SHAWORDS
Rafiq Raaz

Rafiq Raaz

Rafiq Raaz

Rafiq Raaz

poet
4Sher
4Shayari
11Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

ham to bas ik uqda the hal hone tak

ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک زنجیروں میں بند تھے پاگل ہونے تک عشق اگر ہے دین تو پھر ہو جائیں گے ہم بھی مرتد اس کے مکمل ہونے تک میں پانی تھا سورج گھور رہا تھا مجھے کیا کرتا بے بس تھا بادل ہونے تک اب تو خیر سراب سی خوب چمکتی ہے آنکھ تھی دریا شہر کے جنگل ہونے تک مجھ میں بھی تھی تیز سی خوشبو معنی کی مہک رہا تھا میں بھی مہمل ہونے تک اب وہ میری آنکھ پہ ایماں لایا ہے دشت ہی تھا یہ دل بھی جل تھل ہونے تک جھیل کبھی تالاب کبھی دریا تھا کبھی میرے کیا کیا روپ تھے دلدل ہونے تک

غزل · Ghazal

saare gamle suukh gae hain kaisaa mausam aaya hai

سارے گملے سوکھ گئے ہیں کیسا موسم آیا ہے گلشن گلشن ویرانی ہے پھول ہیں اور نہ سبزہ ہے اہل خرد کچھ سوچ رہے ہیں چھوڑو ان کا ذکر ہی کیا دیوانے بھی مہر بلب ہیں شہر میں اک سناٹا ہے رات اندھیری خوف کا عالم جا کے کہاں سر پھوڑیں گے بند کواڑوں پر دستک تو دیوانوں کا حصہ ہے اہل بصیرت سوچ سے عاری کالے دھندے گورے لوگ ہم نے بے کاری کے دنوں میں جانے کیا کیا سوچا ہے گھر کے آنگن میں چیری کے پھول کھلے تو کیا حاصل قریہ قریہ ویرانی ہے گلشن گلشن اجڑا ہے اخباروں میں چھپواتا ہوں نئی نئی غزلیں اکثر آج مرے دیوانہ پن کا سارے شہر میں چرچا ہے رازؔ تمہیں یہ کیا سوجھی ہے جو شعر سنانے نکلے ہو یہ لاشوں کا شہر ہے اس پر عفریتوں کا سایا ہے

غزل · Ghazal

ju-e-kam-aab se ik tez saa jharnaa huaa main

جوئے کم آب سے اک تیز سا جھرنا ہوا میں تیری جانب ہوں رواں شور مچاتا ہوا میں مجھ سے خالی نہیں اب ایک بھی ذرہ ہے یہاں دیکھ یہ تنگ زمیں اور یہ پھیلا ہوا میں دیکھ کر وسعت صحرائے تپاں لرزاں ہوں ساحل دیدۂ نمناک پہ ٹھہرا ہوا میں پا بہ زنجیر ادھر تیز ہوا اور ادھر خاک کے تخت پہ سلطان سا بیٹھا ہوا میں کوئی خورشید سا دنیا پہ چمکتا ہوا تو کسی دیوار سے سایہ سا نکلتا ہوا میں

غزل · Ghazal

ai dil-e-zaar kahin niind na ho taari

اے دل زار کہیں نیند نہ ہو طاری چشم درویش بھی خوابوں سے نہیں عاری جسم کا دشت بھی سنسان ہے برسوں سے ملک دل پر بھی نہیں روح کی سرداری چاند سے کم نہ تھی ہم ہجر کے ماروں کو اس شب تار میں موہوم سی چنگاری یک بیک کون مری فکر میں در آیا نہر خوشبو سی بیاباں میں ہوئی جاری راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے کوئی رقصاں میرے اندر ہے ابھی تک کوئی انکاری زلف پیچاں تری زنجیر بنے گی کب کب عمل میں مری آئے گی گرفتاری

غزل · Ghazal

jism divaar hai divaar mein dar karnaa hai

جسم دیوار ہے دیوار میں در کرنا ہے روح اک غار ہے اس غار میں گھر کرنا ہے ایک ہی قطرہ تو ہے اشک ندامت کا بہت کون سے دشت و بیابان کو تر کرنا ہے جلتے رہنا بھی ہے دیوار پہ فانوس کے بن بے زرہ معرکۂ باد بھی سر کرنا ہے خاک ہو جانے پہ اے خاک بسر کیوں ہو بضد کیا تمہیں دوش ہوا پر بھی سفر کرنا ہے اب ان آنکھوں میں وہ دریا کہاں وہ چشمے کہاں چند قطرے ہیں جنہیں لعل و گہر کرنا ہے فتح گلزار مبارک ہو مگر یاد رہے ابھی نا دیدہ بیابان بھی سر کرنا ہے کچھ تو ہے رنگ سا احساس کے پردے میں نہاں جس کو منظر کی طرح وقف نظر کرنا ہے گل نوخیز کو تیشہ بھی بنا دے یارب سنگ لب بستہ کے سینے میں اثر کرنا ہے ایک نیزے پہ لگانے ہیں کئی میوۂ سر ایک ٹہنی کو ثمر دار شجر کرنا ہے

غزل · Ghazal

abr huun aur barasne ko bhi tayyaar huun main

ابر ہوں اور برسنے کو بھی تیار ہوں میں تجھ کو سیراب کروں گا کہ دھواں دھار ہوں میں اب تو کچھ اور ہی خطرات سے دو چار ہوں میں اپنے ہی سر پہ لٹکتی ہوئی تلوار ہوں میں تب میں اک آنکھ تھا جب تو کوئی منظر بھی نہ تھا آج تصویر ہے تو نقش بہ دیوار ہوں میں ہجر کے بعد کے منظر کا کنایہ ہوں کوئی اک دھواں سا پس دیوار شب تار ہوں میں میرا سرمایہ تو بس منظر بے منظری ہے شہر بے عکس کا اک آئینہ بردار ہوں میں ڈال کے سر کو گریباں میں لرز اٹھتا ہوں مٹھی بھر خاک نہیں ایک سیہ غار ہوں میں دیکھ شامل ہی نہیں اس میں کوئی میرے سوا دیکھ کس قافلۂ ذات کا سالار ہوں میں بس یہی ہے مرے ہونے کا جواز اور سراغ اک نہ ہونے سے میاں بر سر پیکار ہوں میں

Similar Poets