yaa to divaana hanse yaa tum jise taufiq do
varna is duniyaa mein rah kar muskuraataa kaun hai

Prem Lal Shifa Dehlvi
Prem Lal Shifa Dehlvi
Prem Lal Shifa Dehlvi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
اب تمہارا غم مرے دل سے بھلا سکتا ہے کون جو تمہارا ہے اسے اپنا بنا سکتا ہے کون یا تو دیوانہ ہنسے یا تم جسے توفیق دو ورنہ اس دنیا میں رہ کر مسکرا سکتا ہے کون اب تو دل گھبرا گیا ہے شدت آلام سے تم بتاؤ ابر رحمت بن کے چھا سکتا ہے کون زیست سے امید وابستہ ہے ان کے قرب کی ورنہ اس بار امانت کو اٹھا سکتا ہے کون واقف انجام الفت تھے ہم اس کے باوجود وہ فریب دوستی کھایا ہے کھا سکتا ہے کون جب کرم ہوتا ہے مل جاتے ہیں کوہ و دشت میں دیر و کعبہ میں بھی ورنہ ان کو پا سکتا ہے کون اشتیاق دید شاید کر رہا تھا رہبری کس طرح ہم آئے منزل تک بتا سکتا ہے کون ہم نے آنکھیں بند کرکے دل میں دیکھا ہے تمہیں سامنے آؤ تو تاب دید لا سکتا ہے کون مے ہو یا مستی بقدر ظرف ملتی ہے شفاؔ اور اپنے ظرف کو ان سے چھپا سکتا ہے کون
ab tumhaaraa gham mire dil se bhulaa saktaa hai kaun
پھر مجھے ہر ستم گوارا ہے آپ کہہ دیں کہ تو ہمارا ہے ملتفت آپ بھی ہوئے ہیں آج جب مجھے موت نے پکارا ہے موت جب زندگی سے بہتر تھی ہم نے وہ وقت بھی گزارا ہے تم مجھے غیر کیوں سمجھتے ہو اب مرا ہر نفس تمہارا ہے مدتوں غم کو راز میں رکھا اب تو یہ راز آشکارا ہے ڈوب جائیں گے ڈوبنے والے ایک تنکے کا کیا سہارا ہے تم ہی یاد آئے ہو مصیبت میں جب پکارا تمہیں پکارا ہے تم اگر مے پلاؤ آنکھوں سے تلخی زیست بھی گوارا ہے اے شفاؔ دوست سے نہیں شکوہ ہم کو اپنی وفا نے مارا ہے
phir mujhe har sitam gavaaraa hai
زخم ہائے دل کو ان کی خاک پا یاد آ گئی عشق کے آزار کی آخر دوا یاد آ گئی وقت رخصت کیا بتائیں جان پر کیوں کر بنی اس نے منہ موڑا ہی تھا ہم کو قضا یاد آ گئی آج جب برہم ہوا مجھ سے زمانے کا مزاج برہمئ حسن کی دل کش ادا یاد آ گئی ان کا کیا شکوہ تغیر ہے یہاں ہر چیز کو ناز تھا جن پر کبھی ان کی وفا یاد آ گئی دل ہی دل میں رہ گیا میرا دعا کا اشتیاق بے اثر نکلی تھی پہلے وہ دعا یاد آ گئی میں بھلانا چاہتا تھا ذہن سے مجبور تھا ہجر میں اک ایک کر کے ہر بلا یاد آ گئی سوتے سوتے ہنس رہے تھے خواب میں آیا تھا کون بیٹھے بیٹھے رو دئے کس کی شفاؔ یاد آ گئی
zakhm-haa-e-dil ko un ki khaak-e-paa yaad aa gai
