Shamsa Najm
aansu hain aur na aah-o-zaari haiik ajab dil ko be-qaraari hai
اب بھی رہتا ہے خیالوں میں سمایا ہوا شخص اپنی نادانی سے رستے میں گنوایا ہوا شخص میری قسمت میں نہیں تھا سو وہ میرا نہ ہوا ہائے وہ خاص عنایت سے بنایا ہوا شخص جو بھی کوشش کی بھلانے کی وہ ناکام رہی دل سے جاتا ہی نہیں دل میں سمایا ہوا شخص کتنی آسانی سے دنیا نے اسے چھین لیا ایک مدت کی ریاضت سے کمایا ہوا شخص میں نے تو ترک تعلق کی قسم کھائی تھی یاد کیوں آتا ہے مجھ کو وہ بھلایا ہوا شخص میں نے رکھا تھا جسے راز وہ پنہاں نہ رہا میرے چہرے سے عیاں ہے وہ گنوایا ہوا شخص ان دعاؤں کے حوالے سے گریزاں ہوا کیوں جن کے باعث ہے یہ تخلیق میں آیا ہوا شخص ناگہانی میں اچانک بھی چلے جاتے ہیں لوگ کیا بلاوے پہ فقط جائے گا آیا ہوا شخص فاصلے سارے مٹا دیتی ہے چاہت شمسہؔ دل کے نزدیک ہے وہ دور سے آیا ہوا شخص
ab bhi rahtaa hai khayaalon mein samaayaa huaa shakhs