SHAWORDS
Sabir Amani

Sabir Amani

Sabir Amani

Sabir Amani

poet
1Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چراغ بس اسی امید پر جلا کرے گا کہ واپسی پہ کوئی اس سے رابطہ کرے گا ترے لئے وہ کوئی راستہ نکالے گا وہ سب سے روٹھ بھی جائے تجھے ملا کرے گا دعا سلام مرے اقربا کی سنت ہے تو منہ کو پھیر کے کیسے مجھے خفا کرے گا قسم خدا کی میں خالی کمان لایا ہوں خبر نہیں تھی مخالف مقابلہ کرے گا یہ بات چھوڑ کہ میں بد زباں ہوں پاگل ہوں اے خوش گمان بتا آئنے کا کیا کرے گا تو پر لگا کے مجھے اپنا شوق پورا کر اسے تو پوچھ مجھے قید سے رہا کرے گا علم تھما کے مجھے بھیڑ میں اترنے دے فقیر لڑ کے تعلق کا حق ادا کرے گا اسی مجاز کو آتے ہیں معجزے سارے وہ شاخ خشک کو اک لمس سے ہرا کرے گا یہ آدمی جو کسی قرب کی تلاش میں ہے جہاں وجود ملا بیٹھ کر خطا کرے گا

charaagh bas isi ummid par jalaa karegaa

غزل · Ghazal

یہ وصل کی وحشت ہے عبادت کی گھڑی ہے ناراض فرشتوں کی قسم ٹوٹ رہی ہے اے شعلۂ پرجوش توجہ میں ادھر ہوں بد مست ادھر دیکھ جدھر آگ لگی ہے سنتے ہیں خدا روٹھ گیا ہے نہیں سنتا حالانکہ مرے شہر کا ہر شخص ولی ہے اے یار میسر کا مزا لے کے جدا ہو اس موسم گل میں تجھے جانے کی پڑی ہے یہ آنکھ جسے بوجھ سمجھتا ہے میاں تو یہ بار ہزیمت کو اٹھانے کی نفی ہے مجھ سے مرے صیاد نے وحشت سے کہا جا لے آج سے تو میری محبت سے بری ہے ہر چیز بدل دی ہے مگر کچھ نہیں بدلا کہنے کو چمن زار کی ہر شاخ نئی ہے

ye vasl ki vahshat hai ibaadat ki ghaDi hai

غزل · Ghazal

جہاں مراد ہے تو اس طرف اشارہ کر ترے نصیب کے طعنے مجھے نہ مارا کر کبھی تو بیٹھ کے یاروں کے ساتھ چائے پی کبھی تو بیٹھ کے فرصت سے دن گزارا کر اے خوش مزاج بہت سا خیال رکھ اپنا اے پر جمال تو اپنی نظر اتارا کر یہی نصیب ہے تقسیم اسی کو کہتے ہیں کسی کی مان لے چادر میں رہ گزارا کر مرا یقین کرے چھوڑ دے تجھے تنہا تری تو مانتا ہے چاند کو اشارہ کر

jahaan muraad hai tu us taraf ishaara kar

غزل · Ghazal

خدا کی ذات کو حیرت کے زاویے سے دیکھ نظر بھی آئے گا منظر کو حوصلے سے دیکھ یقیں کے خوف نے کتنوں کو روک رکھا ہے یہ اعتبار ضرورت کے فلسفے سے دیکھ ترے خلاف مروت میں کچھ نہیں بولا تو آئنے کو ذرا اور وسوسے سے دیکھ گھما پھرا کے بھی سیدھی سی بات کیا کرنا میں سامنے کی حقیقت ہوں سامنے سے دیکھ زمین گھومتی ہے سو کہیں نہیں جاتی یہ دائرے کے مسائل ہیں دائرے سے دیکھ میں انہماک سے گجروں کے بند باندھتا ہوں تو مسکرا کے محبت سے آئنے سے دیکھ

khudaa ki zaat ko hairat ke zaaviye se dekh

غزل · Ghazal

خاک زادوں سے حوالے نہیں مانگا کرتے ہر پہیلی میں اشارے نہیں مانگا کرتے یہ نشانی ہے محبت میں خفا ہونے کی وہ سنورتے ہیں تو تحفے نہیں مانگا کرتے اک ملاقات میں کھلتی نہیں اچھی لڑکی اتنی عجلت میں ستارے نہیں مانگا کرتے مانگ لیتے ہیں ضرورت کے علاوہ کچھ بھی شاہ اچھا ہو تو ٹکڑے نہیں مانگا کرتے سن اے شدت سے غلط بات پہ روٹھے ہوئے دوست یار یاروں کے خسارے نہیں مانگا کرتے

khaak-zaadon se havaale nahin maangaa karte

Similar Poets