kyuun ishaara hai ufuq par aaj kis ki diid hai
alvidaaa maah-e-ramazaan vo hilaal-e-id hai
Nisar Kubra Azimabadi
Nisar Kubra Azimabadi
Nisar Kubra Azimabadi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
اسی کی نور افشانی زمیں سے آسماں تک ہے نگہبانی جہاں کی اس حقیقی پاسباں تک ہے ترستی ہیں نگاہیں سبز گنبد کے نظارے کو رسائی بد نصیبوں کی کہاں اس آستاں تک ہے قلم کی تیز رفتاری زباں کی گرم گفتاری نصیحت میں اثر ہونا کلام خوش بیاں تک ہے چمن میں جب خزاں آئی نہ گل ہے اور نہ بلبل ہے نوائے بلبل شیدا بہار بوستاں تک ہے اگر وہ دوست صادق ہے تو شکوہ سن نہیں سکتا حمایت شکوہ بے جا کی کسی نا مہرباں تک ہے مزہ کیا ایسے جینے میں نہ جب تاب و تواں باقی درازی عمر کی گویا فضول داستاں تک ہے مصیبت اور راحت ہیں رفیق زندگی کبریٰؔ رہائی ان رفیقوں سے نہیں عمر رواں تک ہے
usi ki nur-afshaani zamin se aasmaan tak hai
نہ باز آئے تم اپنی ہاں کہتے کہتے مگر تھک گئی یہ زباں کہتے کہتے زبردستی ضد نے کیا دل کو زخمی جگر شق ہوا ہاں میں ہاں کہتے کہتے بچے خوب باطل کی آرائیوں سے ہر اک بات پر الاماں کہتے کہتے کسی کی نہ دیکھی کبھی مہربانی زباں تھک گئی مہرباں کہتے کہتے ابھرتی گئیں طعن و تشنہ سے قومیں نشاں بن گیا بے نشاں کہتے کہتے ہمیں تم نے آخر کہیں کا نہ رکھا زمانہ کی نیرنگیاں کہتے کہتے نہ تفریق کچھ دوست دشمن میں رکھی ہوئے بد گماں بد گماں کہتے کہتے کیا شوق نے روز روشن میں ظاہر کھلا راز باطن نہاں کہتے کہتے لگے ہاتھ ملنے زمانہ کے غافل ہوئی ختم جب داستاں کہتے کہتے اسی طرح آیا ہے راہ عمل پر جہاں کا ہر اک کارواں کہتے کہتے مگر تم نہ سمجھے نصیحت کسی کی زمیں بن گئی آسماں کہتے کہتے نہ مایوس ہو قوم سے اپنی کبریٰؔ کہ ٹل جائے گی یہ خزاں کہتے کہتے
na baaz aae tum apni haan kahte kahte
نہ باز آئے تم اپنی ہاں کہتے کہتے مگر تھک گئی یہ زباں کہتے کہتے زبردست ضد نے کیا دل کو زخمی جگر شق ہوا ہاں میں ہاں کہتے کہتے بچے خوب باطل کی آرائیوں سے ہر اک بات پر الاماں کہتے کہتے کسی کی نہ دیکھی کبھی مہربانی زباں تھک گئی مہرباں کہتے کہتے ابھرتی گئیں طعن و تشنہ سے قومیں نشاں بن گیا بے نشاں کہتے کہتے ہمیں تم نے آخر کہیں کا نہ رکھا زمانے کی نیرنگیاں کہتے کہتے نہ تفریق کچھ دوست دشمن میں رکھی ہوئے بد گماں بد گماں کہتے کہتے کیا شوق نے روز روشن میں ظاہر کھلا راز باطن نہاں کہتے کہتے لگے ہاتھ ملنے زمانے کے غافل ہوئی ختم جب داستاں کہتے کہتے اسی طرح آیا ہے راہ عمل پر جہاں کا ہر اک کارواں کہتے کہتے مگر تم نہ سمجھے نصیحت کسی کی زمیں بن گئی آسماں کہتے کہتے نہ مایوس ہو قوم سے اپنی کبریٰؔ کہ ٹل جائے گی یہ خزاں کہتے کہتے
na baaz aae tum apni haan kahte-kahte





