jhaaD aayaa huun apne daaman ko
daagh baazaar mein paDe hue hain

Nawed Malik
nawed malik
nawed malik
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
جیسے مہماں کوئی آئے کسی مہمان کے بعد شعر میں نے بھی کہے ہیں نئے رجحان کے بعد فیصلہ سوچ کے کرنا کہیں رونا نہ پڑے رکھ کے آیا ہوں میں آنکھیں ترے ایمان کے بعد اس عنایت پہ میں اظہار کون سا رنگ کشتیاں لے کے چلے آئے ہو طوفان کے بعد میری آنکھوں کے مدینے میں وہی ہے اب تک تھا جو قرآن سے پہلے ہے جو قرآن کے بعد روشنی بانٹی یہاں میں نے چراغوں کے بغیر زندگی تو نے بھی دیکھا مجھے تاوان کے بعد
jaise mehmaan koi aae kisi mehmaan ke baad
جوں ہی نگاہ میں ترا چہرہ اتر گیا دامن اداس رات کا تاروں سے بھر گیا اس بھیڑ میں سوال مری زندگی کا تھا دستار تھامے ہاتھ میں تو بھی گزر گیا کب خواب کار عشق میں طے کر سکا کوئی جتنی مری بساط تھی اتنا میں کر گیا اس نے جلا بجھا کے ستایا ہزار بار جب بھی چراغ اسے مری دینے خبر گیا ترک تعلقات کی بابت نویدؔ آج پوچھا جب آئنے سے تو وہ بھی مکر گیا
junhi nigaah mein tiraa chehra utar gayaa
عالم ہو قہر کا تو لبوں پر دعا نہ ہو اس خامشی پہ میں بھی یہ دیکھوں کہ کیا نہ ہو اب تو ہمارے عہد میں فرعونیت کے بیچ موسیٰ وہی ہے ہاتھ میں جس کے عصا نہ ہو بنتے ہیں ضابطے یہاں ہونٹوں پہ قفل کے پتھر یہ چاہتے ہیں کوئی بے صدا نہ ہو ایسا نہ ہو کہ خواب بھی جھڑ جائیں نیند سے موسم یہاں ہو سرد پہ اتنا خفا نہ ہو گھبرا کے سب اجالوں سے کہنے لگے نویدؔ ہم تیرگی میں جائیں تو اک بھی دیا نہ ہو
aalam ho qahr kaa to labon par duaa na ho
قدموں میں جب سے میرے ہیں تارے دھرے ہوئے سارے عدو ہیں گھر میں بچارے دھرے ہوئے اچھا تو ٹھیک ہے مجھے چلنا اسی پہ ہے رستہ کہ جس پہ ہوں گے خسارے دھرے ہوئے طاری ہے موج موج پہ کچھ اس لیے بھی خوف آیا ہوں روند کر میں کنارے دھرے ہوئے اک جنگ تھی ہماری جسے جیتنے کے بعد پلکوں پہ کیوں تھے اس کے اشارے دھرے ہوئے ان سے ہوا پہ نقش ہوئی نغمگی نویدؔ جتنے بھی تھے چراغ ہمارے دھرے ہوئے
qadmon mein jab se mere hain taare dhare hue
دیکھو کبھی تم اس کا بھی آنا مرے آگے جس کا نہ چلے کوئی بہانہ مرے آگے رستہ میں اسے دوں کہ نہیں دوں یہ بتاؤ سورج مرے پیچھے ہے زمانہ مرے آگے وہ شخص جسے قیس بتاتے ہیں سبھی لوگ اب وقت نہیں پھر کبھی لانا مرے آگے اچھا یہ ستم مجھ کو چراغوں کا لگا ہے ہر شام ترا عکس سجانا مرے آگے لاتا ہے مجھے کھینچ کے صحرا بھی شب و روز وحشت بھی پروتی ہے فسانہ مرے آگے
dekho kabhi tum us kaa bhi aanaa mire aage
جیت اور ہار میں پڑے ہوئے ہیں لوگ معیار میں پڑے ہوئے ہیں اب گزرتا ہے وقت تیزی سے ہم بھی رفتار میں پڑے ہوئے ہیں ہم مقید ہیں تیرے ہونٹوں میں اور انکار میں پڑے ہوئے ہیں ان چراغوں کو کام میں لاؤ جو بھی بیکار میں پڑے ہوئے ہیں جھاڑ آیا ہوں اپنے دامن کو داغ بازار میں پڑے ہوئے ہیں
jiit aur haar mein paDe hue hain





