"hijr ka mere ham-nashin koi un ko qissa suna.ega kab tak"
Paikan Chandpuri
Paikan Chandpuri
Paikan Chandpuri
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"ai sitamgar tire sitam akhir koi bekas uTha.ega kab tak"
hijr kaa mere ham-nashin koi
un ko qissa sunaaegaa kab tak
ai sitamgar tire sitam aakhir
koi bekas uThaaegaa kab tak
Ghazalغزل
chain dil ko na aaegaa kab tak
چین دل کو نہ آئے گا کب تک وہ مجھے یوں ستائے گا کب تک اے ستم گر ترے ستم آخر کوئی بیکس اٹھائے گا کب تک ظرف پر اپنے ناز ہے مجھ کو آسماں تو ستائے گا کب تک وہ رہے گا خفا اگر یوں ہی کوئی آخر منائے گا کب تک ہجر کا میرے ہم نشیں کوئی ان کو قصہ سنائے گا کب تک چھا چکی ہیں گھٹائیں اب ہر سو ساقیا مے پلائے گا کب تک شعلۂ عشق کیا خبر پیکاںؔ میرے دل کو جلائے گا کب تک
hujum-e-gham ko ham to ziist kaa haasil samajhte hain
ہجوم غم کو ہم تو زیست کا حاصل سمجھتے ہیں یہ الفاظ دگر طوفان کو ساحل سمجھتے ہیں رہ الفت میں ایسے بھی مقام آ جاتے ہیں اکثر جہاں آہ و فغاں کو ہم سکون دل سمجھتے ہیں اسیران قفس کی ہمت مردانہ تو دیکھو قفس کی قید کو آزادئ کامل سمجھتے ہیں وہ کیا پہنچیں گے منزل پر وہ کیا پائیں گے منزل کو جو رہزن کو بھی اپنا رہبر کامل سمجھتے ہیں انہیں پروائے جور چرخ گردوں ہو نہیں سکتی جو رنج و غم کو بھی وجہ سکون دل سمجھتے ہیں کہاں میں اور کہاں شعر و سخن کی انجمن پیکاںؔ بہ فیض طبع موزوں ہے جو اہل دل سمجھتے ہیں
aae jo mere dil ko to sabr-o-qaraar kyaa
آئے جو میرے دل کو تو صبر و قرار کیا اس بے وفا کے قول کا ہے اعتبار کیا اک جام زر نگار کا کیف و خمار کیا میرے نصیب میں نہیں پروردگار کیا پروردۂ خزاں ہوں گلستاں سے کیا غرض بہلا سکے گی دل مرا فصل بہار کیا حیرت زدہ ہیں دیکھ کے اہل نظر انہیں دنیائے آرزو میں ہیں نقش و نگار کیا غنچے بھی خندہ زن ہیں گلوں پر بھی ہے نکھار پھر آ گئی چمن میں عروس بہار کیا بحر جہاں میں زیست ہے کیا اک حباب ہے اس عمر بے ثبات کا ہے اعتبار کیا جس کو بھی دیکھیے وہی مطلب پرست ہے دنیا میں اب نہیں ہے کوئی غم گسار کیا خاشاک آشیاں میں مرے سوز ہے نہاں پیکاںؔ جلائیں گے انہیں برق و شرار کیا
baaghbaan bad-gumaan na ho jaae
باغباں بد گماں نہ ہو جائے دشمن آشیاں نہ ہو جائے گردشیں بڑھ رہی ہیں قسمت سے یہ زمیں آسماں نہ ہو جائے مسکرا تو رہے ہیں آپ مگر نذر آتش جہاں نہ ہو جائے دیکھ لیں خود وہ تاب نظارہ شرم جو درمیاں نہ ہو جائے چٹکیوں سے تری یہ پردۂ دل جان من دھجیاں نہ ہو جائے بجلیوں کو ہے ضد کہیں جل کر خاک یہ آشیاں نہ ہو جائے تیری روداد عشق بھی پیکاںؔ قیس کی داستاں نہ ہو جائے
labon pe laala-o-gul ke vo ab hansi na rahi
لبوں پہ لالہ و گل کے وہ اب ہنسی نہ رہی نسیم صبح کے جھونکوں میں تازگی نہ رہی یہ آج کیسی پلائی ہے اے مرے ساقی خودی کا دور گیا اور بے خودی نہ رہی کیا اگرچہ بہت پائمال گردوں نے ترے ستم کی بھی ظالم مگر کمی نہ رہی کسی نے روئے حسیں سے نقاب کیا الٹی فلک پہ چاند ستاروں میں روشنی نہ رہی ضرور آئیں گے وہ اب یقین ہے مجھ کو دل حزیں میں وہ پہلی سی بیکلی نہ رہی نہ مجھ سے پوچھ تو روداد زندگی پیکاںؔ جہان زیست میں کوئی بھی دل کشی نہ رہی





