utni hi nigaahon ki miri pyaas baDhi hai
jitni ki tujhe dekh ke taskin hui hai
Shahab Ashraf
Shahab Ashraf
Shahab Ashraf
Popular Shayari
2 totalkhuun ye jaataa ragon se phuuT kar
ro liye to dil zaraa halkaa huaa
Ghazalغزل
کیا کہیں یارو کیا کیا ہم پر عشق خرابی لایا ہے آنکھ سے لے کر دل تک جیسے اک دھندلکا چھایا ہے جیسے دھنک آکاش پہ نکلے بادل کے چھٹ جانے پر یوں ہی تیرے غم میں رو کر وقت سہانا آیا ہے میری بات نہ سننے والے پوچھ اس سے تو حال مرا آنسو ایک فسانہ بن کے پلکوں پر تھرایا ہے بیت گئی ہے دل پہ قیامت لب پہ شکایت لا نہ سکے آپ کو کیا معلوم کہ ہم نے جان کے دھوکا کھایا ہے میری غزل کے آئینے میں دیکھ کے اپنا رنگ جمال کس کس ناز سے سر کو جھکا کر کیا کیا وہ شرمایا ہے رات حسینوں کے جمگھٹ میں کیا کیا ناز کے پھول کھلے ساز طرب کی چھیڑ سے لیکن اور بھی دل گھبرایا ہے راہ سے تیری ہٹ جانے کا جب بھی ہم نے عہد کیا اک اک نقش قدم نے اٹھ کر پہروں ہمیں سمجھایا ہے شاید اب کے بار تو ان سے صلح نہ ہو اس جنگ کے بعد اب کے اپنے آپ کو ہم نے سنجیدہ سا پایا ہے ایسی کیا تھی تجھ سے شکایت ایسا کیا تھا تجھ سے ملال آج تری ادنیٰ سی عنایت دیکھ کے دل بھر آیا ہے
kyaa kahein yaaro kyaa kyaa ham par ishq kharaabi laayaa hai
جاگا نصیب کانپ اٹھی ظلمت حیات جب ہاتھ میں لیا ہے محبت سے تو نے ہات گھبرائے گا بہت دل غمگیں ترے بغیر رہنے دے یہ خلوص یہ چاہت یہ التفات برکھا کی سانولی سی سحر رنگ روپ میں شانوں پہ جھومتی ہوئی وہ مالوے کی رات ماتھے پہ صبح علم کی پو پھوٹتی ہوئی آنکھوں میں جیسے کھیلتی ہو روح کائنات دل میں گھٹی گھٹی سی رہے گی کہاں تلک آ جاؤ کہہ دوں کان میں چپکے سے ایک بات لو دے اٹھا ہے تار ہر اک تھرتھرا کے آج کن انگلیوں نے چھیڑ دیا بربط حیات
jaagaa nasib kaanp uThi zulmat-e-hayaat
خون میں ڈوبے سورج کی کرنوں میں یہی سنگیت ہے یارو سب کچھ دینا کچھ بھی نہ لینا فطرت کی یہ ریت ہے یارو کھیل نہ جانے کتنے ہم نے بنتے اور بگڑتے دیکھے ہار کے بازی کیا روتے ہو دنیا کی یہ ریت ہے یارو تتلی کی پھولوں پر تھرکن اور مگس کی محنت پیہم یہ محنت اور تھرکن مل کر جیون کا سنگیت ہے یارو ہم شاعر ہیں خود کو مٹا کر اوروں کا دل بہلاتے ہیں سینے میں ناسور ہے لیکن ہونٹوں پر سنگیت ہے یارو قدم قدم پر اس دنیا نے کیسے کیسے درد دیے ہیں پھر بھی اس ظالم دنیا سے دل کو کتنی پریت ہے یارو اس دنیا کے سناٹے میں اس آباد سے ویرانے میں سچائی اور سندرتا ہی ایک سہانا گیت ہے یارو خواب ہمیشہ ٹوٹ گئے ہیں تلخ حقائق سے ٹکرا کر لیکن ان ٹوٹے خوابوں سے دل کو کتنی پریت ہے یارو
khuun mein Duube suraj ki kirnon mein yahi sangit hai yaaro
ذرے چمک اٹھے ہیں جدھر سے گزر گئے دنیا ٹھہر گئی ہے جہاں تم ٹھہر گئے کل ہی ملے تھے آج یہ ہونے لگا خیال دیکھے ہوئے کسی کو مہینے گزر گئے اے اضطراب شوق برا ہو ترا کہ ہم جاتے بھلا کسی کی گلی میں مگر گئے تیرا بھلا ہو تیری محبت کے چار دن دنیا کسی غریب کی برباد کر گئے اے رات کیا تجھے بھی کسی کا ہے انتظار پلکوں سے کیوں یہ ٹوٹ کے تارے بکھر گئے اک بار پڑھ کے نام ترا آج دفعتاً دل پر نقوش عہد محبت ابھر گئے مجبوریوں نے بڑھ کے وہیں دل دبا دیا نظریں بچا کے پاس سے ان کے گزر گئے شرما کے ایک بار ذرا مسکرا تو دو دیکھو گلوں کے باغ میں چہرے اتر گئے کیا جانے کیا گزرتی کبھی تم سے چھوٹ کر تم نے نہ کی نباہ یہ احسان کر گئے دل پر کسی کی چشم عنایت بھی بار تھی ایسے بھی دن شہابؔ کچھ اپنے گزر گئے
zarre chamak uThe hain jidhar se guzar gae





