didaar-e-zul-jalaal pe aamaada ho gayaa
kyaa hausla nigaah-e-dil-e-naa-tavaan kaa thaa

Noor Ahmad Shaikh
Noor Ahmad Shaikh
Noor Ahmad Shaikh
Popular Shayari
2 totalturbat mein bhi na sone diyaa chain se mujhe
saaya miri zamin pe kis aasmaan kaa thaa
Ghazalغزل
یہ مانا چشم نم سے قافلے اشکوں کے تر نکلے مزہ تب ہے کہ اشکوں کی جگہ خون جگر نکلے بنایا تھا جنہیں ہم راز ہم نے دل کی دھڑکن کا وہ فرزانے خود اپنی آگہی سے بے خبر نکلے فقیہ شہر کو سمجھا تھا ہم نے بھولے بھالے ہیں مگر قد سے کہیں دو چار گز وہ بیشتر نکلے رقیبوں کے نشانے سے فصیل عشق کیا گرتی حسینوں کے مگر کچھ وار آخر کارگر نکلے ڈبویا ناخداؤں نے سفینہ مل کے امت کا قدم دو چار آگے رہزنوں سے راہبر نکلے اشارہ تیری نظروں کا بھی تھا لیکن سر محشر سبھی الزام اے رشک قمر میرے ہی سر نکلے چلو ہم ہی نکل جائیں گے مثل خار گلشن سے کسی صورت تری حسرت بھی اے بیداد گر نکلے ہمارے عشق کو اب آزما لے جس کا جی چاہے کفن بردوش مقتل میں ترے شوریدہ سر نکلے اسی کے حسن بے پروا کو دیتا ہوں دعائیں شیخؔ کہ جس کے فیض سے میری غزل کے بال و پر نکلے
ye maanaa chashm-e-nam se qaafile ashkon ke tar nikle
چند لمحوں کی فراغت ہے میسر جاناں پھر کہاں حسن و محبت کا یہ منظر جاناں آنکھ بھر کر تجھے اے جان جہاں دیکھ تو لوں جانے لے جائے کہاں کل کو مقدر جاناں یہ دہکتے ہوئے رخسار پہ رنگیں آنچل کاش قائم رہے کچھ دیر ی منظر جاناں یہ چمن زار یہ کہسار یہ بھیگا موسم اس پہ تیرا یہ نکھرتا ہوا پیکر جاناں گرم قہوے کی مہک اور یہ بوندا باندی یہ سرائے یہ حسیں شام کا منظر جاناں کتنے طوفان مچلتے ہیں مرے سینے میں دل ہے جذبات کا بہتا ہوا ساگر جاناں کیف و مستی کے وہ لمحات حسیں خواب ہوئے اب کہاں حسن و محبت کا وہ منظر جاناں
chand lamhon ki faraaghat hai mayassar jaanaan
کشتیٔ غم کا ناخدا نہ رہا کوئی ہمدرد ہم نوا نہ رہا جام و ساغر وہ میکدہ نہ رہا بعد تیرے وہ سلسلہ نہ رہا ہو کے میرا جو تو مرا نہ رہا پھر کسی سے مجھے گلہ نہ رہا یوں گیا روٹھ کر کوئی مجھ سے پھر منانے کا حوصلہ نہ رہا کیا خزاں سے رکھیں عداوت ہم جب بہاروں سے واسطہ نہ رہا تجھ سے ٹکرا کے اے غم جاناں یاد کوئی بھی حادثہ نہ رہا لڑکھڑاتا ہے دم جو سینے میں یہ بھی کل تک رہا رہا نہ رہا
kashti-e-gham kaa naakhudaa na rahaa
کوئی نظروں میں سمائے تو غزل ہوتی ہے چاہ دیوانہ بنائے تو غزل ہوتی ہے درد جب حشر جگائے تو غزل ہوتی ہے آہ جب راہ نہ پائے تو غزل ہوتی ہے جام پر جام چھلکتے ہوں تری نظروں کے اور گھٹا جھوم کے آئے تو غزل ہوتی ہے دل کو دیوانۂ دیدار بنا کر کوئی پردہ چہرے سے اٹھائے تو غزل ہوتی ہے ہو کے مائل بہ کرم غیر پہ دلبر کوئی دل پہ آرا سا چلائے تو غزل ہوتی ہے شیخؔ آساں نہیں تسخیر سخن کی منزل زندگی راس نہ آئے تو غزل ہوتی ہے
koi nazron mein samaae to ghazal hoti hai
جب تک مجھے خیال ترے آستاں کا تھا رشتہ کوئی چمن سے نہ غم آشیاں کا تھا کچھ خوف باغباں کا نہ برق تپاں کا تھا جب تک مری نظر میں سماں گلستاں کا تھا دیدار ذوالجلال پہ آمادہ ہو گیا کیا حوصلہ نگاہ دل ناتواں کا تھا لے کر کہاں کہاں پھرا سیل جنوں مجھے پہنچی وہیں پہ خاک ٹھکانا جہاں کا تھا اٹھ کر چلے تو آئے تری بزم سے مگر نقشہ نظر کے سامنے ہفت آسماں کا تھا تربت میں بھی نہ سونے دیا چین سے مجھے سایہ مری زمین پہ کس آسماں کا تھا اک چہرۂ کرخت نے چونکا دیا مجھے دیکھا جو غور سے تو کسی مہرباں کا تھا کچھ سوچ کر جو شیخؔ جی خاموش ہو گئے سمجھے سبھی قصور اسی بے زباں کا تھا
jab tak mujhe khayaal tire aastaan kaa thaa





