SHAWORDS
Ozair Rahman

Ozair Rahman

Ozair Rahman

Ozair Rahman

poet
2Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

حال دل وہ پوچھنے آنے لگے مرنے والے زندگی پانے لگے کوئی بتلائے ملے کیسے قرار ہر طرف جب تم نظر آنے لگے چھیڑا کیا افسانہ تم نے پیار کا ہم بھی قصے کل کے دہرانے لگے حسن کا چاہا رقیبوں سے بیاں بولتے کیا خاک ہکلانے لگے ہے مرض آنکھوں کو لاحق جانیے جب برائی بس نظر آنے لگے نیند پر بھی لگ گئیں پابندیاں جب سے خوابوں میں حضور آنے لگے راتیں تو ہو جاتی تھیں اکثر گراں دن کے حصے میں بھی غم آنے لگے عشق ہے جانم تجارت یہ نہیں فائدے کا کیوں خیال آنے لگے شاید ہو جائے فلک اب مہرباں سوچ کر ہم دل کو بہلانے لگے

haal-e-dil vo puchhne aane lage

2 views

غزل · Ghazal

پھر یہ کس نے مجھے جگایا ہے پھر سے خوابوں میں کون آیا ہے پھر سے نم یہ ہوئیں ہیں کیوں آنکھیں پھر تمہارا خیال آیا ہے پھر سے روٹھی ہے کیوں یہ شہنائی پھر سے ماتم کا ماہ آیا ہے آرزو ہو گئی ہے پھر بے باک پھر خبر گرم کوئی لایا ہے پھر نئے سال کی ہے تیاری جشن پر گولیوں کا سایا ہے پھر چمن میں رہے گا ہنگامہ پھر نیا پھول کوئی آیا ہے پھر سے بادل ہیں آسمانوں میں ابر امیدیں لے کر آیا ہے پھر سزا کا ہوا ہے اندیشہ مجھ کو تنہائی میں بلایا ہے پھر سے تاریخ بن گیا موضوع پھر سے قصہ نیا بنایا ہے پھٹ رہی ہے یہ پھر سے دھرتی کیوں پھر سے یزداں کا قہر آیا ہے گھر ہوا ہے خدا کا ویراں پھر پھر سے آسیب اس پہ چھایا ہے پھر سے قانون طاق پر رکھا پھر سے دنگائیوں کو لایا ہے دیکھو تو غور سے وہی ظالم پھر سے چہرہ بدل کے آیا ہے پھر سے چھائی ہے ایک خاموشی پھر نیا ظلم کوئی ڈھایا ہے پھر ہے بستی میں ایک بے چینی پھر نیا فتنہ آزمایا ہے پھر سے خطرہ کھڑا ہے منہ کھولے پھر سے اپنا ہوا پرایا ہے پھر سے مندر میں شنکھ پھونکے ہیں پھر سے گنبد میں خوف آیا ہے سازشیں بند ہوں تو دم آئے پھر لگے دیش لوٹ آیا ہے

phir ye kis ne mujhe jagaayaa hai

غزل · Ghazal

حساب دوستاں در دل نہیں اب پلٹنا باتوں سے مشکل نہیں اب کیا کرتے تھے جو جاں بھی نچھاور بھروسے کے بھی وہ قابل نہیں اب سمندر کی حدیں بڑھنے لگی ہیں نظر آتا کہیں ساحل نہیں اب رہے تھے جو شریک غم شب و روز خوشی دیکھی تو وہ شامل نہیں اب قہر ڈھاتا رہا جو حسن جاناں بہت افسوس وہ قاتل نہیں اب برائی کرنا لا حاصل ہے لگتا سنیں دو کان جو فاضل نہیں اب بنیں بہتر بھی اب انسان کیسے بنانے کو وہ آب و گل نہیں اب بھلا طے بھی ہو یے رستہ تو کیسے نگاہوں میں کوئی منزل نہیں اب تساہل چھوڑیئے وقت عمل ہے گزر پائے گی یوں کاہل نہیں اب کریں کیا زندگی قربان اس پر رہا جو زیست کا حاصل نہیں اب

hisaab-e-dostaan dar-dil nahin ab

غزل · Ghazal

مجھے اے زندگی آواز مت دے نہیں منزل کوئی پرواز مت دے جئے جاتا ہوں عادت بن چکی ہے نہیں سر لگتے یا رب ساز مت دے نیا ہے روپ عالم کا خدایا انوکھا اب مجھے انداز مت دے نتیجہ جانتا ہوں دل لگی کا سزائیں فاختہ کو باز مت دے پس پردہ رہا ہے بھید اب تک نہیں حامل انہیں تو راز مت دے رہا انجام ہے جن کی نظر میں انہیں جو چاہے دے آغاز مت دے نبھایا فرض ہی کب حکمراں کا کسی قاتل کو تو اعزاز مت دے

mujhe ai zindagi aavaaz mat de

Similar Poets