"miri khamoshiyon ki jhiil men phir kisi avaz ka patthar gira hai"

Aadil Raza Mansoori
Aadil Raza Mansoori
Aadil Raza Mansoori
Sherشعر
miri khamoshiyon ki jhiil men phir
مری خاموشیوں کی جھیل میں پھر کسی آواز کا پتھر گرا ہے
safar ke baa'd bhi mujh ko safar men rahna hai
سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے نظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہے
vahan shayad koi baiTha hua hai
وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے ابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہے
saare taare zamin pe gir jaate
سارے تارے زمیں پہ گر جاتے زور سے میں جو پھینکتا پتھر
naam ne kaam kar dikhaya hai
نام نے کام کر دکھایا ہے سب نے دیکھا ہے تیرتا پتھر
Popular Sher & Shayari
10 total"safar ke baa'd bhi mujh ko safar men rahna hai nazar se girna bhi goya khabar men rahna hai"
"vahan shayad koi baiTha hua hai abhi khiDki men ik jalta diya hai"
"saare taare zamin pe gir jaate zor se main jo phenkta patthar"
"naam ne kaam kar dikhaya hai sab ne dekha hai tairta patthar"
miri khaamoshiyon ki jhiil mein phir
kisi aavaaz kaa patthar giraa hai
safar ke baa'd bhi mujh ko safar mein rahnaa hai
nazar se girnaa bhi goyaa khabar mein rahnaa hai
saare taare zamin pe gir jaate
zor se main jo pheinktaa patthar
naam ne kaam kar dikhaayaa hai
sab ne dekhaa hai tairtaa patthar
vahaan shaayad koi baiThaa huaa hai
abhi khiDki mein ik jaltaa diyaa hai
Ghazalغزل
ek ik lamhe ko palkon pe sajaataa huaa ghar
ایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھر راس آتا ہے کسے ہجر مناتا ہوا گھر خواب کے خدشے سے اب نیند اڑی جاتی ہے میں نے دیکھا ہے اسے چھوڑ کے جاتا ہوا گھر گر زباں ہوتی تو پتھر ہی بتاتا سب کو کس قدر ٹوٹا ہے وہ خود کو بناتا ہوا گھر اس کا اب ذکر نہ کر چھوڑ کے جانے والے تو نے دیکھا ہی کہاں اشک بہاتا ہوا گھر اب اسے یاد کہوں یاس کہوں یا وحشت مجھ کو آتا ہے نظر خاک اڑاتا ہوا گھر تھک گیا کیا مرے طولانی سفر سے عادلؔ سو گیا ساتھ مرے مجھ کو سلاتا ہوا گھر
raaste sikhaate hain kis se kyaa alag rakhnaa
راستے سکھاتے ہیں کس سے کیا الگ رکھنا منزلیں الگ رکھنا قافلہ الگ رکھنا بعد ایک مدت کے لوٹ کر وہ آیا ہے آج تو کہانی سے حادثہ الگ رکھنا جس سے ہم نے سیکھا تھا ساتھ ساتھ چلنا ہے اب وہی بتاتا ہے نقش پا الگ رکھنا کوزہ گر نے جانے کیوں آدمی بنایا ہے اس کو سب کھلونوں سے تم ذرا الگ رکھنا لوٹ کر تو آئے ہو تجربوں کی صورت ہے پر مری کہانی سے فلسفہ الگ رکھنا تم تو خوب واقف ہو اب تمہی بتاؤ نا کس میں کیا ملانا ہے کس سے کیا الگ رکھنا خواہشوں کا خمیازہ خواب کیوں بھریں عادلؔ آج میری آنکھوں سے رت جگا الگ رکھنا
din ke siine pe shaam kaa patthar
دن کے سینے پہ شام کا پتھر ایک پتھر پہ دوسرا پتھر یہ سنا تھا کہ دیوتا ہے وہ میرے حق ہی میں کیوں ہوا پتھر دائرے بنتے اور مٹتے تھے جھیل میں جب کبھی گرا پتھر اب تو آباد ہے وہاں بستی اب کہاں تیرے نام کا پتھر ہو گئے منزلوں کے سب راہی دے رہا ہے کسے صدا پتھر سارے تارے زمیں پہ گر جاتے زور سے میں جو پھینکتا پتھر نام نے کام کر دکھایا ہے سب نے دیکھا ہے تیرتا پتھر تو اسے کیا اٹھائے گا عادلؔ میرؔ تک سے نہ اٹھ سکا پتھر
paanv patton pe dhire se dhartaa huaa
پاؤں پتوں پہ دھیرے سے دھرتا ہوا وہ گزر جائے گا یوں ہی ڈرتا ہوا بوجھ سورج کا سر پر اٹھانے کو ہے ایک سایہ ندی میں اترتا ہوا شام ساحل پہ گم صم سی بیٹھی ہوئی اور دریا میں سونا بکھرتا ہوا تیرے آنے کی اس کو خبر کس نے دی ایک آشفتہ سر ہے سنورتا ہوا دیکھتا رہ گیا اپنی پرچھائیاں وقت گزرا ہے کتنا ٹھہرتا ہوا
safar ke baa'd bhi mujh ko safar mein rahnaa hai
سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے نظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہے ابھی سے اوس کو کرنوں سے پی رہے ہو تم تمہیں تو خواب سا آنکھوں کے گھر میں رہنا ہے ہوا تو آپ کی قسمت میں ہونا لکھا تھا مگر میں آگ ہوں مجھ کو شجر میں رہنا ہے نکل کے خود سے جو خود ہی میں ڈوب جاتا ہے میں وہ سفینہ ہوں جس کو بھنور میں رہنا ہے تمہارے بعد کوئی راستہ نہیں ملتا تو طے ہوا کہ اداسی کے گھر میں رہنا ہے جلا کے کون مجھے اب چلے کسی کی طرف بجھے دیے کو تو عادلؔ کھنڈر میں رہنا ہے
chaand taare banaa ke kaaghaz par
چاند تارے بنا کے کاغذ پر خوش ہوئے گھر سجا کے کاغذ پر بستیاں کیوں تلاش کرتے ہیں لوگ جنگل اگا کے کاغذ پر جانے کیا ہم سے کہہ گیا موسم خشک پتا گرا کے کاغذ پر ہنستے ہنستے مٹا دیے اس نے شہر کتنے بسا کے کاغذ پر ہم نے چاہا کہ ہم بھی اڑ جائیں ایک چڑیا اڑا کے کاغذ پر لوگ ساحل تلاش کرتے ہیں ایک دریا بہا کے کاغذ پر ناؤ سورج کی دھوپ کا دریا تھم گئے کیسے آ کے کاغذ پر خواب بھی خواب ہو گئے عادلؔ شکل و صورت دکھا کے کاغذ پر





