"ai gardish-e-ayyam hamen ranj bahut hai kuchh khvab the aaise ki bikharne ke nahin the"
Zakariya Shaz
Zakariya Shaz
Zakariya Shaz
Sherشعر
See all 25 →ai gardish-e-ayyam hamen ranj bahut hai
اے گردش ایام ہمیں رنج بہت ہے کچھ خواب تھے ایسے کہ بکھرنے کے نہیں تھے
main chup raha to aankh se aansu ubal paDe
میں چپ رہا تو آنکھ سے آنسو ابل پڑے جب بولنے لگا مری آواز پھٹ گئی
ye mohabbat hai ise dekh tamasha na bana
یہ محبت ہے اسے دیکھ تماشا نہ بنا مجھ سے ملنا ہے تو مل حد ادب سے آگے
chhoD aaya huun pichhe sab avazon ko
چھوڑ آیا ہوں پیچھے سب آوازوں کو خاموشی میں داخل ہونے والا ہوں
akhir ye nakam mohabbat kaam aa.i
آخر یہ ناکام محبت کام آئی تجھ کو کھو کر میں نے خود کو پایا ہے
kuchh bhi dekha nahin tha main ne jab
کچھ بھی دیکھا نہیں تھا میں نے جب ہر نظارہ تھا میری آنکھوں میں
Popular Sher & Shayari
50 total"main chup raha to aankh se aansu ubal paDe jab bolne laga miri avaz phaT ga.i"
"ye mohabbat hai ise dekh tamasha na bana mujh se milna hai to mil hadd-e-adab se aage"
"chhoD aaya huun pichhe sab avazon ko khamoshi men dakhil hone vaala huun"
"akhir ye nakam mohabbat kaam aa.i tujh ko kho kar main ne khud ko paaya hai"
"kuchh bhi dekha nahin tha main ne jab har nazara tha meri ankhon men"
jab bhi ghar ke andar dekhne lagtaa huun
khiDki khol ke baahar dekhne lagtaa huun
kuchh bhi dekhaa nahin thaa main ne jab
har nazaara thaa meri aankhon mein
ai gardish-e-ayyaam hamein ranj bahut hai
kuchh khvaab the aaise ki bikharne ke nahin the
taalluq hi nahin hai jin se meraa
main un khadshaat mein rakkhaa huaa huun
dukh na sahne ki sazaaon mein ghiraa rahtaa hai
shahr kaa shahr duaaon mein ghiraa rahtaa hai
us kaa khayaal dil mein ghaDi do ghaDi rahe
phir is ke baa'd mez pe chaae paDi rahe
Ghazalغزل
ye jo biphre hue dhaare liye phirtaa huun main
یہ جو بپھرے ہوئے دھارے لیے پھرتا ہوں میں اپنے ہم راہ کنارے لیے پھرتا ہوں میں تابش و تاب لیے آئے گا سورج میرا رات بھر سر پہ ستارے لیے پھرتا ہوں میں برگ آوارہ صفت ساتھ مجھے بھی لے چل تیرے انداز تو سارے لیے پھرتا ہوں میں یہ الگ بات چرا لیتا ہے نظریں اپنی اس کی آنکھوں میں نظارے لیے پھرتا ہوں میں کہر میں ڈوبی یہ سرما کی سویر اے دنیا تم سمجھتی ہو تمہارے لیے پھرتا ہوں میں جانے کیا بات ہے پورے ہی نہیں ہوتے ہیں جانے کیا دل میں خسارے لیے پھرتا ہوں میں پھول ہونٹوں پہ ہنسی کے ہیں مہکتے ہوئے شاذؔ اور سانسوں میں شرارے لیے پھرتا ہوں میں
khoyaa huaa thaa haasil hone vaalaa huun
