kaise is baat par yaqin kar luun
tu haqiqat hai koi khvaab nahin

Sandeep Koul Nadim
Sandeep Koul Nadim
Sandeep Koul Nadim
Popular Shayari
2 totalshaayad savaab tum ko bhi mil jaae sab ke saath
sajde mein gir bhi jaao duaa ki kise khabar
Ghazalغزل
چشم تر ہے کوئی سراب نہیں درد دل اب کوئی عذاب نہیں کیسے اس بات پر یقیں کر لوں تو حقیقت ہے کوئی خواب نہیں موسم گل کا ذکر رہنے دے یہ مری بات کا جواب نہیں تو اگر غم سے اجنبی ہے تو حال اپنا بھی اب خراب نہیں مان لیتا ہوں میں نہیں مجنوں تیرا رخ بھی تو ماہتاب نہیں کیا کروں حسن کا تصور اب تیرے چہرے پہ جب نقاب نہیں دیر پہچاننے میں پل بھر کی یہ کوئی باعث اضطراب نہیں عمر گزری ہے معذرت کرتے غفلتیں میری بے حساب نہیں
chashm-e-tar hai koi saraab nahin
وہ میرے حال دل سے اس قدر بھی بے خبر ہوگا خبر کیا تھی کہ یوں بے حس وہ میرا ہم سفر ہوگا کہ ہم تو عمر بھر لڑنے کی خواہش لے کے آئے تھے خبر کیا تھی کہ وقت فیصلہ یوں مختصر ہوگا چراغ غم جلایا تھا اجالوں کی امیدوں میں خبر کیا تھی مری کوشش کا الٹا ہی اثر ہوگا دبے شعلوں کو بھڑکایا کہ ان کا آشیاں سلگے خبر کیا تھی جلے گا جو مرا اپنا ہی گھر ہوگا وہ جب رخصت ہوا اس کو پکارا بھی نہیں ہم نے خبر کیا تھی کی پچھتاوا ہمیں پھر عمر بھر ہوگا جہاں میری ہر اک حسرت حقیقت میں بدل جائے خبر کیا تھی مرے خوابوں کا وہ ساحل کدھر ہوگا جسے ہم ڈھونڈھتے پھرتے تھے خوابوں میں خیالوں میں خبر کیا تھی وہ صدیوں سے ہمارا منتظر ہوگا
vo mere haal-e-dil se is qadar bhi be-khabar hogaa





