na hogaa raaegaan khun-e-shahidaan-e-vatan hargiz
yahi surkhi banegi ek din unvaan-e-aazaadi

Nazish Partap Gadhi
Nazish Partap Gadhi
Nazish Partap Gadhi
Popular Shayari
6 totalkhudaa ai kaash 'naazish' jite-ji vo vaqt bhi laae
ki jab hindostaan kahlaaegaa hindostaan-e-aazaadi
javaano nazr de do apne khun-e-dil kaa har qatra
likhaa jaaegaa hindostaan ko farmaan-e-aazaadi
tah bah tah jamti chali jaati hai sannaaTon ki gard
haal-e-dil sab dekhte hain puchhtaa koi nahin
guzar gae hain vo lamhe bhi ishq mein ai dost
tire baghair bhi jab khush rahe hain divaane
suno na meri shikasta-e-dili ke afsaane
ki mere saamne toDe gae hain paimaane
Ghazalغزل
وہ سمجھتا ہے اسے جو راز دار نغمہ ہے آہ کہتے ہیں جسے صرف اک شرار نغمہ ہے منحصر جس پر ازل سے کاروبار نغمہ ہے درد کی آنکھوں میں وہ خواب بہار نغمہ ہے زندہ رہنے کی تمنا ہو تو پھر کیا کچھ نہ ہو دل کے سناٹے پہ مجھ کو اعتبار نغمہ ہے کس سے کیجے اور کیوں کیجے بیان سوز دل یہ بھری دنیا تو یارو پاسدار نغمہ ہے اور بھی دو گام اے محروم عیش زندگی حد گریہ سے ذرا آگے دیار نغمہ ہے نغمہ زن ہوں یوں کہ یاروں کا بھرم قائم رہے ورنہ محفل کی فضا ناساز گار نغمہ ہے اب ہے لہجے میں نکیلا پن لبوں پر زہر خند اب یقیں آیا کہ نازشؔ راز دار نغمہ ہے
vo samajhtaa hai use jo raaz-daar-e-naghma hai
آپ کے التفات کا غم ہو اتنی چھوٹی سی بات کا غم ہو آج ان آنکھوں کی بات یاد آئی آج کس کو حیات کا غم ہو عشق سے یہ مذاق ٹھیک نہیں ہم کو اور سانحات کا غم ہو میں فراموش کر دوں اور تم کو تم تو میری حیات کا غم ہو جن پہ میں بھی یقین کر نہ سکا کس کو ان حادثات کا غم ہو دل تو ہے صرف اپنی ذات کا غم تم مگر کائنات کا غم ہو
aap ke iltifaat kaa gham ho
سرپھرے کرنے لگے ہیں جذب سوز دل کی بات اب خدا رکھے تو رکھے آپ کی محفل کی بات قافلے والو اب آؤ اور آگے بڑھ چلیں کھا چکے رہبر کا دھوکا جان لی منزل کی بات کتنی نفرت ہو رہی ہے صورت ساحل سے اب کتنی حسرت سے کیا کرتے تھے ہم ساحل کی بات ہو کے برہم اٹھنے والے ہیں وہ سارے تشنہ لب آئی ہے حصے میں جن کے ساقئ محفل کی بات خود ہی اب روشن کریں گے اپنے غم خانے کو ہم دیکھ لی تارو تمہاری سعئ لا حاصل کی بات سارے عمال حکومت مجھ سے بد ظن ہو گئے کر رہا تھا ایک دن میں بسمل و قاتل کی بات سوچ اے نازشؔ نہ ہو یہ بھی فراری ذہنیت کر رہا ہے عہد حاضر میں جو مستقبل کی بات
sar-phire karne lage hain jazb soz-e-dil ki baat
آہ کو نغمہ کہ نغمے کو فغاں کرنا پڑے دیکھیے کیا کچھ برائے دوستاں کرنا پڑے اہل محمل غور سے سنتے رہیں روداد دل کیا خبر کس لفظ کو کب داستاں کرنا پڑے رکھ جبین شوق میں محفوظ گرمی نیاز کون جانے تجھ کو اک سجدہ کہاں کرنا پڑے پوچھیے اس سے زبان و لفظ کی مجبوریاں جس کو حال دل نگاہوں سے بیاں کرنا پڑے کچھ وہی سمجھے گا نازشؔ آج کے ماحول کو جس کو زنداں پر یقین گلستاں کرنا پڑے
aah ko naghma ki naghme ko fughaan karnaa paDe
ذکر نشاط خلوت غم میں برا لگے تم بھی اگر ملو تو مجھے حادثہ لگے جب بھی کسی کی سعئ کرم کی ہوا لگے مجھ کو مرا وجود بکھرتا ہوا لگے ہوں مجرم حیات مجھے کیوں برا لگے یہ دور زندگی جو مسلسل سزا لگے اس دور کا نصیب ہے وہ منزل حیات احباب کا خلوص جہاں سانحہ لگے حالات سانس لیتے ہیں دہشت کی چھاؤں میں میرا ضمیر مجھ ہی سے ڈرتا ہوا لگے یوں اٹھ گئی ہے دہر سے اپنائیت کہ اب ملیے جو خود سے بھی تو کوئی دوسرا لگے اس طرح رائیگاں گئی نازشؔ مری وفا جیسے کسی فقیر کے در پر صدا لگے
zikr-e-nashaat khalvat-e-gham mein buraa lage
دل خلوص گزیدہ کو کوئی کیا جانے میں چاہتا ہوں کہ دنیا مجھے نہ پہچانے سنو نہ میری شکستہ دلی کے افسانے کہ میرے سامنے توڑے گئے ہیں پیمانے جو کہہ رہا تھا تو کچھ بھی سنا نہ دنیا نے جو چپ ہوا ہوں تو بننے لگے ہیں افسانے وہ غم سمیٹ لیے میں نے زندگی کے لیے تری نگاہ کرم بھی جنہیں نہ پہچانے گزر گئے ہیں وہ لمحے بھی عشق میں اے دوست ترے بغیر بھی جب خوش رہے ہیں دیوانے یہ چاندنی یہ ستارے کہاں گئے آخر نظر تو خیر گئی ہے کسی کو پہنچانے مری ہنسی میں مگر زہر گھل گیا نازشؔ میں چاہتا تھا مرا غم کوئی نہ پہچانے
dil-e-khulus-gazida ko koi kyaa jaane





