mujh mein kyaa mere sivaa aur bhi rahtaa hai koi
main to so jaati huun phir khvaab kise dikhte hain
Poonam Meera
Poonam Meera
Poonam Meera
Popular Shayari
3 totaldasht aankhon mein thaa aavaaz mein viraani thi
khaa gayaa shahr use kahte hain divaani thi
aasmaanon ke khule baab kise dikhte hain
chashm-e-pur-aab ke girdaab kise dikhte hain
Ghazalغزل
آب دریا ہوں پیاس بھی ہوں میں سب مصائب سے اب بری ہوں میں شب نگہبان اب تری ہوں میں سرخ رو رہ کہ جاگتی ہوں میں ہر ورق پر ملے گی پیاس تمہیں ایک روداد تشنگی ہوں میں وصل کچھ یوں بھی ہے تخیل میں ہجر کے گیت گا رہی ہوں میں کل امیری تھی میں مسرت کی آج دولت کی مفلسی ہوں میں میں ہوں اک منہدم سا دروازہ داستاں انتظار کی ہوں میں وہ ستارا ہے شام کا اول رات کی آخری گھڑی ہوں میں جو سدا کوئے جاں سے آتی ہے اس کو دنیا میں ڈھونڈھتی ہوں میں صاحب روشنی ہے وہ میراؔ دم بہ دم ایک تیرگی ہوں میں
aab-e-dariyaa huun pyaas bhi huun main
جنوں سے ذکر سے حسرت سے اور عبادت سے اب اس کے بعد تجھے چاہیں گے محبت سے وہ شے بھی خاک ہوئی جو فلک سے اتری تھی بچا ہے کون یہاں پر نظام قدرت سے ترے اشارے پہ لازم نہیں تھا مر جانا مگر مٹے ہیں تری چاہتوں میں شدت سے تمام رات گزاری ہے ماہ و انجم میں اے صبح مجھ سے ذرا پیش آ محبت سے برسنے آئے گا بن برسے لوٹ جائے گا یہ ابر باز نہ آئے گا اپنی عادت سے اس انتظار میں گر جاں گئی تو ممکن ہے ملے ثواب ہمیں عاجزی کی نسبت سے بنانے والے نے بس نقش ہی بنائے تھے یہ رنگ نکلے ہیں میراؔ تمہاری حیرت سے
junun se zikr se hasrat se aur ibaadat se
اس کے انسان کو جگانا ہے ایک پتھر کو اب رلانا ہے یا کسی خواب یا کسی دل میں اور اپنا کہاں ٹھکانا ہے حسب معمول موت آئے گی حسب معمول ہم کو جانا ہے جس کو دل سے نکال پھینکا ہے اب اسے ڈھونڈنے بھی جانا ہے ایک آوارگی کا قصہ ہے دشت کو رات بھر سنانا ہے دیکھنا دوردور سے اس کو کھیل اچھا ہے پر پرانا ہے اک حزیں خواب دو حسیں آنکھیں اور کیا زندگی سے پانا ہے اب جو دل کی خلا میں اترے ہیں ایک دیوار کو اٹھانا ہے زندگی ایک چھوٹی سی روداد ملتے جانا بچھڑتے جانا ہے دور سے دیکھنا ہے حسرت کو فاصلہ درمیاں بچھانا ہے وقت کا سب کیا دھرا میراؔ یہ خزائیں تو اک بہانا ہے
us ke insaan ko jagaanaa hai
دشت آنکھوں میں تھا آواز میں ویرانی تھی کھا گیا شہر اسے کہتے ہیں دیوانی تھی لمس اک دھوپ کا کافی تھا سمجھ جانے کو برف تھا جسم مگر روح رواں پانی تھی جب تلک عشق سناتا رہا ہم سنتے رہے بعد اس کے تو کہانی بڑی بے معنی تھی ایک لحظے میں نظر آ گیا تھا سچ ہم کو زیست آنکھوں سے گزرتی ہوئی عریانی تھی دیکھتے دیکھتے آنکھوں میں اتر آئی تھی ہر نظارے میں نہاں اک نئی حیرانی تھی میں نے خود پر کبھی ہونے نہ دی ظاہر لیکن مجھ میں تیری کمی ہر شخص نے پہچانی تھی تم نے بے کار ہی ہاتھوں کو جلایا میراؔ آگ کچھ دیر میں ویسے بھی تو بجھ جانی تھی
dasht aankhon mein thaa aavaaz mein viraani thi





