vaqt ne sab bhulaa diyaa 'partav'
ishq kyaa shai hai aashiqi kyaa hai

Partav Rohila
Partav Rohila
Partav Rohila
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
اس دشت ہلاکت سے گزر کون کرے گا بے امن خرابوں میں سفر کون کرے گا خورشید جو ڈوبیں گے ابھرنے ہی سے پہلے اس تیرگیٔ شب کی سحر کون کرے گا چھن جائیں سر راہ جہاں چادریں سر کی اس ظلم کی نگری میں بسر کون کرے گا جس دور میں ہو بے ہنری وجہ سیادت اس دور میں تشہیر ہنر کون کرے گا اڑ جائیں گے جنگل کی طرف سارے پرندے مینارۂ لرزاں پہ بسر کون کرے گا اس خوف مسلسل میں گزر ہوگی تو کیوں کر سولی پہ ہر اک رات بسر کون کرے گا مژدہ مجھے جینے کا بھلا کس نے دیا تھا مجھ کو مرے مرنے کی خبر کون کرے گا
is dasht-e-halaakat se guzar kaun karegaa
ڈھلتی رات کہاں جاؤ گے بتلاؤ بابا بھور بھئے تک اس کٹیا میں سو جاؤ بابا میرے پیار بچھونے کی سی میٹھی میٹھی تپ ساری دنیا گھومو تب بھی نا پاؤ بابا لمحے لمحے جینے والے کل کو کیا جانیں میری مانو آج یہیں پر رہ جاؤ بابا جیون میلے میں پھر جانے کب مل پائیں ہم ہاتھ چھڑا کر اتنی جلدی مت جاؤ بابا اس ضدی بالک نے خوں رلوایا جیون بھر چندا مکھ والو کچھ تم ہی بہلاؤ بابا یادوں کی پروائی اندر کیسے رستے ہیں آشا کے چھالے محرومی کے گھاؤ بابا
Dhalti raat kahaan jaaoge batlaao baabaa
اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھی سچ جانیے دکان کے اندر نہیں کچھ بھی ہم جہد مسلسل سے جہاں ٹوٹ کے گر جائیں وہ لمحہ حقیقت ہے مقدر نہیں کچھ بھی مجبور تجسس نے کیا ہے ہمیں ورنہ اس قید کی دیوار کے باہر نہیں کچھ بھی یہ میری تمنا ہے کہ جنبش میں ہیں پردے اک خواہش پیہم ہے پس در نہیں کچھ بھی افکار کی اقلیم وراثت ہے ہماری اور اس کے سوا ہم کو میسر نہیں کچھ بھی درویش بھی ہوتے ہوئے ہم ایسے غنی ہیں دارائی دنیائے سکندر نہیں کچھ بھی جس تخت غنا پر متمکن ہوں میں پرتوؔ اس دولت بے حد کے برابر نہیں کچھ بھی
us garmi-e-baazaar se baDh kar nahin kuchh bhi
حرص مال و منال میں کھویا ہم نے فردا بھی حال میں کھویا ایک لمحہ تھا تجھ کو پانے کا وہ بھی فکر مآل میں کھویا میں نے پندار عاشقی سارا اک ادھورے سوال میں کھویا وہ ستارا جو راہ دکھلاتا خود غرور کمال میں کھویا کارواں محو ہے اندھیروں میں رہنما قیل و قال میں کھویا ساعتیں سرنگوں گزرتی ہیں وقت اس کے خیال میں کھویا میں بھی کرب طلب میں گم پرتوؔ وہ بھی سحر جمال میں کھویا
hirs-e-maal-o-manaal mein khoyaa
وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہے رخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہے اپنے گھر میں بھی تو ہے چین سے سونا مشکل چھت نہ گر جائے یہ کھٹکا سا لگا رہتا ہے وہ زمیں خاک اگائے گی عداوت کے سوا پیار پر جس جگہ پہرہ سا لگا رہتا ہے بھیڑ چھٹتی نہیں اس کلبۂ احزاں سے کبھی آرزوئیں ہیں کہ میلہ سا لگا رہتا ہے صاف کتنا ہی کریں دامن قاتل کو حلیف لوح تاریخ پہ دھبا سا لگا رہتا ہے تیرے آنے کی خوشی بھی نہیں ہوتی پرتوؔ تو چلا جائے گا دھڑکا سا لگا رہتا ہے
vo na pahchaane ye khadsha saa lagtaa rahtaa hai





