SHAWORDS
Saeed Naqvi

Saeed Naqvi

Saeed Naqvi

Saeed Naqvi

poet
8Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

8 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

میں دوست سے نہ کسی دشمنی سے ڈرتا ہوں بس اس زبان کی بے پردگی سے دبتا ہوں میں دور دور سے خود کو اٹھا کے لاتا رہا کہ ٹوٹ جاؤں تو پھر دور تک بکھرتا ہوں یہ سب اشارے مرے کام کیوں نہیں آتے یقیں کی مانگ کو رسم گماں سے بھرتا ہوں میں اتنی دور نکل آیا شہر ہستی سے خود اپنی ذات سے اکثر لپٹ کے روتا ہوں ابھی زمانہ مرے ساتھ چلنے والا ہے میں اس خیال سے جیتا ہوں اور نہ مرتا ہوں زمانہ ڈھونڈ رہا ہے مجھے مکانوں میں میں شہر ذات کے اندھے کنویں میں رہتا ہوں ہمارے راستے جب سے جدا ہوئے ہیں سعیدؔ میں اپنی ذات کو محسوس کر تو سکتا ہوں

main dost se na kisi dushmani se Dartaa huun

غزل · Ghazal

ورق ورق سے نیا اک جواب مانگوں میں خود اپنی ذات پہ لکھی کتاب مانگوں میں یہ خود نوشت تو مجھ کو ادھوری لگتی ہے جو ہو سکے تو نیا انتساب مانگوں میں ہم اپنے شوق سے آئے نہ اپنی طرز جیے اس امتحاں میں نیا اک نصاب مانگوں میں وہ حق کی پیاس تھی دریا تو بس بہانہ تھا لب فرات پہ کس سے جواب مانگوں میں بس ایک لرزہ میرے جسم و جاں پہ ہوتا ہے شعور ذات سے جب احتساب مانگوں میں ترے حساب میں ہیں خوش گمانیاں اب بھی ترے بہانے نیا اک عذاب مانگوں میں

varaq varaq se nayaa ik javaab maangun main

غزل · Ghazal

چاہے ہمارا ذکر کسی بھی زباں میں ہو کچھ حسرتوں کی بات بھی رسم بیاں میں ہو آئے تو اس وقار سے اب کے عذاب ہجر شرمندہ یہ بہار بھی اب کے خزاں میں ہو رکھا ہے زندگی کو بھی ہر حال میں عزیز جب کہ عذاب زیست بھی اپنے گماں میں ہو نکلوں تری تلاش میں جب آسمان پر صدمہ مرے خیال کو دونوں جہاں میں ہو رسم جنوں کا باب ہے اول و آخری لکھا نصاب دل تو کسی بھی زباں میں ہو یہ تیرا حسن ظن تھا کہ دل کام آ گیا ورنہ تو اس کا ذکر بھی کار زیاں میں ہو کچھ لوگ تھے سفر میں مگر ہم زباں نہ تھے ہے لطف گفتگو کا جو اپنی زباں میں ہو بیٹھا ہوں دور سائے سے اس واسطے سعیدؔ آسودگی سفر کی اسی امتحاں میں ہو

chaahe hamaaraa zikr kisi bhi zabaan mein ho

غزل · Ghazal

کیا ہے خود ہی گراں زیست کا سفر میں نے کتر لیے تھے کبھی اپنے بال و پر میں نے یوں اپنی ذات میں اب قید ہو کے بیٹھا ہوں خود اپنے گرد اٹھائے تھے بام و در میں نے بدل گئے خط و معنی کئی زبانوں کے جب اعتراف جنوں کر لیا ہنر میں نے تو میری تشنہ لبی پر سوال کرتا ہے سمندروں پہ بنایا تھا اپنا گھر میں نے جو آج پھر سے مرے بال و پر نکل آئے تو تیری راہ کے کٹوا دیے شجر میں نے میں اس کی ذات پہ یوں تبصرہ نہیں کرتا کہ پورے قد سے تو دیکھا نہیں مگر میں نے میں چاند رات کا بھٹکا ہوا مسافر تھا اندھیری رات میں تنہا کیا سفر میں نے میں بے لباس تو آیا تھا با لباس گیا یہ زاد راہ کمایا رہ ہنر میں نے وفور حرف کے ورثے کی آرزو میں سعیدؔ سنا ہے میرؔ اور مرزاؔ کبھی جگرؔ میں نے

kiyaa hai khud hi giraan ziist kaa safar main ne

Similar Poets