"tu idhar udhar ki na baat kar ye bata ki qafile kyuun luTe tiri rahbari ka saval hai hamen rahzan se gharaz nahin"

Shahab Jafri
Shahab Jafri
Shahab Jafri
Sherشعر
tu idhar udhar ki na baat kar ye bata ki qafile kyuun luTe
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹے تری رہبری کا سوال ہے ہمیں راہزن سے غرض نہیں
chale to paanv ke niche kuchal ga.i koi shai
چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے
paanv jab simTe to raste bhi hue takiya-nashin
پاؤں جب سمٹے تو رستے بھی ہوئے تکیہ نشیں بوریا جب تہ کیا دنیا اٹھا کر لے گئے
qalandari miri puchho ho dostan-e-junun
قلندری مری پوچھو ہو دوستان جنوں ہر آستاں مری ٹھوکر ث جانا جاتا ہے
Popular Sher & Shayari
8 total"chale to paanv ke niche kuchal ga.i koi shai nashe ki jhonk men dekha nahin ki duniya hai"
"paanv jab simTe to raste bhi hue takiya-nashin boriya jab tah kiya duniya uTha kar le ga.e"
"qalandari miri puchho ho dostan-e-junun har astan miri Thokar se jaana jaata hai"
tu idhar udhar ki na baat kar ye bataa ki qaafile kyuun luTe
tiri rahbari kaa savaal hai hamein raahzan se gharaz nahin
paanv jab simTe to raste bhi hue takiya-nashin
boriyaa jab tah kiyaa duniyaa uThaa kar le gae
qalandari miri puchho ho dostaan-e-junun
har aastaan miri Thokar se jaanaa jaataa hai
chale to paanv ke niche kuchal gai koi shai
nashe ki jhonk mein dekhaa nahin ki duniyaa hai
Ghazalغزل
be-sar-o-saamaan kuchh apni taba se hain ghar mein ham
بے سر و ساماں کچھ اپنی طبع سے ہیں گھر میں ہم شہر کہتے ہیں جسے ہیں اس کے پس منظر میں ہم شام ڈوبی پڑ رہے سورج کے در پر شب کی شب صبح بکھری چل پڑے خود کو لیے ٹھوکر میں ہم آگہی تو نے ہمیں کن وسعتوں میں گم کیا بے نشاں ہر ملک میں بے آسرا ہر گھر میں ہم اپنے ہی صحرا میں کھو جائیں گے اندازہ نہ تھا بازگشت اپنی لیے پھرتے ہیں اپنے سر میں ہم ساتویں در تک پکار آئی خودی کو بے خودی اور ہر در سے جواب آیا نہیں ہیں گھر میں ہم تیری دستک تھی کہ سناٹا وہی ہر شام کا رہرو کوہ ندا ہیں گھر کے بام و در میں ہم چار سو صحرا میں ہے درد انا الصحرا کی گونج کاٹ کر اپنی زباں رکھ آئے تھے پتھر میں ہم چھان یہ صحرا گھٹی ہیں اس کی چوحد میں صدائیں کاٹ یہ پربت دبے ہیں اس کی خاکستر میں ہم اب ہمیں بھاتا نہیں پیہم صداؤں کا نزول اب تو خود گونجے ہوئے ہیں گنبد بے در میں ہم کیاں مکاں تاکا ہے دل نے رات اور دن سے پرے بے زباں ہوتے چلے ہیں قید بام و در میں ہم جانے اس رہرو کی نظریں کون سی منزل پہ ہوں ایک کانٹا سا کھٹکتے ہیں دل رہبر میں ہم زہر کا پیالہ ہو پینا یا اٹھانی ہو صلیب صدیوں بعد آئیں مگر ہوتے ہیں اس منظر میں ہم دشت در دشت آسماں بر دوش چلتے ہیں شہابؔ ہم سے بنجارے جنم اپنا لیے ٹھوکر میں ہم
ye mahshar-e-soz-o-saaz kyaa hai
یہ محشر سوز و ساز کیا ہے آخر مرا امتیاز کیا ہے دل محو صدائے درد کیوں ہے یہ عرض ہنر گداز کیا ہے مفہوم نوائے راز کیا تھا آواز شکست ساز کیا ہے ڈرتا ہوں کہ اپنا غم نہ ہو جائے اپنے سے یہ احتراز کیا ہے پا کر بھی تجھے میں سوچتا ہوں مٹنے کا مرے جواز کیا ہے اب تو جو ملا تو میں نہیں ہوں مجھ سے ترا امتیاز کیا ہے کس کس کو بھلا چکا ہوں اے غم یہ بے دلیٔ نیاز کیا ہے اکثر تو ترا برا بھی چاہا کیا جانئے خود پہ ناز کیا ہے
luTne vaalo dil-e-barbaad ki tauqir na jaae
لٹنے والو دل برباد کی توقیر نہ جائے گھر چلا جائے مگر حسرت تعمیر نہ جائے شہر نو قلعۂ دل کیسا کھنڈر ہے کہ جہاں کوئی سیاح نہ آئے کوئی رہ گیر نہ جائے میں تو خود خوابوں کو تعبیر سے کر دوں محروم خواب ایسے ہیں کہ جن سے غم تعبیر نہ جائے شہر سے قافلے لوٹے ہیں یہ کہتے سوئے دشت اس خرابے میں کوئی صاحب توقیر نہ جائے جانے کس شعلے سے گوندھی گئی مٹی میری آندھیاں چلتی رہیں خاک کی تنویر نہ جائے
qaid-e-imkaan se tamannaa thi gamin chhuT gai
قید امکاں سے تمنا تھی گمیں چھوٹ گئی پاؤں ہم نے جب اٹھایا تو زمیں چھوٹ گئی لیے جاتا ہے خلاؤں میں جمال شب و روز دن کہیں چھوٹ گیا رات کہیں چھوٹ گئی زندگی کیا تھی میں اک موج کے پیچھے تھا رواں اور وہ موج کہ ساحل کے قریں چھوٹ گئی بود و باش اپنی نہ پوچھو کہ اسی شہر میں ہم زندگی لائے تھے گھر سے سو یہیں چھوٹ گئی دل سے دنیا تک اک ایسا ہی سفر تھا جس میں کہیں دل اور کہیں دنیائے حسیں چھوٹ گئی صبح دم دل کے مکاں سے سبھی رشتے ٹوٹے در و دیوار سے فریاد مکیں چھوٹ گئی کیا غریب الوطنی سی ہے غریب الوطنی آسماں ساتھ چلا گھر کی زمیں چھوٹ گئی
havas-e-zulf-e-girah-gir liye baiThe hain
ہوس زلف گرہ گیر لیے بیٹھے ہیں آیت شوق کی تفسیر لیے بیٹھے ہیں آسماں ساتھ چلا گھر کی زمیں دور ہوئی تجھ سے دور اک رہ دلگیر لیے بیٹھے ہیں وجہ تعزیر ہوئی بے وطنی بھی جب سے عنبریں ہاتھوں کی تحریر لیے بیٹھے ہیں آپ سے آپ وہ کھلتی ہوئی زلفیں تیری اب اسی سوگ کی تصویر لیے بیٹھے ہیں ہائے کیا عہد جوانی و محبت ہے کہ ہم اک نہ اک مرنے کی تدبیر لیے بیٹھے ہیں زندگی بے در و دیوار مکاں ہے کوئی کب سے اک حسرت تعمیر لیے بیٹھے ہیں کوئی اپنوں ہی میں قاتل ہے تو ہم چپ سے شہابؔ زخم کھائے ہوئے شمشیر لیے بیٹھے ہیں





