SHAWORDS
Sagheer Malal

Sagheer Malal

Sagheer Malal

Sagheer Malal

poet
16Sher
16Shayari
9Ghazal

Sherشعر

See all 16

Popular Sher & Shayari

32 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

kisi insaan ko apnaa nahin rahne dete

کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے واقعی نور لیے پھرتے ہیں سر پہ کوئی اپنے اطراف جو سایہ نہیں رہنے دیتے زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملالؔ کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے

غزل · Ghazal

khud se niklun to alag ek samaan hotaa hai

خود سے نکلوں تو الگ ایک سماں ہوتا ہے اور گہرائی میں اتروں تو دھواں ہوتا ہے اتنی پیچیدگی نکلی ہے یہاں ہونے میں اب کوئی چیز نہ ہونے کا گماں ہوتا ہے اک تسلسل کی روایت ہے ہوا سے منسوب خاک پر اس کا امیں آب رواں ہوتا ہے سب سوالوں کے جواب ایک سے ہو سکتے ہیں ہو تو سکتے ہیں مگر ایسا کہاں ہوتا ہے ساتھ رہ کر بھی یہ اک دوسرے سے ڈرتے ہیں ایک بستی میں الگ سب کا مکاں ہوتا ہے کیا عجب راز ہے ہوتا ہے وہ خاموش ملالؔ جس پہ ہونے کا کوئی راز عیاں ہوتا ہے

غزل · Ghazal

faqat zamin se rishte ko ustuvaar kiyaa

فقط زمین سے رشتے کو استوار کیا پھر اس کے بعد سفر سب ستارہ وار کیا بس اتنی دیر میں اعداد ہو گئے تبدیل کہ جتنی دیر میں ہم نے انہیں شمار کیا کبھی کبھی لگی ایسی زمین کی حالت کہ جیسے اس کو زمانے نے سنگسار کیا جہان کہنہ ازل سے تھا یوں تو گرد آلود کچھ ہم نے خاک اڑا کر یہاں غبار کیا بشر بگاڑے گا ماحول وہ جو اس کے لیے نہ جانے کتنے زمانوں نے سازگار کیا تمام وہم و گماں ہے تو ہم بھی دھوکہ ہیں اسی خیال سے دنیا کو میں نے پیار کیا نہ سانس لے سکا گہرائیوں میں جب وہ ملالؔ تو اس کو اپنے جزیرے سے ہمکنار کیا

غزل · Ghazal

raat andar utar ke dekhaa hai

رات اندر اتر کے دیکھا ہے کتنا حیران کن تماشا ہے ایک لمحے کو سوچنے والا ایک عرصے کے بعد بولا ہے میرے بارے میں جو سنا تو نے میری باتوں کا ایک حصہ ہے شہر والوں کو کیا خبر کہ کوئی کون سے موسموں میں زندہ ہے جا بسی دور بھائی کی اولاد اب وہی دوسرا قبیلہ ہے بانٹ لیں گے نئے گھروں والے اس حویلی کا جو اثاثہ ہے کیوں نہ دنیا میں اپنی ہو وہ مگن اس نے کب آسمان دیکھا ہے آخری تجزیہ یہی ہے ملالؔ آدمی دائروں میں رہتا ہے

غزل · Ghazal

nikal gae the jo sahraa mein apne itni duur

نکل گئے تھے جو صحرا میں اپنے اتنی دور وہ لوگ کون سے سورج میں جل رہے ہوں گے عدم کی نیند میں سوئے ہوئے کہاں ہیں وہ اب جو کل وجود کی آنکھوں کو مل رہے ہوں گے ملے نہ ہم کو جواب اپنے جن سوالوں کے کسی زمانے میں ان کے بھی حل رہے ہوں گے بس اس خیال سے دیکھا تمام لوگوں کو جو آج ایسے ہیں کیسے وہ کل رہے ہوں گے پھر ابتدا کی طرف ہوگا انتہا کا رخ ہم ایک دن یہاں شکلیں بدل رہے ہوں گے ملالؔ ایسے کئی لوگ ہوں گے رستے میں جو تم سے تیز یا آہستہ چل رہے ہوں گے

غزل · Ghazal

baraae naam sahi saaebaan zaruri hai

برائے نام سہی سائباں ضروری ہے زمین کے لیے اک آسماں ضروری ہے تعجب ان کو ہے کیوں میری خود کلامی پر ہر آدمی کا کوئی راز داں ضروری ہے ضرورت اس کی ہمیں ہے مگر یہ دھیان رہے کہاں وہ غیر ضروری کہاں ضروری ہے کہیں پہ نام ہی پہچان کے لیے ہے بہت کہیں پہ یوں ہے کہ کوئی نشاں ضروری ہے کہانیوں سے ملال ان کو نیند آنے لگی یہاں پہ اس لیے وہ داستاں ضروری ہے

Similar Poets