"ta.ajjub un ko hai kyuun meri khud-kalami par har aadmi ka koi raz-dan zaruri hai"

Sagheer Malal
Sagheer Malal
Sagheer Malal
Sherشعر
See all 16 →ta.ajjub un ko hai kyuun meri khud-kalami par
تعجب ان کو ہے کیوں میری خود کلامی پر ہر آدمی کا کوئی راز داں ضروری ہے
ghar ke baare men yahi jaan saka huun ab tak
گھر کے بارے میں یہی جان سکا ہوں اب تک جب بھی لوٹو کوئی دروازہ کھلا ہوتا ہے
raushni hai kisi ke hone se
روشنی ہے کسی کے ہونے سے ورنہ بنیاد تو اندھیرا تھا
zamane bhar se ulajhte hain jis ki janib se
زمانے بھر سے الجھتے ہیں جس کی جانب سے اکیلے پن میں اسے ہم بھی کیا نہیں کہتے
hai ek umr se khvahish ki duur ja ke kahin
ہے ایک عمر سے خواہش کہ دور جا کے کہیں میں خود کو اجنبی لوگوں کے درمیاں دیکھوں
un se bachna ki bichhate hain panahen pahle
ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے
Popular Sher & Shayari
32 total"ghar ke baare men yahi jaan saka huun ab tak jab bhi lauTo koi darvaza khula hota hai"
"raushni hai kisi ke hone se varna buniyad to andhera tha"
"zamane bhar se ulajhte hain jis ki janib se akele-pan men use ham bhi kya nahin kahte"
"hai ek umr se khvahish ki duur ja ke kahin main khud ko ajnabi logon ke darmiyan dekhun"
"un se bachna ki bichhate hain panahen pahle phir yahi log kahin ka nahin rahne dete"
mere baare mein jo sunaa tu ne
meri baaton kaa ek hissa hai
sab savaalon ke javaab ek se ho sakte hain
ho to sakte hain magar aisaa kahaan hotaa hai
tamaam vahm o gumaan hai to ham bhi dhoka hain
isi khayaal se duniyaa ko main ne pyaar kiyaa
hai ek umr se khvaahish ki duur jaa ke kahin
main khud ko ajnabi logon ke darmiyaan dekhun
zamaane bhar se ulajhte hain jis ki jaanib se
akele-pan mein use ham bhi kyaa nahin kahte
tere baare mein agar khaamosh huun main aaj tak
phir tire haq mein kisi kaa faisla kaise huaa
Ghazalغزل
kisi insaan ko apnaa nahin rahne dete
کسی انسان کو اپنا نہیں رہنے دیتے شہر ایسے ہیں کہ تنہا نہیں رہنے دیتے دائرے چند ہیں گردش میں ازل سے جو یہاں کوئی بھی چیز ہمیشہ نہیں رہنے دیتے کبھی ناکام بھی ہو جاتے ہیں وہ لوگ کہ جو واپسی کا کوئی رستہ نہیں رہنے دیتے ان سے بچنا کہ بچھاتے ہیں پناہیں پہلے پھر یہی لوگ کہیں کا نہیں رہنے دیتے جس کو احساس ہو افلاک کی تنہائی کا دیر تک اس کو اکیلا نہیں رہنے دیتے واقعی نور لیے پھرتے ہیں سر پہ کوئی اپنے اطراف جو سایہ نہیں رہنے دیتے زندگی پیاری ہے لوگوں کو اگر اتنی ملالؔ کیوں مسیحاؤں کو زندہ نہیں رہنے دیتے
