SHAWORDS
Zohheb Farooqui Afrang

Zohheb Farooqui Afrang

Zohheb Farooqui Afrang

Zohheb Farooqui Afrang

poet
1Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

وہ مجھ کو آزمانے والے کیا ہوئے مجھے لہو رلانے والے کیا ہوئے مری خطا بتانے والے کیا ہوئے مجھے سزا سنانے والے کیا ہوئے وہ نفرتوں کے قافلوں کے درمیاں محبتیں لٹانے والے کیا ہوئے زمین پوچھتی ہے آسمان سے وہ انقلاب لانے والے کیا ہوئے جگر پہ زخم ہیں نئے نئے سبھی جو زخم تھے پرانے والے کیا ہوئے جدا نہ ہوں گے مجھ سے اس دروغ کا مجھے یقیں دلانے والے کیا ہوئے یہ راستے میں آنے والے لوگ ہیں وہ راستہ دکھانے والے کیا ہوئے یہ مجھ سے دور جانے والے کون ہیں مرے قریب آنے والے کیا ہوئے جو مجھ کو کہہ رہے تھے ہار جائے گا یہیں تو تھے زمانے والے کیا ہوئے کہاں سے آ بسے ہیں یہ دروغ گو جہاں کو سچ بتانے والے کیا ہوئے اجاڑ مے کدے سے پوچھئے کوئی وہ پینے اور پلانے والے کیا ہوئے

vo mujh ko aazmaane vaale kyaa hue

غزل · Ghazal

بے لوث و روادار تمہاری ہی طرح ہو دشمن بھی مرے یار تمہاری ہی طرح ہو میں ہاتھ سے پھر زہر بھی کھا لوں گا تمہارے گر وہ بھی اثر دار تمہاری ہی طرح ہو جاں ہنس کے لٹا دوں گا مگر مجھ میں جو اترے خواہش ہے وہ تلوار تمہاری ہی طرح ہو لو پھول مری قبر کی خاطر تو رہے دھیان ہر پھول کی مہکار تمہاری ہی طرح ہو افرنگؔ زمانے میں ضروری تو نہیں ہے ہر شخص کا کردار تمہاری ہی طرح ہو

be-laus-o-ravaadaar tumhaari hi tarah ho

غزل · Ghazal

پلٹ کر نہ دیکھیں گے تم کو دوبارہ چلو اب یہ وعدہ ہے تم سے ہمارا میں وہ تو نہیں ہوں جو ہوتا رہا ہوں مگر اب نہ ہوگا وہ ہونا گوارا کہیں فائدہ تو نظر ہی نہ آئے جہاں دیکھیے بس خسارہ خسارہ جو مٹی میں ملنا ہے سب کو یہیں کی تو کرتے بھی کیوں ہو ہمارا تمہارا ہمیں صاف لفظوں میں کھل کر بتاؤ سمجھتے نہیں ہم اشارہ وشارہ یہ کیا ماجرا ہے مصیبت ہے کیسی جہاں جائیں نظریں وہیں وہ نظارہ بناؤ وہ کردار اپنا کہ دنیا یہ سوچے زمیں پر ہے کوئی ستارہ ہمیں اپنے اوپر بھروسا ہے پورا رکھو پاس اپنے تم اپنا سہارا کہ مشکل میں افرنگؔ یہ یاد رکھنا یقیناً سمندر کا ہوگا کنارہ

palaT kar na dekheinge tum ko dobaara

غزل · Ghazal

مرض لگتا ہے جو مجھ کو اسے میری دوا سمجھے دوانہ ہو گیا ہوں میں دوانوں کو وہ کیا سمجھے میں اپنے آپ میں خوش ہوں مجھے اس سے غرض کیا ہے کہ یہ مجھ کو بھلا سمجھے کہ وہ مجھ کو برا سمجھے بچھڑنے کا وہ ہم سے نام تک لینے سے گھبرائے جسے ہم ہجر کہتے ہیں اسے وہ بد دعا سمجھے گناہوں سے بچا جائے کہاں تک اس زمانے میں کہ ہر اک موڑ پر ملتے ہیں وہ جن سے خدا سمجھے بھروسا کیا محبت کب تمہیں بدنام کر جائے کہ عاشق کو ہمیشہ ہی زمانہ سر پھرا سمجھے ہمیں وہ کس سزا کے واسطے تیار کرتا ہے جو اپنے بھی گناہوں کو ہماری ہی خطا سمجھے وہ ہم سے نیند کے رستے سہی پر روبرو تو ہو کبھی تو آنکھوں میں بھر لے ہمیں بھی خواب سا سمجھے ہمیں افرنگؔ ظالم سے شکایت ہے تو اتنی ہے ہم اس کو تو سمجھتے ہیں وہ ہم کو بھی ذرا سمجھے

maraz lagtaa hai jo mujh ko use meri davaa samjhe

غزل · Ghazal

تیغ شمشیر یا خنجر کی ضرورت کیا ہے جنگ جب خود سے ہو لشکر کی ضرورت کیا ہے جس نے سمجھا مجھے باہر سے ہی سمجھا صاحب کس کو معلوم کہ اندر کی ضرورت کیا ہے گر ترا قرب میسر ہو تو اے جان ادا سرد راتوں میں بھی بستر کی ضرورت کیا ہے بے وفائی کا تری زخم کوئی کم تو نہیں چوٹ دینی ہو تو پتھر کی ضرورت کیا ہے قید رکھتا ہے جو طوفان کو اپنے اندر ایسے قطرے کو سمندر کی ضرورت کیا ہے اس کو سجدہ تو زمیں عرش سبھی کرتے ہیں اس کے قدموں کو مرے سر کی ضرورت کیا ہے

tegh shamshir yaa khanjar ki zarurat kyaa hai

غزل · Ghazal

سبھی دل شاد منظر چھوڑ آیا سفر میں ہوں میں گھر ور چھوڑ آیا تعلق تشنگی سے ہے پرانا یہ سوچا اور سمندر چھوڑ آیا مری قربانیاں کیا پوچھتے ہو پرندہ ہوں اور امبر چھوڑ آیا بھٹکنے کا تھا ایسا شوق مجھ کو کہ میں دامان رہبر چھوڑ آیا جہاں سے زندگی کی ابتدا کی اسی جا موت کا ڈر چھوڑ آیا مرمت میں بہت خرچہ تھا صاحب میں اپنے خواب جرجر چھوڑ آیا مجھے افرنگؔ دکھ اس بات کا ہے میں اس کی آنکھوں کو تر چھوڑ آیا

sabhi dil-shaad manzar chhoD aayaa

Similar Poets