SHAWORDS
Saeed

Saeed

Saeed

Saeed

poet
3Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مصور اپنے تصور کا ڈھونڈھتا ہے دوام نہ جام جم نہ وصال صنم نہ شہرت و نام حیات جبر مسلسل ہے تو ہے جبر شکن ہر ایک گام پہ آزادگی کا تجھ کو سلام تصورات کے پھولوں میں رنگ بھرتا ہے حقیقتوں کی کڑی دھوپ دیتی ہے انعام سحر بھی ہوگی نسیم سحر بھی گائے گی مگر یہ رات محبت چراغ زہر کے جام شراب پی بھی تو پی چشم مست ساقی سے مگر چڑھائے پیا پے غم حیات کے جام میں اپنی شمع جلاتا رہا ہوں توبہ پر میں اپنے شعلے سے ہوتا رہا ہوں گرم کلام اسی سے میرے رگ و پے میں آتش سیال اسی سے میرے تصور کے خم میں ماہ تمام

musavvir apne tasavvur kaa DhunDhtaa hai davaam

غزل · Ghazal

رقص میں ہے جہاں کا جہاں آج کل ماند ہے گردش آسماں آج کل آسماں پر نہیں زہرہ و مشتری ہے زمیں پر ہر اک دل ستاں آج کل نشۂ فصل گل بوئے مے حسن مہ کھنچ کے سب آ گئے ہیں کہاں آج کل منزل نہ فلک مجھ کو آواز دے ہے مری راہ میں کہکشاں آج کل علم کے آلپس پر ہیں طلب کے قدم حوصلے اس قدر ہیں جواں آج کل اس طرف آئیں روح الامیں سے کہو مست ہے طوطیٔ خوش بیاں آج کل

raqs mein hai jahaan kaa jahaan aaj-kal

غزل · Ghazal

اندھیری رات نفس کے دیے جلائے ہیں بنانے والوں نے خورشید تک بنائے ہیں بس اس سے پہلے کہ دریائے خوں میں جا ڈوبیں ہیں خوش نصیب پسینے میں جو نہائے ہیں ہر ایک حسن و لطافت کی انتہا ہے حیات گل و شراب و بہشت و صنم کنائے ہیں میں جاگتا ہوں کہ سوتا ہوں خواب دیکھتا ہوں زمین تپتی ہے کچھ بادلوں کے سائے ہیں سنور گئے ہیں جنہوں نے جہاں سنوارا ہے چمک رہے ہیں وہ چہرے کہ گل کھلائے ہیں اسی کی بانگ پہ بیدار ہو کے ذبح کیا نوائے مرغ نے کیا کیا اثر دکھائے ہیں کسی حقیر سے شیشے کو بھی نہ ٹھیس لگے اس احتیاط پہ بھی کتنے دل دکھائے ہیں

andheri raat nafas ke diye jalaae hain

غزل · Ghazal

تصور کی دہلیز پر تھی کھڑی کلیجے میں کیوں تیر بن کر گڑی فروزاں ہوئی خلوت ماہتاب مجھے یاد ہے وہ سماں وہ گھڑی جھمکنے لگی عرش اعظم کی جوت نگاہوں پہ اک چھوٹ ایسی پڑی جو چاہا تھا مانگا نہ تھا مل گیا لڑی آنکھ اس سے تو ایسی لڑی کبھی کھلکھلا کر ہنسا بھی کرو لگائی بہت آنسوؤں کی جھڑی

tasavvur ki dahliz par thi khaDi

غزل · Ghazal

سوال پوچھے ہیں شب نے جواب لے آؤ نئی سحر کے لئے آفتاب لے آؤ نہ رات ہے نہ خیالات شب نہ خواب سحر جو دن کی جوت جگا دیں وہ خواب لے آؤ برا نہیں ہے جو لکھ جائیں اب بھی چند ورق جو آج تک ہے ادھوری کتاب لے آؤ نقاب الٹتی ہے چہرے سے روز تازہ سحر نگاہ میں بھی کوئی انقلاب لے آؤ بہار آئے گی گلشن میں سیر گل ہوگی نظر میں فکر میں دل میں شباب لے آؤ

savaal puchhe hain shab ne javaab le aao

Similar Poets