khud se niklun to alag ek samaan hotaa hai
خود سے نکلوں تو الگ ایک سماں ہوتا ہے اور گہرائی میں اتروں تو دھواں ہوتا ہے اتنی پیچیدگی نکلی ہے یہاں ہونے میں اب کوئی چیز نہ ہونے کا گماں ہوتا ہے اک تسلسل کی روایت ہے ہوا سے منسوب خاک پر اس کا امیں آب رواں ہوتا ہے سب سوالوں کے جواب ایک سے ہو سکتے ہیں ہو تو سکتے ہیں مگر ایسا کہاں ہوتا ہے ساتھ رہ کر بھی یہ اک دوسرے سے ڈرتے ہیں ایک بستی میں الگ سب کا مکاں ہوتا ہے کیا عجب راز ہے ہوتا ہے وہ خاموش ملالؔ جس پہ ہونے کا کوئی راز عیاں ہوتا ہے
faqat zamin se rishte ko ustuvaar kiyaa
فقط زمین سے رشتے کو استوار کیا پھر اس کے بعد سفر سب ستارہ وار کیا بس اتنی دیر میں اعداد ہو گئے تبدیل کہ جتنی دیر میں ہم نے انہیں شمار کیا کبھی کبھی لگی ایسی زمین کی حالت کہ جیسے اس کو زمانے نے سنگسار کیا جہان کہنہ ازل سے تھا یوں تو گرد آلود کچھ ہم نے خاک اڑا کر یہاں غبار کیا بشر بگاڑے گا ماحول وہ جو اس کے لیے نہ جانے کتنے زمانوں نے سازگار کیا تمام وہم و گماں ہے تو ہم بھی دھوکہ ہیں اسی خیال سے دنیا کو میں نے پیار کیا نہ سانس لے سکا گہرائیوں میں جب وہ ملالؔ تو اس کو اپنے جزیرے سے ہمکنار کیا
raat andar utar ke dekhaa hai
رات اندر اتر کے دیکھا ہے کتنا حیران کن تماشا ہے ایک لمحے کو سوچنے والا ایک عرصے کے بعد بولا ہے میرے بارے میں جو سنا تو نے میری باتوں کا ایک حصہ ہے شہر والوں کو کیا خبر کہ کوئی کون سے موسموں میں زندہ ہے جا بسی دور بھائی کی اولاد اب وہی دوسرا قبیلہ ہے بانٹ لیں گے نئے گھروں والے اس حویلی کا جو اثاثہ ہے کیوں نہ دنیا میں اپنی ہو وہ مگن اس نے کب آسمان دیکھا ہے آخری تجزیہ یہی ہے ملالؔ آدمی دائروں میں رہتا ہے
nikal gae the jo sahraa mein apne itni duur
نکل گئے تھے جو صحرا میں اپنے اتنی دور وہ لوگ کون سے سورج میں جل رہے ہوں گے عدم کی نیند میں سوئے ہوئے کہاں ہیں وہ اب جو کل وجود کی آنکھوں کو مل رہے ہوں گے ملے نہ ہم کو جواب اپنے جن سوالوں کے کسی زمانے میں ان کے بھی حل رہے ہوں گے بس اس خیال سے دیکھا تمام لوگوں کو جو آج ایسے ہیں کیسے وہ کل رہے ہوں گے پھر ابتدا کی طرف ہوگا انتہا کا رخ ہم ایک دن یہاں شکلیں بدل رہے ہوں گے ملالؔ ایسے کئی لوگ ہوں گے رستے میں جو تم سے تیز یا آہستہ چل رہے ہوں گے
baraae naam sahi saaebaan zaruri hai
برائے نام سہی سائباں ضروری ہے زمین کے لیے اک آسماں ضروری ہے تعجب ان کو ہے کیوں میری خود کلامی پر ہر آدمی کا کوئی راز داں ضروری ہے ضرورت اس کی ہمیں ہے مگر یہ دھیان رہے کہاں وہ غیر ضروری کہاں ضروری ہے کہیں پہ نام ہی پہچان کے لیے ہے بہت کہیں پہ یوں ہے کہ کوئی نشاں ضروری ہے کہانیوں سے ملال ان کو نیند آنے لگی یہاں پہ اس لیے وہ داستاں ضروری ہے





