SHAWORDS
Sohil Barelvi

Sohil Barelvi

Sohil Barelvi

Sohil Barelvi

poet
1Shayari
37Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 37
غزل · Ghazal

تھوڑا بہت ملا تو لگا غم عجیب ہے ملتا رہا تو کہہ دیا ہمدم عجیب ہے میں ہی سنوں گا یا اسے سن پائے گا خدا جو شور میرے اندروں پیہم عجیب ہے مجھ میں بنا چکے ہیں کئی رفتگاں مکان وہ گھر جو اور گھر سے تو اک دم عجیب ہے والد ہمارے دوست کے یہ کہہ رہے تھے آج بیٹا ہمارا جونؔ سے کچھ کم عجیب ہے چارہ گری بھی کر رہی اب مسئلے کھڑے ناسور زخم ہو گئے مرہم عجیب ہے پہلے ہی کھو چکا ہوں میں اپنے عزیز تر اس پر یہ کائنات بھی برہم عجیب ہے میں دب رہا ہوں عشق میں احساں تلے ترے مجھ پر جو گر رہی ہے وہ شبنم عجیب ہے

thoDaa bahut milaa to lagaa gham ajiib hai

غزل · Ghazal

تمہاری رضا میں ہماری رضا ہے تمہیں یہ پتہ ہے تمہارا خدا ہی ہمارا خدا ہے تمہیں یہ پتہ ہے جو گزرا تھا ہم پہ کبھی حادثہ وہ جگر میں چھپا تھا وہی حادثہ اب ابھرنے لگا ہے تمہیں یہ پتہ ہے کہ جس کے سبب ہیر رانجھا زمانہ کے دشمن بنے تھے اسی عشق کا بھوت تم پر چڑھا ہے تمہیں یہ پتہ ہے فقط ایک ہم ہی جہاں سے الگ ہو کے زندہ نہیں ہیں تمہیں بھی جہاں سے چھپا کے رکھا ہے تمہیں یہ پتہ ہے تمہاری طرف شام ہوتے ہی اب تو قدم چل پڑے ہیں تمہاری نگاہوں میں اک میکدہ ہے تمہیں یہ پتہ ہے تمہیں لگ رہا ہے تمہارے ستم پر نظر ہی نہیں ہے مسلسل خدا بھی تمہیں دیکھتا ہے تمہیں یہ پتہ ہے پرانے خیالوں کو سوہلؔ رفو کر رہے ہو فقط تم جو تم نے لکھا ہے وہ سب لکھ چکا ہے تمہیں یہ پتہ ہے

tumhaari razaa mein hamaari razaa hai tumhein ye pata hai

غزل · Ghazal

اپنا ہی چوٹ دے کے کوئی جب چلا گیا الزام میرے زخم کا مجھ پر ہی آ گیا پھر دوسری کتاب میں میرا نہ دل لگا یعنی تمہارے بعد بھی تم کو پڑھا گیا جینے کی میرے وجہ کوئی بھی نہیں رہی تو آخری امید تھا تو بھی چلا گیا تنگ آ کے زندگی سے میں مرنے پہ تھا بضد اتنے میں ایک ہاتھ مرے سر پہ آ گیا اک عمر تیری جستجو میں مبتلا رہا اک عمر تیری یاد میں تنہا رہا گیا کچھ دیر مجھ کو غور سے سب دیکھتے رہے کچھ دیر بعد زور سے مجھ کو سنا گیا دو چار دن ہی آنکھ میں آنسو میں رکھ سکا دو چار دن میں حادثہ دل میں سما گیا جو درد کہہ سکا نہ کسی غم گسار سے صد شکر ہے کہ وہ مری غزلوں میں آ گیا سوہلؔ وہ ایک شخص جو سنتا تھا حال دل ناساز ہم کو جان کے چھٹکارا پا گیا

apnaa hi choT de ke koi jab chalaa gayaa

غزل · Ghazal

دل کے ماروں سے بات کرتا ہوں اپنے یاروں سے بات کرتا ہوں رات تنہا گزر ہی جاتی ہے جب ستاروں سے بات کرتا ہوں سب کو بس پھول سے محبت ہے میں ہی خاروں سے بات کرتا ہوں تیرے ہوتے ہوئے زمانہ میں میں ہزاروں سے بات کرتا ہوں وقت پر کام کیوں نہیں آئے غمگساروں سے بات کرتا ہوں ایک مدت کیا خزاں کا سفر اب بہاروں سے بات کرتا ہوں مے کو بھر کر گلاس میں سوہلؔ آبشاروں سے بات کرتا ہوں

dil ke maaron se baat kartaa huun

غزل · Ghazal

بات اچھی بری لگی اس کو کوئی دکھلائے روشنی اس کو ایک بیمار ہے بہت بیمار کاش آ جائے موت ہی اس کو ایک لڑکی مجھے جو دیوی ہے کیوں ستاتا ہے آدمی اس کو اپنا یہ جسم بھی نہیں اپنا کون سمجھائے ہر گھڑی اس کو اس کے ہونے سے چل رہی دھڑکن میں نے دے دی ہے زندگی اس کو کام آتا ہوں یار کے اب بھی راس آتی ہے شاعری اس کو

baat achchhi buri lagi us ko

غزل · Ghazal

جہاں تو ہے وہاں پر ہر خوشی ہے مری جاں تو بہار زندگی ہے نہ جانے کیوں مجھے بھی لگ رہا ہے محبت سے بڑی شے دوستی ہے برس کر خشک تو تو ہو چکا ہے مرے لب پر ابھی تک تشنگی ہے تری تصویر کو میں دیکھتا ہوں تری تصویر مجھ کو دیکھتی ہے ابھی ہاتھوں کو میرے چھوڑنا مت ذرا سی دیر کی بس تیرگی ہے محبت آپ کی دے کر خدا نے کمی پیدائشی پوری کری ہے ہمارے زخم کا چارہ نہیں ہے ہمارے پاس کیول شاعری ہے

jahaan tu hai vahaan par har khushi hai

Similar Poets