SHAWORDS
Suroor Barabankvi

Suroor Barabankvi

Suroor Barabankvi

Suroor Barabankvi

poet
2Sher
2Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

chaman mein laala-o-gul par nikhaar bhi to nahin

چمن میں لالہ و گل پر نکھار بھی تو نہیں خزاں اگر یہ نہیں ہے بہار بھی تو نہیں تمازت غم دوراں سے پھنک رہی ہے حیات کہیں پہ سایۂ گیسوئے یار بھی تو نہیں خیال ترک محبت بجا سہی لیکن اب اپنے دل پہ ہمیں اختیار بھی تو نہیں کبھی تو جان وفا ہے کبھی ہے دشمن جاں تری نظر کا کوئی اعتبار بھی تو نہیں بایں تغافل پیہم ستم تو یہ ہے سرورؔ میں اس کی خاطر نازک پہ بار بھی تو نہیں

غزل · Ghazal

aarzu jin ki hai un ki anjuman tak aa gae

آرزو جن کی ہے ان کی انجمن تک آ گئے نکہت گل کے سہارے ہم چمن تک آ گئے بے رخی سے آپ جب بیگانہ پن تک آ گئے آج ہم بھی جرأت جرم سخن تک آ گئے مے کدہ پھر بھی غنیمت ہے جہاں اس دور میں ایک ہی مرکز پہ شیخ و برہمن تک آ گئے جل بجھے اہل جنوں لیکن کسی کو کیا خبر کتنے شعلے خود اسی گل پیرہن تک آ گئے معتبر ہو کر رہی دیوانگی اپنی سرورؔ جتنے انداز جنوں تھے بانکپن تک آ گئے

غزل · Ghazal

kahe to kaun kahe sarguzasht-e-aakhir-e-shab

کہے تو کون کہے سرگذشت آخر شب جنوں ہے سر بہ گریباں خرد ہے مہر بہ لب حدود شوق کی منزل سے تا بہ حد ادب ہزار مرحلۂ جاں گداز و صبر طلب یہ عالم قد و گیسو یہ حسن عارض و لب تمام نکہت و نغمہ تمام شعر و ادب بدل سکا نہ زمانہ مزاج اہل جنوں وہی دلوں کے تقاضے وہی نظر کی طلب ہزار حرف‌ حکایت وہ ایک نیم نگاہ ہزار وعدہ و پیماں وہ ایک جنبش لب تھکے تھکے سے ستارے دھواں دھواں سی فضا بہت قریب ہے شاید سواد منزل شب سرورؔ منزل جاناں ہے کب سے چشم براہ بھٹک رہا ہے کہاں کاروان شوق و طلب

غزل · Ghazal

dast-o-paa hain sab ke shal ik dast-e-qaatil ke sivaa

دست و پا ہیں سب کے شل اک دست قاتل کے سوا رقص کوئی بھی نہ ہوگا رقص بسمل کے سوا متفق اس پر سبھی ہیں کیا خدا کیا ناخدا یہ سفینہ اب کہیں بھی جائے ساحل کے سوا میں جہاں پر تھا وہاں سے لوٹنا ممکن نہ تھا اور تم بھی آ گئے تھے پاس کچھ دل کے سوا زندگی کے رنگ سارے ایک تیرے دم سے تھے تو نہیں تو زندگی کیا ہے مسائل کے سوا اس کی محفل آئینہ خانہ تو تھی لیکن سرورؔ سارے آئینے سلامت تھے مرے دل کے سوا

غزل · Ghazal

fasl-e-gul kyaa kar gai aashufta saamaanon ke saath

فصل گل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ ہاتھ ہیں الجھے ہوئے اب تک گریبانوں کے ساتھ تیرے مے خانوں کی اک لغزش کا حاصل کچھ نہ پوچھ زندگی ہے آج تک گردش میں پیمانوں کے ساتھ دیکھنا ہے تا بہ منزل ہم سفر رہتا ہے کون یوں تو عالم چل پڑا ہے آج دیوانوں کے ساتھ ان حسیں آنکھوں سے اب للہ آنسو پوچھ لو تم بھی دیوانے ہوئے جاتے ہو دیوانوں کے ساتھ زندگی نذر حرم تو ہو چکی لیکن سرورؔ ہر عقیدت قازۂ عالم صنم خانے کے ساتھ

Similar Poets