کھویا ہوا تھا حاصل ہونے والا ہوں میں کاغذ پر نازل ہونے والا ہوں چھوڑ آیا ہوں پیچھے سب آوازوں کو خاموشی میں داخل ہونے والا ہوں خود ہی اپنا رستہ دیکھ رہا ہوں میں خود ہی اپنی منزل ہونے والا ہوں مجھ کو شریک محفل بھی کب سمجھیں وہ میں جو جان محفل ہونے والا ہوں جانے کیا کہہ جائے گا ڈر لگتا ہے آئینے کے مقابل ہونے والا ہوں روح سلگتی اور پگھلتی جاتی ہے ایک بدن میں شامل ہونے والا ہوں آخر کب تک اپنے ناز اٹھاؤں شاذؔ آج اپنا ہی قاتل ہونے والا ہوں
mohabbat ek aisaa raasta hai
محبت ایک ایسا راستہ ہے چلو جتنا یہ اتنا راستہ ہے ہوا ہے دھند ہے اور تیز بارش پہاڑی ہے ذرا سا راستہ ہے کبھی اکتا گیا میں خود ہی خود سے کبھی اپنا ہی دیکھا راستہ ہے زمانے ہو گئے ہیں چلتے چلتے کہاں جاتا یہ دل کا راستہ ہے کہیں سانسیں چڑھا دیتا ہے میری کہیں آہستہ چلتا راستہ ہے وہی اوڑھی ہوئی ہے دھول اب تک وہی پیروں سے لپٹا راستہ ہے یہ کیسے موڑ پر میں آ گیا ہوں کہ چلتا ہوں تو چلتا راستہ ہے محبت حوصلہ ہے اپنا اپنا کہیں منزل کسی کا راستہ ہے سبھی کی اپنی اپنی منزلیں شاذؔ سبھی کا اپنا اپنا راستہ ہے
us kaa khayaal dil mein ghaDi do ghaDi rahe
اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے پھر اس کے بعد میز پہ چائے پڑی رہے ایسا نہیں کہ ہم کریں باتیں نہ بے حساب لیکن یہ کیا کہ کیل سی دل میں گڑی رہے پھر گھر میں ایک آہنی پنجرہ دکھائی دے کھڑکی میں کافی دیر جو لڑکی کھڑی رہے بکھری ہو جیسے چاندنی برگ گلاب پر مسکان اس کے ہونٹوں پہ ایسے پڑی رہے دل میں خوشی کے پھوٹتے یوں ہی رہیں انار تیری ہنسی کی یوں ہی سدا پھلجڑی رہے کھڑکی تو شاذؔ بند میں کرتا ہوں بار بار لیکن ہوائے شوق کہ ضد پر اڑی رہے
ham tujh se koi baat bhi karne ke nahin the
ہم تجھ سے کوئی بات بھی کرنے کے نہیں تھے امکان بھی حالات سنورنے کے نہیں تھے بھر ڈالا انہیں بھی مری بے دار نظر نے جو زخم کسی طور بھی بھرنے کے نہیں تھے اے زیست ادھر دیکھ کہ ہم نے تری خاطر وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے کل رات تری یاد نے طوفاں وہ اٹھایا آنسو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے ان کو بھی اتارا ہے بڑے شوق سے ہم نے جو نقش ابھی دل میں اترنے کے نہیں تھے اے گردش ایام ہمیں رنج بہت ہے کچھ خواب تھے ایسے کہ بکھرنے کے نہیں تھے
kyaa nazaara thaa meri aankhon mein
کیا نظارہ تھا میری آنکھوں میں جب وہ سارا تھا میری آنکھوں میں ایک طوفان تھا کہیں برپا اور دھارا تھا میری آنکھوں میں حال کیسا یہ تو نے کر ڈالا کتنا پیارا تھا میری آنکھوں میں کچھ بھی دیکھا نہیں تھا میں نے جب ہر نظارہ تھا میری آنکھوں میں چاند جب تک نظر نہ آیا تھا تارا تارا تھا میری آنکھوں میں جب کیا عشق کا سفر آغاز کب کنارہ تھا میری آنکھوں میں کتنی آنکھوں سے شاذؔ بچتے ہوئے کوئی ہارا تھا میری آنکھوں میں





