faanus ban ke jis ki hifaazat havaa kare
vo shama kyaa bujhe jise raushan khudaa kare

Shaheer Machlishahri
Shaheer Machlishahri
Shaheer Machlishahri
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
بن باس ہوئے جوگ لیا یار کی خاطر دکھ سہنے کو سکھ چین تجا یار کی خاطر سہتا ہوں سبھی جور و جفا یار کی خاطر ہر طرح ہوں راضی بہ رضا یار کی خاطر دل دے دیا میں نے اگر ان کو تو عجب کیا کرتے ہیں سبھی شاہ و گدا یار کی خاطر وہ منزل دشوار ہو یا وادیٔ پر خار طے کرتا ہوں میں آبلہ پا یار کی خاطر فرماتے ہیں وہ شکوۂ بیداد و جفا پر کرتے ہیں سبھی اہل وفا یار کی خاطر ہر ایک سے دنیا میں کیا ترک تعلق اپنوں سے بھی بیگانہ ہوا یار کی خاطر مرنا بھی پئے دوست حیات ابدی ہے ہر زہر فنا آب بقا یار کی خاطر جینا پڑا مر مر کے محبت میں شہیرؔ آہ جو کچھ نہ ہوا تھا وہ ہوا یار کی خاطر
ban-baas hue jog liyaa yaar ki khaatir
اے اجل آ فراق یار میں آ کب سے ہوں تیرے انتظار میں آ کیا ترا کام وصل میں اے نیند ہجر میں کلہ مرے مزار میں آ کہتی ہے پائے شوق سے وحشت سوئے صحرا ہوائے خار میں آ جیتے جی سیر خلد کر اے شیخ آ مرے ساتھ کوئے یار میں آ اے غم مرگ آرزو نہ بھٹک تو مرے قلب سوگوار میں آ جس طرح آتی ہے خوشی دل میں نہیں اے موت ہجر یار میں آ ان سے قول و قرار ہوتا ہے اب تو اے دل ذرا قرار میں آ کنج عزلت سے اے شہیرؔ نکل بزم رندان بادہ خوار میں آ
ai ajal aa firaaq-e-yaar mein aa
زیادہ ساز و ساماں کچھ نہیں اے باغباں میرا بنا ہے چار تنکوں سے چمن میں آشیاں میرا شباب بے وفا کی کس سے اے پیری خبر ملتی پھرا اب تک نہ جا کر قاصد عمر رواں میرا وفا داری کے جوہر آپ ہو جائیں گے آئینہ تمہیں خود حال کھل جائے گا وقت امتحاں میرا رواں ہے قافلہ اشکوں کا ہر دم چشم گریاں سے چلا جاتا ہے روز و شب برابر کارواں میرا ادائے عرض مطلب میں غضب کی کامیابی ہے عجب حسن طلب رکھتا ہے انداز فغاں میرا تفاوت ہے زمین و آسماں کا عجز و نخوت میں خیال حسن و عشق اے دل کہاں ان کا کہاں میرا شب فرقت کا سویا شور صبح حشر سے چونکا شہیرؔ اس سے زیادہ ہوگا کیا خواب گراں میرا
ziyaada saaz-o-saamaan kuchh nahin ai baaghbaan meraa
میرے پہلو میں ہے وہ رشک قمر آج کی رات جا کے غیروں میں رہے درد جگر آج کی رات نیند کا وصل میں ہوگا نہ گزر آج کی رات رت جگا آ کے کرے گی مرے گھر آج کی رات کس کے گھر جائے گا وہ رشک قمر آج کی رات چاند نکلے گا خدا جانے کدھر آج کی رات یہ شب وصل شب ہجر سے یا رب بڑھ جائے روز فردا کی کبھی ہو نہ سحر آج کی رات زلف کی آڑ میں دل لے اڑی شوخئ نگاہ پا گئی ڈھونڈھتی تھی جس کو نظر آج کی رات کٹنے والی نظر آتی نہیں یہ ہجر کی شب ہو نہیں سکتی کسی طرح بسر آج کی رات نہ کسی سمت سے آواز اذاں آتی ہے بولتا ہے نہ کہیں مرغ سحر آج کی رات رخصت اے زیست کہ شام شب غم آتی ہے اپنا اس دار فنا سے ہے سفر آج کی رات زندگانی کا نتیجہ ہے یہی مدت وصل حاصل عمر ہیں یہ چار پہر آج کی رات
mere pahlu mein hai vo rashk-e-qamar aaj ki raat
کوئی نہیں ہے کشتۂ بے دل کے آس پاس پھرتی ہے بے کسی ترے بسمل کے آس پاس رہتی تھیں پہلے حسرتیں جو دل کے آس پاس دم توڑتی ہیں اب وہی بسمل کے آس پاس لیلیٰ کو کچھ پیام سنانا ہے قیس کا باد صبا ہے پردۂ محمل کے آس پاس ہے حکم یاس شادیٔ امید کے لئے ہرگز پھٹکنے پائے نہ یہ دل کے آس پاس پھندے لگاتے پھرتے ہیں صیاد باغ میں شاخوں پر آشیان عنادل کے آس پاس ارمانوں کا ہے وصل میں تانتا بندھا ہوا کچھ دور دور ہیں ابھی کچھ دل کے آس پاس عشاق قتل ہو گئے سب قتل گاہ میں باقی نہیں رہا کوئی قاتل کے آس پاس کیا بے حجاب قیس سے لیلیٰ ہو نجد میں پردے پڑے ہیں شرم کے محمل کے آس پاس ہے یاد چشم یار میں مژگاں کی بھی خلش کچھ خار بھی ہیں آئنۂ دل کے آس پاس یوں میرے گرد کوہ کن و قیس ہیں شہیرؔ جیسے مرید مرشد کامل کے آس پاس
koi nahin hai kushta-e-be-dil ke aas-paas





