ik aur tiir chalaa apnaa ahd puuraa kar
abhi parinde mein thoDi si jaan baaqi hai

Naz Qadri
Naz Qadri
Naz Qadri
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
نہ وہ شعور کی لو ہے نہ وہ نظر کا چراغ بجھا پڑا ہے بڑی دیر سے ہنر کا چراغ اندھیری رات کا دل چیرتا ہو جیسے کوئی چلا ہے لے کے ہتھیلی پہ کوئی سر کا چراغ اسی کا نور وراثت ہے ابن آدم کی وہ زندگی جسے کہتے ہیں ہم سحر کا چراغ میں اپنے حرف ملامت کا خود شکار ہوا کہ گھر میں آگ لگی جس سے تھا وہ گھر کا چراغ اک آنے والے کا ہے کب سے انتظار اسے کہو ہوا سے بجھائے نہ اس کے در کا چراغ جو قلب و جاں میں نہ سوز خلوص ہو اے نازؔ دعا کے طاق میں کیسے جلے اثر کا چراغ
na vo shuur ki lau hai na vo nazar kaa charaagh
کبھی ہوا کبھی بجلی کے ہم رکاب ہوا پھر اس کے بعد میں جینے میں کامیاب ہوا نظر نواز نظارے تھے میرے چاروں طرف کھلی جو آنکھ تو برہم وہ سارا خواب ہوا کبھی جو باعث راحت تھا اہل دل کے لئے یہ کیا ہوا کہ وہ منظر بھی اب عذاب ہوا وہ العطش کی صدائیں وہ کرب تشنہ لبی فرات جس کے تصور سے آب آب ہوا ہماری چیخ فضاؤں میں کھو گئی یعنی کھلا دریچہ کوئی وا نہ کوئی باب ہوا ہمارے قتل کی سازش میں تھا شریک تو کیا خطا معاف کرم اس کا بے حساب ہوا انا پسند طبیعت کی سرفرازی دیکھ کہ نازؔ خاک میں مل کر بھی آفتاب ہوا
kabhi havaa kabhi bijli ke ham-rikaab huaa
سچ ہے جب بھی کوئی حرف اس کی زباں سے نکلا زہر میں ڈوبا ہوا تیر کماں سے نکلا دور تک پھیل گیا حسن معانی کا طلسم خوب مفہوم مرے لفظ و بیاں سے نکلا میں ترے ترک تعلق سے بس اتنا سمجھا ایک پتھر تھا جو شیشے کے مکاں سے نکلا اک حقیقت پس افسانہ تھی روشن روشن وہ جو کعبے کو گیا شہر بتاں سے نکلا اس طرف دار کی منزل تھی ادھر کوچۂ یار مجھ کو جانا تھا کہاں اور کہاں سے نکلا منزل ذات ملی روح ہوئی آسودہ سلسلہ تار نفس کا رگ جاں سے نکلا بس کہ تھا پیش نظر حسن ازل کا جلوہ نازؔ ہر کشمکش سود و زیاں سے نکلا
sach hai jab bhi koi harf us ki zabaan se niklaa
صحن احساس میں اک نقش نہاں تھا پہلے تو نہیں تھا ترے ہونے کا گماں تھا پہلے تہ بہ تہ چار سو خوش رنگ صدا روشن تھی مجھ سے پہلے بھی کوئی جیسے یہاں تھا پہلے وہ بھی صحرا کی صداؤں میں گرفتار رہا اور مجھ میں بھی کوئی ریگ رواں تھا پہلے وقت نے کر دیا پتھر کی لحد میں تبدیل اپنا چھوٹا سا جو مٹی کا مکاں تھا پہلے اب تو آئینۂ احساس ہے بے عکس جمال مجھ سے چھپ کر بھی کوئی مجھ پہ عیاں تھا پہلے وہ نہیں تھا تو نہ تھا اس کی ضرورت کیا تھی اپنے ہونے کا بھی احساس کہاں تھا پہلے روز و شب سہتے رہے ٹوٹتے لمحوں کا عتاب کوئی خنجر سا قریب رگ جاں تھا پہلے آپ کی ہم سفری نے سفر آسان کیا ورنہ ہر گام یہاں کوہ گراں تھا پہلے خوش بیانی نے کسی کی مجھے خوش رنگ کیا اپنا کچھ اور ہی انداز بیاں تھا پہلے ان سے ملتے ہی ہر اک غم سے ملی نازؔ نجات زندگی کا یہ حسیں چہرہ کہاں تھا پہلے
sahn-e-ehsaas mein ik naqsh nihaan thaa pahle
ہر ایک سمت اداسی کی تتلیاں جاگیں طلوع شام سے پہلے سیاہیاں جاگیں سفر میں دھوپ کی لذت پس غبار ہوئی گھنے درختوں کے سائے میں گرمیاں جاگیں دیار دل میں صداؤں کا آئینہ ٹوٹا نواح جاں میں تعلق کی کرچیاں جاگیں کہاں کہاں نہیں دی ہم نے رات بھر دستک نہ کوئی باب ہی چونکا نہ کھڑکیاں جاگیں دلوں کے بیچ تو حائل تھا برف کا موسم نہ جسم سلگے نہ خواہش کی گرمیاں جاگیں لہو میں لمس کے شعلے بلند ہونے لگے بدن میں قرب کی پر شور آندھیاں جاگیں کسی سے کم نہ ہوا نازؔ فاصلہ غم کا کہ لوگ جتنا چلے اتنی دوریاں جاگیں
har ek samt udaasi ki titliyaan jaagin
پھر سیہ پوش ہوئی شام نظر میں رکھنا تم یہ بے دردیٔ ایام نظر میں رکھنا میں نے باطل سے کبھی صلح نہیں کی لوگو میری حق گوئی کا انعام نظر میں رکھنا خوب ہے درد و غم دل کا مداوا لیکن خود کو بھی اے دل ناکام نظر میں رکھنا ٹھوکریں کھا کے سنبھلتے ہیں سنبھلنے والے یہ جو پتھر ہیں بہ ہر گام نظر میں رکھنا امتحاں گاہ محبت سے گزرنے والو روز عاشورہ کا ہنگام نظر میں رکھنا کعبۂ فن کی کشش کھینچ رہی ہے دل کو فکر کب باندھے گی احرام نظر میں رکھنا انتساب غم ہستی کے لیے اب اے نازؔ خوبصورت سا کوئی نام نظر میں رکھنا
phir siyah-posh hui shaam nazar mein rakhnaa





