SHAWORDS
Safdar Hamadani

Safdar Hamadani

Safdar Hamadani

Safdar Hamadani

poet
1Sher
1Shayari
7Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

gulsitaan-dar-gulsitaan ab baaghbaan koi nahin

گلستاں در گلستاں اب باغباں کوئی نہیں پھول سب تنہا کھڑے ہیں تتلیاں کوئی نہیں دھوپ اچھی لگ رہی ہے آج کتنے دن کے بعد بادلوں کا دور تک نام و نشاں کوئی نہیں خشک لکڑی کی طرح سے جل گئے سارے مکاں یہ عجب کہ ساری بستی میں دھواں کوئی نہیں نام کیا دے گا کوئی ان بے سبب حالات کو مہرباں سارے ہیں لیکن مہرباں کوئی نہیں اپنے گھر سے دور رہ کر ہر قدم ہے امتحاں کون کہتا ہے یہاں پر امتحاں کوئی نہیں اس نے اپنے شوق سے دست دعا کٹوا دئے اس کے چہرے پر لکھی اب داستاں کوئی نہیں رات کی جھیلوں میں اترے گی کہاں سے چاندنی ہم سیاہ بختوں کو بھی ایسا گماں کوئی نہیں کیا خبر کیا ہو گیا ہے اس معمر شخص کو دن ڈھلے جنگل سے چنتا لکڑیاں کوئی نہیں اک عجب سا حادثہ دیکھا ہے صفدرؔ شہر میں خشک ہیں سب آشیاں اور بجلیاں کوئی نہیں

غزل · Ghazal

le tiri aavaaz ko qaid-e-samaaat kar liyaa

لے تری آواز کو قید سماعت کر لیا ہاں غزل کے روپ کو عکس طباعت کر لیا بھیگتی اس شام میں اس نے پکارا ہے مجھے لگ رہا ہے جس طرح حج محبت کر لیا سوچتا ہوں اس سے پوچھوں جان صفدرؔ کس لئے عام سے اک آدمی کو اپنی عادت کر لیا آج پھر شانوں پہ بکھری زلف ہے اللہ خیر لگ رہا ہے آج پھر عہد بغاوت کر لیا رات دن رہتا ہے اس کو اپنی چاہت کا خیال اس نے خود کو اس طرح وقف عبادت کر لیا کر لیا ہے شب کی تنہائی میں ملنے کا خیال مسکراہٹ کو تری رد عداوت کر لیا اس کتاب عشق کی تکمیل صفدرؔ ہو گئی اس نے برسوں بعد اظہار محبت کر لیا

غزل · Ghazal

haasil davaam kab hai bhalaa ab davaam ko

حاصل دوام کب ہے بھلا اب دوام کو ہم کہ ترستے رہتے ہیں ان کے سلام کو نیلام ہو رہا ہے ادب بھی ادیب بھی پھیلائیں شہر شہر میں اب اس پیام کو تلوار کا وجود ہے تلوار زن کے ساتھ معیار مت بنائیے خالی نیام کو بے شک یہ بونے غالبؔ دوراں کہیں تمہیں میں جانتا ہوں خوب تمہارے مقام کو پہنچی ہے اب ضمیر فروشی عروج پر جی چاہتا ہے آگ لگا دوں کلام کو مفتی ادب کے دین کے مفتی سے کب الگ کیسے حلال کرنے لگے ہیں حرام کو عاری جو عدل سے ہو عدالت سے دور ہو دوزخ رسید کیجئے ایسے امام کو اعزاز اب ادب کا نہیں چاہیئے مجھے رکھیے معاف بہر خدا اس غلام کو اب نام پر ادب کے تجارت ادب کی ہے صفدرؔ ہوا نہ دیجئے گا انتقام کو

غزل · Ghazal

ji rahaa huun vasvason ke darmiyaan

جی رہا ہوں وسوسوں کے درمیاں دم کشیدہ ساعتوں کے درمیاں با عمل دیکھے ہیں کتنے تنگ دست بے عمل ان واعظوں کے درمیاں بے ثمر ہی اب شجر کمہلائے گا شک اگا ہے چاہتوں کے درمیاں میں نے حکمت سے نکالا ہے جناب ایک رستہ راستوں کے درمیاں مجھ کو دیتی ہے صدائیں رات دن ایک وحشت ساحلوں کے درمیاں داد میرے حوصلے کی دیجئے رہ رہا ہوں کوفیوں کے درمیاں دوستوں کے ساتھ صفدرؔ اس طرح جیسے کافر مومنوں کے درمیاں

غزل · Ghazal

tabdiliyaan hain umr ke jaane ke saath saath

تبدیلیاں ہیں عمر کے جانے کے ساتھ ساتھ ناراضگی بڑھی ہے منانے کے ساتھ ساتھ نفرت منافقت سے رہی مجھ کو عمر بھر میں چل سکا نہیں ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ میری مصیبتیں بھی گوارا نہیں اسے مجھ کو رلا رہا ہے ہنسانے کے ساتھ ساتھ دل میں سلگ رہی ہیں دعاؤں کی مشعلیں لب ہل رہے ہیں ہاتھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کی ہر ایک بات تو یکسر نہیں غلط ہیں کچھ حقیقتیں بھی بہانے کے ساتھ ساتھ میں آشنا ہوں اس کے مزاج و خیال سے یاد آؤں گا اسے میں بھلانے کے ساتھ ساتھ صفدرؔ عجیب لگتی ہے بستی بسی ہوئی آتش فشاں کے سرخ دہانے کے ساتھ ساتھ

غزل · Ghazal

sab darakht khaali hain baarishon ke mausam mein

سب درخت خالی ہیں بارشوں کے موسم میں سارے گھر مقفل ہیں وسوسوں کے موسم میں آندھیوں کی بارش میں سب چراغ زندہ ہیں جاگتا ہے یزداں بھی رت جگوں کے موسم میں آپ سے شکایت کیا آپ سے گلہ کیسا پھر رہا ہوں خود تنہا سازشوں کے موسم میں جاگتے درختوں کی شاخ شاخ خالی ہے کوئی پھل اگے گا تو خواہشوں کے موسم میں ابر کا کوئی ٹکڑا شہر بھر سوالی ہے آنکھ خشک دریا ہے آنسوؤں کے موسم میں بس اسی تجسس میں رات کا سفر گزرا کون ہے جو روتا ہے چاہتوں کے موسم میں اک سکوت طاری ہے ہر صدا کے چہرے پر پا برہنہ لمحے ہیں ساعتوں کے موسم میں

Similar Poets