SHAWORDS
Rahat Sultana

Rahat Sultana

Rahat Sultana

Rahat Sultana

poet
1Sher
1Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

raat to shauq se sunti hai kahaani meri

رات تو شوق سے سنتی ہے کہانی میری دن کہاں سنتا ہے آشفتہ بیانی میری دل تو کہتا ہے کہ میں کرتی رہوں سیر جہاں روز ہوتی ہی رہے نقل مکانی میری اب تو خیر اور بھی ہیں چاہنے والے لیکن ماں کی الفت ہے مگر سب سے پرانی میری لاج رکھی ہے دعاؤں کی مرے مالک نے اس نے جب دیکھی ہے اشکوں کی روانی میری معنوی بھی ہے حقیقی بھی ہے میری اولاد باقی رہ جائے گی دنیا میں نشانی میری اشک غم پیتے ہوئے میں نے گزاریں راتیں اس بلندی پہ ہے اب تشنہ دہانی میری اتنا مصروف رکھا ہے مرے مالک نے مجھے میں سناؤں تو بھلا کیسے کہانی میری اسی کالج کی فضاؤں نے بلایا ہے مجھے جس میں پڑھتے ہوئے گزری ہے جوانی میری گیت اس کے ہی سناتا ہے سدا وہ راحتؔ دل نے میرے تو کبھی بات نہ مانی میری

غزل · Ghazal

baat aisi bhi kyaa hui mujh se

بات ایسی بھی کیا ہوئی مجھ سے دل نے جو لی خبر مری مجھ سے ایک مدت سے بات کر نہ سکی وہ ملا بھی تو سرسری مجھ سے ہر گھڑی نام اس کا لیتی ہوں بس یہ عادت نہیں گئی مجھ سے راہ حق جس کو میں نے دکھلائی اس کی دنیا سنور گئی مجھ سے یہ دعا ہے کبھی خفا نہ ہوں میرا رب اور مرے نبی مجھ سے فکر عقبیٰ بھی کیجئے راحتؔ دل یہ کہتا ہے ہر گھڑی مجھ سے

غزل · Ghazal

ashk aankhon ke liye hai aur gham dil ke liye

اشک آنکھوں کے لئے ہے اور غم دل کے لئے اک سمندر کے لئے ہے ایک ساحل کے لئے ہم سفر عزم سفر ہو تو سفر آسان ہے راستے خود راستہ دیتے ہیں منزل کے لئے حل ہوئی مشکل مری یوں جیسے مشکل ہی نہ تھی دی صدا مشکل کشا کو جب بھی مشکل کے لئے مسئلے ہی مسئلے ہیں جس طرف بھی جائیے لوگ سنجیدہ نہیں شاید مسائل کے لئے سب کو بیرونی اجالوں ہی کی خواہش ہے یہاں مانگتا کوئی نہیں اب روشنی دل کے لئے اس قدر احساس غربت کا نہیں ہوتا ہمیں گر ہمارے پاس ہوتا کچھ بھی سائل کے لئے خواہشوں کے حسرتوں کے آرزو کے درد کے سینکڑوں موسم بنے راحتؔ مرے دل کے لئے

غزل · Ghazal

dil mein rahtaa thaa mire jo kabhi dhaDkan ki tarah

دل میں رہتا تھا مرے جو کبھی دھڑکن کی طرح اب مری آنکھ میں رہتا ہے وہ ساون کی طرح کون آیا ہے بہاریں لیے میری جانب میرا احساس مہکنے لگا چندن کی طرح کسی بچے کی طرح اب بھی مچلتا ہے دل حال اپنا ہے جوانی میں بھی بچپن کی طرح میں نے رکھا نہ کبھی بغض و کدورت دل میں دل مرا صاف ہے شفاف ہے درپن کی طرح ذہن میں پھیلی ہے افکار کے پھولوں کی مہک ہے مرا دل یہ مہکتے ہوئے گلشن کی طرح دل کے دروازے کو ہرگز نہ مقفل کیجے اس کو وا رکھئے ہمیشہ کسی آنگن کی طرح اپنے بندوں سے اسے پیار ہے کتنا راحتؔ دل میں رہتا ہے مرے اپنے ہی مسکن کی طرح

غزل · Ghazal

shukr-e-rab hai ki bas amaan mein huun

شکر رب ہے کہ بس امان میں ہوں کن دعاؤں کے سائبان میں ہوں پر ہیں بھیگے ہوئے اڑان میں ہوں وقت کے سخت امتحان میں ہوں آج بھی اجنبی ہے ہر اپنا جب کہ برسوں سے خاندان میں ہوں پتھروں نے سکون چھین لیا جب سے میں کانچ کے مکان میں ہوں کیا جدائی کا اور ہو امکاں تیرے دل میں ہوں تیری جان میں ہوں گھر کی تعریف کیا کروں راحت میں تو مدت سے اک مکان میں ہوں

Similar Poets