thaa shaakh par gulaab baDi shaan se magar
juuDe mein tere aur tarahdaar ho gayaa

Shakeel Ibn
Shakeel Ibn
Shakeel Ibn
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
حصول عظمت ماضی کا خواب رکھتے ہیں کہاں ہم آج بھی اپنا جواب رکھتے ہیں جو حق عزیز و اقارب کا داب رکھتے ہیں وہی زمیں پہ بنائے عذاب رکھتے ہیں لویں تم اپنے چراغوں کی اپنے پاس رکھو ہم اپنے ساتھ کئی آفتاب رکھتے ہیں میرے کریم تری رحمتوں کے صدقے میں گناہ گار امید ثواب رکھتے ہیں خیال پرسش اعمال کا نہیں ہے انہیں جو زیر دستوں کو زیر عتاب رکھتے ہیں خیال یار غم روزگار فکر معاش ہم ایک جان کو کتنے عذاب رکھتے ہیں کب ان کے سامنے کام آئی اپنی لفاظی وہ ہر سوال کے سو سو جواب رکھتے ہیں
husul-e-azmat-e-maazi kaa khvaab rakhte hain
خود کو روک اس گلی میں جانے سے باز آ آبرو گنوانے سے عام ہونے لگی ہوس کاری پیار اٹھنے لگا زمانے سے آسماں کا نہیں بگڑنا کچھ چند تاروں کے ٹوٹ جانے سے آشنا اس گلی میں کوئی نہیں ہم وہاں جائیں کس بہانے سے بات بنتی نظر نہیں آتی زلف الجھی ہوئی ہے شانے سے جب بگڑتا ہے وقت کا تیور بات بنتی نہیں بنانے سے کوئی ہوتا نہیں کسی کا شکیلؔ فائدہ کیا فریب کھانے سے
khud ko rok us gali mein jaane se
بات ضد کی ہے سوال آئینہ خانے کا نہیں تم بلاؤ گے بھی مجھ کو تو میں آنے کا نہیں قرض کی شکل میں ہر سانس ادا ہوتی ہے زندگی ہے یہ کوئی خواب دوانے کا نہیں وقت کے جبر سے محفوظ نہ رہ پاؤ گے حوصلہ تم میں اگر ضرب لگانے کا نہیں لوٹنے والے مجھے تو بھی پشیماں ہوگا گھر کا تخمینہ ہے نقشہ یہ خزانے کا نہیں وقت معشوق نہیں ہے کہ منا لو گے اسے روٹھ جائے گا تو پھر لوٹ کے آنے کا نہیں گھر پہ آئے ہوئے مہمان سے منہ پھیرتے ہو یہ طریقہ تو شریفوں کے گھرانے کا نہیں ان ہواؤں کی اعانت بھی ضروری ہے شکیلؔ مسئلہ صرف چراغوں کو جلانے کا نہیں
baat zid ki hai savaal aaina-khaane kaa nahin
چلتے ہوئے اک روز ٹھہر جائیں گے ہم بھی دریا ہیں سمندر میں اتر جائیں گے ہم بھی اب بیٹھ کے زخموں سے لہو پونچھ رہا ہے پہلے تو وہ سمجھا تھا کہ ڈر جائیں گے ہم بھی یہ کیا کہ ہر الزام ہمارے ہی سر آئے آئینہ بنو تم تو سنور جائیں گے ہم بھی توڑیں گے نہیں اپنے قبیلے کی روایت ہنستے ہوئے مقتل سے گزر جائیں گے ہم بھی بھاتی ہے ہمیں بھی در و دیوار کی خوشبو کچھ خواب کما لیں گے تو گھر جائیں گے ہم بھی اخلاص کے رشتہ نے ہمیں باندھ رکھا ہے دشمن یہ سمجھتا تھا بکھر جائیں گے ہم بھی شرمندہ ہوا گھر میں وہ کچھ دیر لگا کر سمجھا تھا صدا دے کے گزر جائیں گے ہم بھی
chalte hue ik roz Thahar jaaeinge ham bhi