خواب ہی کے ساتھ میرے خواب کی تعبیر تھی شب کو زلفیں ہاتھ میں تھیں صبح کو زنجیر تھی کشمکش میں اس طرح گزری ہے ساری زندگی عمر بھر تدبیر سے الجھی ہوئی تقدیر تھی کیا جھکا سکتا کوئی میری جبین شوق کو اس پہ جب کندہ تمہارے ہاتھ کی تحریر تھی آج تک برہم ہیں مجھ سے آج تک روٹھے ہوئے کہہ دیا تھا حال دل اتنی مری تقصیر تھی حادثات زندگی نے ہی سنواری زندگی یہ عنایت آپ کی تھی یا مری تقدیر تھی بے قراری کھینچ لائی ان کی بزم ناز سے ورنہ ان کے ملتفت ہونے میں کیا تاخیر تھی تھیں تصور میں مرے کون و مکاں کی وسعتیں مرکز ذوق نظر لیکن تری تصویر تھی داستان غم زبان حال سے کر دی بیاں کیا ہوا ہم پر اگر پابندیٔ تقریر تھی ہم تو پابند محبت ہیں شفاؔ اب کیا کریں ورنہ جو چاہا ہوا یہ آہ میں تاثیر تھی
khvaab hi ke saath mere khvaab ki taabir thi
فرقت میں کوئی زیست کا ساماں نہیں ہوتا مر جائیں تو مرنا کوئی آساں نہیں ہوتا چپ ہوں کہ تڑپنے کا بھی مقدور نہیں ہے درماں اسے سمجھے ہو یہ درماں نہیں ہوتا اوسان بھلا دیتے ہیں موجوں کے تھپیڑے ملنا در مقصود کا آسان نہیں ہوتا تم حال تو پوچھو کبھی دیوانۂ غم کا بے کار کوئی چاک گریباں نہیں ہوتا اس وقت انہیں فکر ہوئی چارہ گری کی جب موت سے بڑھ کر کوئی درماں نہیں ہوتا ہر ٹھیس پہ پہلے سے سوا آتے ہیں آنسو حاصل انہیں اب دوست کا داماں نہیں ہوتا کیا ان دنوں ماتم ہے کسی اہل وفا کا کیوں آپ کی محفل میں چراغاں نہیں ہوتا مجھ کو تو کریمی پہ تری ناز ہے ہر دم میں کب ترا منت کش احساں نہیں ہوتا جب ان کا کرم تھا شفاؔ ہر اک کا کرم تھا اب مجھ پہ کوئی مائل احساں نہیں ہوتا
furqat mein koi ziist kaa saamaan nahin hotaa
محبت دن بہ دن مائل بہ وحدت ہوتی جاتی ہے ہر اک صورت میں پیدا ان کی صورت ہوتی جاتی ہے جھکا کرتے ہیں سر جس پر گداؤں اور شاہوں کے اسی در کی گدائی اپنی قسمت ہوتی جاتی ہے دعا بھی مانگنے پر اب تو دل راضی نہیں ہوتا طبیعت ہے کہ پابند مشیت ہوتی جاتی ہے مرے معبود جتنے آ رہے ہو پاس تم میرے مجھے دنیا کے ہنگاموں سے فرصت ہوتی جاتی ہے تمہاری ذات میں گم ہو رہی ہے اب مری ہستی جو چاہت تھی کبھی اب وہ عبادت ہوتی جاتی ہے نقوش ماسوا اب زندگی سے مٹتے جاتے ہیں حیات مختصر تم سے عبارت ہوتی جاتی ہے سلیقہ آ گیا ہے جب سے جینے اور مرنے کا دو چند اس زندگی کی قدر و قیمت ہوتی جاتی ہے ارادہ کر لیا ہے جب سے ہم نے ترک دنیا کا جو دنیا بد نما تھی خوبصورت ہوتی جاتی ہے شفاؔ جب سے بھروسہ کر لیا ہے ان کی حکمت پر نہ کچھ ملنے پہ بھی تکمیل حسرت ہوتی جاتی ہے
mohabbat din-ba-din maail-ba-vahdat hoti jaati hai





