chalaaungaa tesha mein ab aajizi kaa
anaa us ki mismaar ho kar rahegi

Saurabh Shekhar
Saurabh Shekhar
Saurabh Shekhar
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
پانی میں کنکر برسایا کرتے تھے وہ دن جب ہم لمحے ضائع کرتے تھے ہوڑ ہوا سے اکثر لگتی تھی اپنی اکثر اس کو دھول چٹایا کرتے تھے دیکھ کے ہم کو راہ گزر مسکاتی تھی پیڑ بھی آگے بڑھ کر چھایا کرتے تھے دھوپ بٹورا کرتے تھے ہم سارا دن شام کو بانٹ کے گھر لے جایا کرتے تھے آج گھٹا افسردہ کرتی ہے ہم کو ہم بارش میں خوب نہایا کرتے تھے ایک یہی ہم دیکھیں سب خاموشی سے ایک یہی ہم شور مچایا کرتے تھے سوربھؔ شب تھی ایک ورق سادہ جس پر لکھ لکھ کر ہم خواب مٹایا کرتے تھے
paani mein kankar barsaayaa karte the
1 views
پھوٹے من سے بول لگا یہ زندہ ہوں میں اب مجھ کو احساس ہوا یہ زندہ ہوں میں یارو میرے نام پہ رونا بند کرو تم دور ہٹاؤ اب مجمع یہ زندہ ہوں میں آنکھیں مل مل کر دیکھا قاتل نے مجھ کو سچ نکلا اس کا خدشہ یہ زندہ ہوں میں میں تصدیق کروں گا تیرے گرم لہو کی تو بھی مجھ کو یاد دلا یہ زندہ ہوں میں مجھ پر میری ذات ادھار ہے لیکن سوربھؔ چکتا کر دوں گا قرضہ یہ زندہ ہوں میں
phuTe man se bol lagaa ye zinda huun main
فضا کا حبس چیرتی ہوئی ہوا اٹھے سفر میں دھوپ ہے بہت کوئی گھٹا اٹھے پھرائے جسم پر مرے وہ انگلیاں ایسے کہ ساز روح میرا آج جھنجھنا اٹھے جو اور کچھ نہیں تو جگنوؤں کو کر رقصاں سیاہ شب ذرا ذرا سی جگمگا اٹھے مری طرح تمام لوگ بے زباں تو نہیں کسی طرف کسی جگہ سے مسئلہ اٹھے مرا فتور خود صدائیں دے مجھے منزل قدم کو چومنے مرے یہ راستہ اٹھے نہ جانے صحبتوں میں اس کی کیسا ہے نشہ کہ در سے ہر اک شخص جھومتا اٹھے کرو تو زندگی میں ایسا کچھ کرو سوربھؔ مری نظر میں تیرا یار مرتبہ اٹھے
fazaa kaa habs chirti hui havaa uThe
آخرش آرائشوں کی زندگی چبھنے لگی اوب سی ہونے لگی مجھ کو خوشی چبھنے لگی میں نہ کہتا تھا کہ تھوڑی سی ہوس باقی رکھو دیکھ لو اب اس طرح آسودگی چبھنے لگی خواب کا سیلاب کیا گزرا نگاہوں سے مری ریت پلکوں سے جو چپکی نیند بھی چبھنے لگی تیرگی کا دشت ناپا روشنی کے واسطے روشنی پھیلی تو مجھ کو روشنی چبھنے لگی سخت ایک لمحے کی رو میں آ کے توبہ کر گئے حلق میں میرے مگر اب تشنگی چبھنے لگی اک پشیمانی سی تھی مجھ کو مری آواز سے اور جب میں چپ ہوا تو خامشی چبھنے لگی یہ بھی کیا ہے بھید میرا کھول دو تم بارہا یار سوربھؔ اب تو تیری مخبری چبھنے لگی
aakhirash aaraaishon ki zindagi chubhne lagi
یقین مر گیا مرا گمان بھی نہیں بچا کہیں کسی خیال کا نشان بھی نہیں بچا خموشیاں تمام غرق ہو گئیں خلاؤں میں وہ زلزلہ تھا صاحبو بیان بھی نہیں بچا ندی کے سر پہ جیسے انتقام سا سوار تھا کہ باندھ فصل پل بہے مکان بھی نہیں بچا ہجوم سے نکل کے بچ گیا ادھر وہ آدمی ادھر ہجوم کے میں درمیان بھی نہیں بچا زمیں درک گئی سلگتی بستیوں کی آگ سے غبار وہ اٹھا کہ آسمان بھی نہیں بچا بکھرتی ٹوٹتی فصیل نیو کو ہلا گئی کہ داغ ذات پر تھا خاندان بھی نہیں بچا تمام مشکلوں کو ہم نے نیند میں دبا دیا کھلا یہ پھر کہ کوئی امتحان بھی نہیں بچا
yaqin mar gayaa miraa gumaan bhi nahin bachaa
ملا نہ کھیت سے اس کو بھی آب و دانہ کیا کسان شہر کو پھر اک ہوا روانہ کیا کہاں سے لائے ہو پلکوں پہ تم گہر اتنے تمہارے ہاتھ لگا ہے کوئی خزانہ کیا فضا کا حبس کسی طور اب نہیں جاتا کہ تلخ دھوپ کیا موسم کوئی سہانا کیا تمام طرح کے سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں میاں مذاق گرہستی کو ہے چلانا کیا گناہ کچھ تو مجھے بے طرح لبھاتے ہیں یہ راز کھول ہی دیتا ہوں اب چھپانا کیا ہو دشمنی بھی کسی سے تو دائمی کیوں ہو جو ٹوٹ جائے ذرا میں وہ دوستانہ کیا خبر نویس نہیں ہوں میں ایک شاعر ہوں تمام مصرعے ہیں میرے نیا پرانا کیا نہ دھر لے روپ کبھی جھونک میں تلاطم کا وہ نرم رو ہے ندی کا مگر ٹھکانا کیا کرو تو منہ پہ ملامت کرو مری سوربھؔ یہ میری پیٹھ کے پیچھے سے پھسپھسانا کیا
milaa na khet se us ko bhi aab-o-daana kyaa





