"ek parinda chikh raha hai masjid ke minare par duur kahin ganga ke kinare aas ka suraj Dhalta hai"

Noor Bijnauri
Noor Bijnauri
Noor Bijnauri
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalek parinda chikh rahaa hai masjid ke minaare par
duur kahin gangaa ke kinaare aas kaa suraj Dhaltaa hai
Ghazalغزل
dil ke daaghon mein sitaaron ki chamak baaqi hai
دل کے داغوں میں ستاروں کی چمک باقی ہے شب فرقت ابھی دو چار پلک باقی ہے سرخ ہونٹوں کے دیے ذہن میں روشن ہیں ابھی ابھی افکار میں زلفوں کی مہک باقی ہے بازوؤں میں ترے پیکر کی لطافت رقصاں انگلیوں میں تری باہوں کی لچک باقی ہے قصر پرویز میں گم ہو گئی شیریں کی صدا دامن کوہ میں تیشے کی دھمک باقی ہے صرصر جور نے ہر چند خزاں بکھرائی پھول میں آگ شگوفوں میں لہک باقی ہے گل کھلائے گی ابھی اور نہ جانے کیا کیا یہ جو پہلو میں مہکتی سی کسک باقی ہے
yahaan kisi ne charaagh-e-vafaa jalaayaa thaa
یہاں کسی نے چراغ وفا جلایا تھا تبھی یہ غم کدۂ دل بھی جگمگایا تھا جنوں کی شوخ اداؤں نے فاش کر ہی دیا وہ ایک راز خرد نے جسے چھپایا تھا شب بہار کی شہزادیو! خبر ہے تمہیں ابھی ابھی کوئی ناشاد مسکرایا تھا سلگ رہی ہیں امنگیں تو سوچتا ہوں میں بہت ہی خشک تری زلفوں کا نرم سایہ تھا یہ ماہتاب سے کس نے مجھے صدا دی تھی یہ کون دور سے مرے قریب آیا تھا
chashm-e-nam le ke chalo qalb-e-tapaan le ke chalo
چشم نم لے کے چلو قلب تپاں لے کے چلو ایک پتھر کے لئے شعلۂ جاں لے کے چلو شاید اس کو بھی شب ہجر نظر آ جائے اپنی پلکوں پہ چراغوں کا دھواں لے کے چلو اس کو چاہا ہے تو پھر سنگ ملامت بھی چنو پھول توڑے ہیں تو اب کوہ گراں لے کے چلو بے حقیقت ہیں وہاں لعل و گہر شمس و قمر دشمن جاں کے لئے تحفۂ جاں لے کے چلو ایک بار اور اسے دیکھ لوں مرتے مرتے میرا قاتل ہے کہاں مجھ کو وہاں لے کے چلو اس کے ہونٹوں سے چرا لو کوئی رنگین سا خواب اس کی زلفوں سے کوئی ابر رواں لے کے چلو نورؔ در پیش ہے اب تم کو خزاؤں کا سفر اس کے عارض سے بہاروں کا سماں لے کے چلو
gae dinon ke fasaane sunaa rahi hai mujhe
گئے دنوں کے فسانے سنا رہی ہے مجھے یہ رات اور بھی پاگل بنا رہی ہے مجھے یہ دھندلی دھندلی سی پرچھائیاں ہیں یا خلقت اٹھائے سنگ ملامت ڈرا رہی ہے مجھے کھلا وہ ایک دریچہ گھنے درختوں میں وہ سبز پوش ہوا پھر بلا رہی ہے مجھے مجھے تو چاند کہیں بھی نظر نہیں آتا کوئی کرن سی مگر جگمگا رہی ہے مجھے مہک اٹھی ہے اچانک گلی گلی دل کی کلی کلی سے تری باس آ رہی ہے مجھے چمن چمن مری آوارگی کے چرچے ہیں نگر نگر کوئی آندھی اڑا رہی ہے مجھے میں زندگی کی سخاوت پہ کانپ اٹھتا ہوں کہ بے دریغ یہ ظالم لٹا رہی ہے مجھے
sang-e-dushnaam ko gauhar jaanaa
سنگ دشنام کو گوہر جانا ہم نے دشمن کو بھی دل بر جانا ننگ الفت ہی رہا پروانہ اس کو آتا ہے فقط مر جانا پوچھ لینا در و دیوار کا حال اے بگولو جو مرے گھر جانا سر قلم کرتے رہے ظلم کے ہاتھ یار لوگوں نے مقدر جانا کم نگاہی نے ڈبویا ہم کو ایک قطرے کو سمندر جانا تیشہ بردار کو فرہاد کہا آئینہ گر کو سکندر جانا ہم حقیقت میں تھے کہسار مگر خود کو ذروں سے بھی کم تر جانا
ik tarannum saa mire paaon ki zanjir mein hai
اک ترنم سا مرے پاؤں کی زنجیر میں ہے پھر کوئی فصل بہاراں مری تقدیر میں ہے جھلملاتے ہیں ستارے کہ دیے جلتے ہیں کچھ اجالا سا تری زلف گرہ گیر میں ہے کچھ ترا حسن بھی ہے سادہ و معصوم بہت کچھ مرا پیار بھی شامل تری تصویر میں ہے اور بڑھتی ہے اسی شخص کی چاہت ناصح یہ کرامات عجب آپ کی تقریر میں ہے اپنی کھوئی ہوئی چھینی ہوئی جنت کا سراغ حلقۂ دار میں ہے جنبش شمشیر میں ہے میں جو چاہوں تو پگھل جائیں جدائی کے پہاڑ یہ بھی تاثیر مرے نالۂ شب گیر میں ہے ماہ و خورشید زمیں پر نہیں اترے اب تک میرا ہر خواب ابھی پردۂ تعبیر میں ہے





