SHAWORDS
Saleem Shahid

Saleem Shahid

Saleem Shahid

Saleem Shahid

poet
2Sher
2Shayari
6Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

hai aarzu ki apnaa saraapaa dikhaai de

ہے آرزو کہ اپنا سراپا دکھائی دے آئینہ دیکھتا ہوں کہ چہرہ دکھائی دے مصروف اس قدر تھے کہ ساون گزر گیا حسرت رہی کہ ابر برستا دکھائی دے خاموش ہوں کہ بولنا تہمت ہے اس جگہ جب دیکھنا نہیں ہے تو پھر کیا دکھائی دے سوچا تھا بس کہ ذہن میں تصویر بن گئی اب آنکھ کہہ رہی ہے کہ چہرہ دکھائی دے اب دھول کی بجائے دھواں ہے فضاؤں میں خلقت پکارتی ہے کہ صحرا دکھائی دے چہروں کا رنگ زرد ہوا دھوپ کی طرح شاہدؔ کہیں تو ابر کا ٹکڑا دکھائی دے

غزل · Ghazal

sab thakan aankh mein simaT jaae

سب تھکن آنکھ میں سمٹ جائے نیند آ جائے رات کٹ جائے روبرو ہوں تو گفتگو بھی کریں کون آواز سے لپٹ جائے وہم یہ ہے کہ بند دروازہ دیکھ کر ہی نہ وہ پلٹ جائے سیکھ دریا سے کوہ پیمائی کوئی کیوں راستے سے ہٹ جائے کون مارے گا دوسرا پتھر کوئی صورت کہ درد بٹ جائے میں ہوا ہوں کہ چل رہا ہوں ہنوز عرصۂ دہر ہی نہ کٹ جائے بے دلی خلعت ندامت ہے اک بلا ہے اگر چمٹ جائے اپنے چہرے کو ڈھانپ ڈھانپ کے رکھ آئنہ گرد سے نہ اٹ جائے

غزل · Ghazal

harf-e-be-matlab ki main ne kis qadar tafsir ki

حرف بے مطلب کی میں نے کس قدر تفسیر کی شکل پہچانی گئی پھر بھی نہ اس تصویر کی صبح کا دروازہ کھلتے ہی چلو گلشن کی سمت رنگ اڑ جائے گا پھولوں کا اگر تاخیر کی قید میرے جسم کے اندر کوئی وحشی نہ ہو سانس لیتا ہوں تو آتی ہے صدا زنجیر کی تیرے چہرے پر جو لکھا تھا مری آنکھوں میں ہے حفظ ہے مجھ کو عبارت اب بھی اس تحریر کی تجھ کو دیکھا بھی نہیں لیکن تیری خواہش بھی ہے ریت کی دیوار سطح آب پر تعمیر کی گھر کی ویرانی در و دیوار کے اندر رہی میں نے اپنے درد کو مہلت نہ دی تشہیر کی میں نے لوح عرش پر لکھا ہوا سب پڑھ لیا لا مری آنکھوں میں مٹی دے مری تقدیر کی مہر و مہ لگتے ہیں اپنے جسم کے ذرے مجھے سوچتا ہوں کون سی منزل ہے یہ تسخیر کی لٹ چکے وہ ہاتھ شاہد جن سے مانگی تھی دعا ہاں ابھی تک ہے فضاؤں میں مہک تاثیر کی

غزل · Ghazal

vo khuun bahaa ki shahr kaa sadqa utar gayaa

وہ خوں بہا کہ شہر کا صدقہ اتر گیا اب مطمئن ہیں لوگ کہ دریا اتر گیا پھر جمع کر رہا ہوں پر کاہ سرگزشت حیران ہوں کہ ذہن سے کیا کیا اتر گیا آسیب راستے میں شجر روز و شب کے تھے جنگل کے پار میں تن تنہا اتر گیا غرقاب ہوکے سیکھی ہے گوہر شناوری پتھر نہ تھا کہ پانی میں گہرا اتر گیا مجھ کو تو بے مزہ لگا پانی کا ذائقہ وہ کون تھا جو دشت میں پیاسا اتر گیا ہاں ہار مان لی تری یادوں کے روبرو اس بار کفر سنگ میں تیشہ اتر گیا لے آئیں کس فراز پہ لفظوں کی سیڑھیاں کاغذ پہ ہو بہ ہو وہ سراپا اتر گیا آہٹ علاج ہے دل وحشت پسند کا رکھا نمک زباں پہ کہ نشہ اتر گیا شاہدؔ تلاش رزق ہے طائر کی جستجو پانی مجھے جہاں نظر آیا اتر گیا

غزل · Ghazal

mere ehsaas ki rag rag mein samaane vaale

میرے احساس کی رگ رگ میں سمانے والے اب کہاں ہیں مجھے دن رات ستانے والے دیکھ لیتے ہیں مگر آنکھ چرا جاتے ہیں دوست ہر وقت مجھے پاس بٹھانے والے بند پانی کی طرح بیکس و مجبور ہیں اب تند موجوں کی طرح شور مچانے والے ایک پتھر بھی سر راہ گزر رکھا ہے رات گہری ہے ذرا دھیان سے جانے والے کون بجھتے ہوئے سورج کی طرف دیکھے گا ہیں اجالوں کے طلب گار زمانے والے ہار کے بیٹھ گئے دھوپ کی آغوش میں خود سرد راتوں میں مرا جسم جلانے والے گر گئے ریت کی دیوار ہو جیسے شاہدؔ بن کے کوہسار مری راہ میں آنے والے

غزل · Ghazal

suraj zamin ki kokh se baahar bhi aaegaa

سورج زمیں کی کوکھ سے باہر بھی آئے گا ہوں منتظر کہ صبح کا منظر بھی آئے گا مٹی کا جسم لے کے چلے ہو تو سوچ لو اس راستے میں ایک سمندر بھی آئے گا ہر لحظہ اس کے پاؤں کی آہٹ پہ کان رکھ دروازے تک جو آیا ہے اندر بھی آئے گا کب تک یوں ہی زمین سے لپٹے رہیں قدم یہ زعم ہے کہ کوئی پلٹ کر بھی آئے گا دیکھا نہ تھا کبھی مری آنکھوں نے آئینہ احساس بھی نہ تھا کہ مجھے ڈر بھی آئے گا پتھر کے ساتھ باندھ کے دریا میں ڈالیے ورنہ یہ جسم ڈوب کے اوپر بھی آئے گا شاہدؔ بجا یہ زعم کہ گوہر شناس ہو یہ سوچ لو کہ ہاتھ میں پتھر بھی آئے گا

Similar Poets