SHAWORDS
Sarmad Sahbai

Sarmad Sahbai

Sarmad Sahbai

Sarmad Sahbai

poet
3Sher
3Shayari
9Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

kaun hai kis ne pukaaraa hai sadaa kaise hui

کون ہے کس نے پکارا ہے صدا کیسے ہوئی یہ کرن تاریکئ شب سے رہا کیسے ہوئی ایک اک پل میں اتر کر سوچتا رہتا ہوں میں نور کس کا ہے مرے خوں میں ضیا کیسے ہوئی خواہشیں آئیں کہاں سے کیوں اچھلتا ہے لہو رت ہری کیونکر ہوئی پاگل ہوا کیسے ہوئی اس کے جانے کا یقیں تو ہے مگر الجھن میں ہوں پھول کے ہاتھوں سے یہ خوش بو جدا کیسے ہوئی وہ مچا ہے غل کہ برہم ہو گئی ہیں صورتیں کون کس کس سے یہ پوچھے گا خطا کیسے ہوئی جسم و جاں کا فاصلہ ہے حاصل گرد سفر جستجوئے زندگی تیرا پتا کیسے ہوئی ہنس دیا تھا سن کے وہ سرمدؔ بس اتنا یاد ہے بات اس کے سامنے لیکن ادا کیسے ہوئی

غزل · Ghazal

raushni rangon mein simTaa huaa dhokaa hi na ho

روشنی رنگوں میں سمٹا ہوا دھوکا ہی نہ ہو میں جسے جسم سمجھتا ہوں وہ سایا ہی نہ ہو آئینہ ٹوٹ گیا چنتا ہوں ریزہ ریزہ اسی آئینے میں میرا کہیں چہرہ ہی نہ ہو میں تو دیوار کے اس پار رواں ہوں کب سے کوئی دیوار کے اس پار بھی چلتا ہی نہ ہو وہ جو سنتا ہے مری بات بڑے غور کے ساتھ بعد جانے کے مرے مجھ پہ وہ ہنستا ہی نہ ہو جاگتی آنکھوں میں کیوں پھیلتا جاتا ہے خلا کھا گئی ہے جسے دوری ترا رستہ ہی نہ ہو موڑ ہر راہ پہ پاؤں سے لپٹ جاتے ہیں وہ مجھے چھوڑ کے چل دے کہیں ایسا ہی نہ ہو اس کے ملنے پہ بھی محسوس ہوا ہے سرمدؔ اس نے دیکھا ہی نہ ہو میں نے بلایا ہی نہ ہو

غزل · Ghazal

kis shakhs ki talaash mein sar phoDti rahi

کس شخص کی تلاش میں سر پھوڑتی رہی سنسان جنگلوں میں ہوا چیختی رہی ماتھے پہ دھول ہاتھ میں کانٹے لیے حیات صحرا سے خوشبوؤں کا پتہ پوچھتی رہی دل بجھ گیا تو رات کی صورت تھی زندگی جب تک یہ اک چراغ رہا روشنی رہی میں آج بھی نہ اس سے کوئی بات کر سکا لفظوں کے پتھروں میں تمنا دبی رہی سنسان راستوں پہ بھٹکتی تھی چاندنی شب بھر نہ جانے کس کے لیے جاگتی رہی وہ پیڑ جو ہرا تھا بہاروں کے بعد بھی حیرت سے اس کو زرد ہوا دیکھتی رہی سورج نہ کوئی میری گلی میں اتر سکا شب بھر مرے مکان کی کھڑکی کھلی رہی

غزل · Ghazal

sadaa-e-girya jo har shaam ghar se aati hai

صدائے گریہ جو ہر شام گھر سے آتی ہے یہ بازگشت ہے دیوار و در سے آتی ہے کبھی جو آیا نہیں اور کبھی نہ آئے گا اسی کی چاپ ہر اک رہگزر سے آتی ہے کڑکتی دھوپ میں بھی دل کو اک تسلی ہے نہ جانے چھاؤں سی یہ کس شجر سے آتی ہے جسے بھی دیکھیں وہ آرائش طلب میں ہے متاع بے طلبی کس ہنر سے آتی ہے چمک دمک ہے وہی جگمگاتے رستوں پر پھر اتنی تیرگی یارب کدھر سے آتی ہے یہ کون لوگ ہیں جو ساتھ چل رہے ہیں مرے کہ بوئے غیر مجھے ہم سفر سے آتی ہے شب سیاہ میں تارہ نہ ہے چراغ کوئی جو روشنی ہے کسی چشم تر سے آتی ہے یہ ارتعاش نفس ہے روش کتابت کی جو روشنائی ہے داغ جگر سے آتی ہے دکھائی دیتی ہے تصویر غیب کب سرمدؔ نظر جو آتی ہے تیری نظر سے آتی ہے

غزل · Ghazal

dam junun ki had-e-intihaa pe Thahraa hai

دم جنوں کی حد انتہا پہ ٹھہرا ہے یہ میرا دل ہے ابھی ابتدا پہ ٹھہرا ہے اسی کے لمس سے آب و ہوا بدلتی ہے تمام منظر جاں اک ادا پہ ٹھہرا ہے کنار کن سے پرے ہے کہیں وجود اپنا یہ کارواں تو غبار صدا پہ ٹھہرا ہے کچھ اور دیر نمائش ہے شور و شر کی یہاں یہ اک حباب ہے موج فنا پہ ٹھہرا ہے شعاع صبح بن گوش میں اترتی ہے زوال مہر کہ دست حنا پہ ٹھہرا ہے شب سیاہ سر خال میں سمٹتی ہے ستارہ ٹوٹ کے بند قبا پہ ٹھہرا ہے نفس نفس میں بھڑکتی ہے دل کی لو سرمدؔ عجب چراغ ہے یہ بام ہو پہ ٹھہرا ہے

غزل · Ghazal

aankhon se pare niind ki raftaar mein rahnaa

آنکھوں سے پرے نیند کی رفتار میں رہنا ہر پل کسی نادید کے دیدار میں رہنا کھو جانا اسے دیکھ کے عریاں کے سفر میں چھوتے ہی اسے ھجلہ اسرار میں رہنا اک خواب دریدہ کو رگ حرف سے سینا پھر لے کے اسے کوچہ و بازار میں رہنا خود اپنے کو ہی دیکھ کے حیران سا ہونا نرگس کی طرح موسم بیمار میں رہنا مرنا یوں ہی ابریشم و کمخواب ہوس میں دم توڑ کے زندہ کبھی دیوار میں رہنا حسرت سی لیے خلقت معصوم میں پھرنا سازش کی طرح گردش دربار میں رہنا ہے بخت ستاروں کا ان آنکھوں میں چمکنا اور گل کا مقدر لب و رخسار میں رہنا رونق سی لیے شہر کے رستوں پہ بکھرنا تنہائی کی صورت در و دیوار میں رہنا سرمدؔ تپش نار سخن میں ہوں کہ مجھ کو گل کرتا رہا شعلہ و انگار میں رہنا

Similar Poets