duur tak phailaa huaa hai ek an-jaanaa saa khauf
is se pahle ye samundar is qadar barham na thaa
Shamim Farooqui
Shamim Farooqui
Shamim Farooqui
Popular Shayari
2 totalhasin rut hai magar kaun ghar se niklegaa
har ik badan mein samaayaa huaa hai Dar ab ke
Ghazalغزل
اندھیری شب ہے کہاں روٹھ کر وہ جائے گا کھلا رہے گا اگر در تو لوٹ آئے گا جو ہو سکے تو اسے خط ضرور لکھا کر تجھے وہ میری طرح ورنہ بھول جائے گا بہت دبیز ہوئی جا رہی ہے گرد ملال نہ جانے کب یہ دھلے گی وہ کب رلائے گا لگے ہوئے ہیں نگاہوں کے ہر جگہ پہرے کہاں متاع سکوں جا کے تو چھپائے گا اسے بھی چاہیئے اک جسم اور مجھے پانی اسی لئے وہ سمندر مجھے بلائے گا ابھی یہ شام کا منظر بہت حسیں ہے شمیمؔ ڈھلے گی رات تو آ کر یہی ڈرائے گا
andheri shab hai kahaan ruuTh kar vo jaaegaa
تیری محبتوں کے گرفتار آ گئے یعنی اذیتوں کے طلب گار آ گئے یہ جانتے ہوئے کہ خریدار ہی نہیں ہم خواب بیچنے سر بازار آ گئے دیکھا کہ بزم یار میں غیروں کی بھیڑ ہے چپ چاپ اٹھ کے ہم پس دیوار آ گئے اک پھول اپنے وقت سے پہلے مہک اٹھا جانے کہاں کہاں سے خریدار آ گئے بس ایک بار کوچۂ جاناں کا رخ کیا پھر اس کے بعد خود ہی سر دار آ گئے
teri mohabbaton ke giraftaar aa gae
شرمیلی چھوئی موئی عجب موہنی سی تھی ندی یہ گاؤں میں تھی تو کتنی بھلی سی تھی صحرا بھی تھا اداس سمندر بھی تھا خموش لیکن وہی جنوں وہی دیوانگی سی تھی پانی کے انتظار میں خالی گھڑے کے پاس کچھ شوخ شوخ رنگ تھے کچھ دل کشی سی تھی سوکھی ہوئی ندی کو سمندر کی تھی تلاش اس خواہش فضول میں کیا سادگی سی تھی ہونٹوں سے گر رہے تھے وفاؤں کے آبشار لیکن دلوں میں گرد کدورت جمی سی تھی دریائے غم میں شہر کا ہر فرد غرق تھا ساحل کے آس پاس فضا ماتمی سی تھی اس شخص سے شمیمؔ کا رشتہ عجیب تھا کچھ دشمنی کا رنگ تھا کچھ دوستی سی تھی
sharmili chhui-mui ajab mohni si thi





