SHAWORDS
Osama Zakir

Osama Zakir

Osama Zakir

Osama Zakir

poet
1Sher
1Shayari
3Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ventilator jism ko naqli saanson se bhartaa thaa

وینٹیلیٹر جسم کو نقلی سانسوں سے بھرتا تھا میں زندہ تھا اخراجات کے بوجھ تلے مرتا تھا ٹیڑھے میڑھے آلے لے کے جسم پہ ٹوٹ پڑے ہیں شاید جان گئے ہیں حسن کی میں پوجا کرتا تھا ہیلی‌ کاپٹر دھیرے دھیرے اٹھا زمیں تھرائی میرے دل کی یہ حالت تو اسٹیشن کرتا تھا سڑک پہ پیلے پیلے بیریر سب کا رستہ روکیں لیکن میں چلنے کا رسیا رکنے سے ڈرتا تھا ریڈ لائٹ پہ ننگا بچہ کرتب دکھلاتا تھا روز کا چلنے والا راہی روز عش عش کرتا تھا کیفے کافی ڈے میں ڈیٹ پہ لیٹ ہوئے تھوڑے سے ہاتھ نہ آیا جیون بھر جنموں کا دم بھرتا تھا دھرنے پہ بیٹھنے والے پاگل پچھڑی ذات کے تھے سب ڈی ایس ایل آر والا بس فوٹو سیزن کرتا تھا اک تصویر میں لہرایا نیلی ساڑی کا پلو ایک دوانہ اس تصویر پہ می رقصم کرتا تھا رات کے ساتھ جو بات گزرتی شام کو واپس لاتا شام ڈھلے سے رات گئے تک روز یہی کرتا تھا شیکسپئیر نے جو لکھا ہے اس کی اپنی قیمت میں تھا اردو والا آغا حشرؔ کا دم بھرتا تھا رات کے دل میں جھانکتے جھانکتے رات گزرتی ساری صبح الارم سن لیتا تھا پھر بستر کرتا تھا خود کو نطشہ زادہ کہتا پر سونے سے پہلے انگریزی میں کرسی پڑھ کر خود پر دم کرتا تھا

غزل · Ghazal

main raat sust anaasir se tang aa gayaa thaa

میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھا مری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھا نگاڑے پیٹے ہواؤں نے سرخ پہروں تک گدھوں کا جھنڈ کبوتر کے سنگ آ گیا تھا ستار بجنے لگے صبح کی مسہری پر دھنک کا قافلۂ ہفت رنگ آ گیا تھا فلک پہ رینگتے سورج زمین بوس ہوئے وہ شہسوار شفق بہر جنگ آ گیا تھا اندھیرے غار میں یہ کلکلاتی کھوپڑیاں انہی کے دیکھے رعونت پہ زنگ آ گیا تھا مرے جہان بلا صوت و حرف کے دوارے نہ جانے کون لئے جل ترنگ آ گیا تھا

غزل · Ghazal

suukh jaati hai miri chashm-e-ravaan baarish mein

سوکھ جاتی ہے مری چشم رواں بارش میں آسماں ہوتا رہے اشک‌ فشاں بارش میں سارے صحرائی رہائی کے تمنائی نہ تھے آ گیا لے کے ہمیں قیس کہاں بارش میں گھونسلے ٹوٹ گئے پیڑ گرے باندھ گرے گاؤں پہ پھر بھی جواں نشۂ جاں بارش میں تیری سرسبز بہاروں پہ دمکتے قطرے لوح محفوظ کے کچھ رمز نہاں بارش میں لب احساس کبھی تو کسی قابل ہو جا چوم لے منزل مبہم کے نشاں بارش میں ہانپتی کانپتی مضبوط ارادوں والی بنچ پہ بیٹھی ہوئی محو گماں بارش میں پہلی ٹپ ٹپ ہی مرے ہوش اڑا دیتی ہے نیند اڑتی ہے اٹک جاتی ہے جاں بارش میں آج بھی ڈرتا ہوں بجلی کے کڑاکے سے بہت اس کو قابو میں کیا کرتی تھی ماں بارش میں میرے کمرے کا مکیں حبس گلا گھونٹتا ہے کوئی تو رمز اذیت ہے نہاں بارش میں

Similar Poets