں بیچ کے آئے ہیں بکنے پر جب آ ہی گئے تھے اونچے مول تو بکتے ہم ہم کو ہمارے رہبر لیکن ارزاں بیچ کے آئے ہیں مینہ کیوں برسے خشک زمیں پر کیسے ہو مقبول دعا جب خود بارش مانگنے والے ندیاں بیچ کے آئے ہیں بھوک کی یہ شدت بھی آخر کیا سے کیا کر دیتی ہے مجبوراً کل بچوں کی ہم گڑیاں بیچ کے آئے ہیں
sahraa sahraa chikhtaa phirtaa huun main
صحرا صحرا چیختا پھرتا ہوں میں ہو کے دریا کس قدر پیاسا ہوں میں جان کر گونگا ہوں اور بہرا ہوں میں اس لئے اس شہر میں زندہ ہوں میں اس کو منزل جانتے ہیں راہبر اتفاقا جس جگہ ٹھہرا ہوں میں قید ہوں میں وسعتوں کے باوجود وہ مرا ساحل ہے اور دریا ہوں میں اس نے رسماً جب بھی پوچھا میرا حال میں نے طنزاً کہہ دیا اچھا ہوں میں وہ شجر تنہا شجر چوپال کا اس شجر کا آخری پتا ہوں میں
be-kaar jab duaa hai davaa kyaa karegi aaj
بے کار جب دعا ہے دوا کیا کرے گی آج ایسے میں زندگی بھی وفا کیا کرے گی آج یہ دور سخت و تلخ کلامی کا دور ہے لہجوں کی نرم طرز ادا کیا کرے گی آج کل تک بہت غرور میں پھرتی تھی زندگی اب موت سامنے ہے بتا کیا کرے گی آج ضبط غم فراق کی دل میں کہاں سکت ظالم کے روٹھنے کی ادا کیا کرے گی آج
koi mujh mein hai main kisi mein huun
کوئی مجھ میں ہے میں کسی میں ہوں میں اندھیرا ہوں روشنی میں ہوں تیرے غم میں ہوں میں خوشی میں ہوں دھوپ میں اور چاندنی میں ہوں موت جس سے نجات دیتی ہے قید ایسی ہی زندگی میں ہوں کیوں مرے دوست مجھ سے بچتے ہیں ایسا لگتا ہے مفلسی میں ہوں میرے عیب و ہنر چھپیں کیسے میں نوازؔ اپنی شاعری میں ہوں
nindon kaa bojh palkon pe Dhonaa paDaa mujhe
نیندوں کا بوجھ پلکوں پہ ڈھونا پڑا مجھے آنکھوں کے التماس پہ سونا پڑا مجھے تا عمر اپنے کاندھوں پہ بے گور بے کفن اپنی انا کی لاش کو ڈھونا پڑا مجھے کم ظرف ناخداؤں کے احساں سے بچ گیا حالاں کہ کشتیوں کو ڈبونا پڑا مجھے وہ میری بے بسی پہ کچھ اتنا ہنسا نوازؔ ہنسنے کے احترام میں رونا پڑا مجھے
dharti par jab khuun bahtaa hai baadal rone lagtaa hai
دھرتی پر جب خوں بہتا ہے بادل رونے لگتا ہے دیکھ کے شہروں کی ویرانی جنگل رونے لگتا ہے لاکھ کرے وہ ضبط کا دعویٰ وقت رخصت سب بیکار آنکھیں چاہیں روئیں نہ روئیں کاجل رونے لگتا ہے بیٹی کی ضد کے آگے ماں چپ ہو جاتی ہے لیکن ننگے سر کی محرومی پر آنچل رونے لگتا ہے خوشبو خوشبو لپٹے رہنا سانپوں کی مجبوری ہے ورنہ اپنی بے قدری پر صندل رونے لگتا ہے تجھ سے بچھڑ کر غیر کے آگے روئے ہوں تو ہم مجرم دل کا کیا ہے دل پاگل ہے پاگل رونے لگتا ہے





