aae hain ghair ko le kar ham-raah
aise aane se na aanaa achchhaa
Aashiq Husain Bazm Afandi
Aashiq Husain Bazm Afandi
Aashiq Husain Bazm Afandi
Popular Shayari
2 totaldard ho jis mein hikaayat hai vo khuub
jo ho rangin vo fasaanaa achchhaa
Ghazalغزل
یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہر چاہوں جو نہ تجھ کو یہ ہے امکان سے باہر اس روئے کتابی پہ پسینہ ہے نہ غازہ شاید ہے تر و خشک اسی قرآن سے باہر مر کر بھی میں وحشت ہی کے قابو میں رہوں گا خاک اڑ کے نہ جائے گی بیابان سے باہر ہے قبضۂ قدرت میں غم عشق حقیقی اب چرخ یہ کھانا ہے ترے خوان سے باہر ڈیوڑھی میں محل کی ہمیں جو چاہے سنا لے سمجھیں گے کسی دن ترے دربان سے باہر گوش دل و جاں میں ہیں امانت تری باتیں موتی کبھی نکلیں گے نہ اس کان سے باہر گھر بیٹھے ہو کس طرح ترے حسن کا شہرا یوسف کو ملا مرتبہ کنعان سے باہر پھر نکلیں مہ و مہر چمک کر تو میں جانوں بے پردہ اگر آؤ تم ایوان سے باہر وہ بستۂ زنجیر خموشی ہوں کہ تا حشر نکلے مرے نالے بھی نہ زندان سے باہر چاروں طرف اک دم میں نئی چاندنی چھٹکی شب کو نکل آئے جو وہ دالان سے باہر نشہ میں انہیں کے مجھے درکار ہیں بوسے جو پستۂ خنداں ہیں گزک دان سے باہر سجدہ تمہیں کر بیٹھیں گے کفار و مسلماں اب کے بھی اگر آؤ گے اس شان سے باہر اب ہاتھ مگر گردن نازک میں پڑا ہے ہوگا نہ گلہ ان کا گریبان سے باہر ثابت قدم معرکہ آ پہنچے اب اے عشق سر دے کے بھی جائیں گے نہ میدان سے باہر غیروں کے تصور میں رسائی ہوئی کیوں کر کس وقت گئے آپ مرے دھیان سے باہر اوصاف قد یار بھی موزوں کرو اے بزمؔ کیوں نور کا مصرع رہے دیوان سے باہر
yuun to main nahin huun tire farmaan se baahar
41 views
کوئی نادان نہ دانا اچھا آپ اچھے تو زمانا اچھا نہ ہوا دل کا لگانا اچھا غلطی کی نہیں جانا اچھا ایسے بگڑوں کا بنانا اچھا وہ جو روٹھیں تو منانا اچھا آئے ہیں غیر کو لے کر ہمراہ ایسے آنے سے نہ آنا اچھا ساتھ ہے زیر زمیں تاروں کے یہ ملا اس کو خزانہ اچھا یہ مقابل ہے وہ سر چڑھتا ہے آئنے سے تو ہے شانا اچھا مجھ سے ملنے میں بہانے نہ کرو خون اس سے تو بہانا اچھا اے حنا جاتے ہیں وہ غیر کے گھر رنگ ایسے میں جمانا اچھا لوٹ ہوں خال رخ یار پہ میں ہو جو قسمت میں یہ دانا اچھا بادشہ سے بھی نہیں دبتے تھے تھا لڑکپن کا زمانا اچھا درد ہو جس میں حکایت ہے وہ خوب جو ہو رنگیں وہ فسانا اچھا طور پر کام تھا کیا جلوے کا دل میں آنکھوں میں سمانا اچھا یہی اے بزمؔ رہے دل میں خیال ہم برے سب سے زمانا اچھا
koi naadaan na daanaa achchhaa
41 views
مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیا سب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیا منظور دل کا تھا انہیں لینا سو لے چکے اب کیوں وہ پاس آئیں گے مطلب نکل گیا قسمت تو دیکھیے جو شب وصل آئی بھی شکوے شکایتوں ہی میں سب وقت ٹل گیا آتے ہی فصل گل کے جنوں کا ہوا یہ جوش دیوانہ ان کا جامہ سے باہر نکل گیا باقی ہیں بعد قتل بھی الفت کی گرمیاں دل کی تڑپ نہ کم ہوئی گو دم نکل گیا ان کی نگاہ قہر سے اب کیا بچے گا دل پلٹا نہیں جو تیر کماں سے نکل گیا اس ڈر سے نالہ کر نہیں سکتا فراق میں مر جاؤں گا جو وہ دل نازک دہل گیا کانٹوں کی آبلوں سے غنیمت تھی نوک جھونک وحشی کا تیرے دشت میں کچھ جی بہل گیا ثابت قدم ہمیں ہیں نہ غیروں کو منہ لگاؤ کوئی نہ ہوگا ان میں سے جوبن جو ڈھل گیا اے بزمؔ مجھ سے کرتے وہ اقرار وصل کیا وہ تو یہ کہئے ان کی زباں سے نکل گیا
maqtal mein aaj hausla dil kaa nikal gayaa
41 views
عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میں کیا خبر مجھ کو یہ پتھر تھے مری تقدیر میں پاک کر کے اس کو لا قاتل لہو کھاتا ہے جوش غیر کے خوں کے ہیں دھبے دامن شمشیر میں بلکی لیتا ہے مقدر مجھ سے کیوں ہر مرتبہ بل ہے ان کی زلف کا کیا گیسوئے تقدیر میں ہجر زلف یار میں اس درجہ ہوں زار و نحیف ہے فراغت سے گزر اب خانۂ زنجیر میں آج تک خارش نہیں زخم جگر کی کم ہوئی کس قیامت کا مزا تھا ناخن شمشیر میں کس طرح بے قتل کے آئے مجھے آرام و چین شکل مقصد کی تو ہے آئینہ شمشیر میں قلب میں پیوست پیکاں بھی اسی صورت سے ہو جیسے بیٹھی ہے سری اے ترک تیرے تیر میں جن کے دل فولاد ہیں غم کا اثر ان پہ ہو کیا اشک کب دیکھے کسی نے دیدۂ زنجیر میں اس ضعیفی میں خطا کرتا نہیں تیر ستم ہیں ابھی کس بل جوانوں کے سے چرخ پیر میں واقعی دل کی خطا ہے عاشق مژگاں ہوا اس کو کچھ تنبیہ کر دیجے زبان تیر میں مہر و الفت کا محل اس بت کے رہنے کا مقام منزل دل بھی ہے کیا منزل مری تعمیر میں اشک خوں ناشادیٔ عشاق پر روئی ہے یہ خون کے دھبے نہیں ہیں یار کی شمشیر میں کشت وحشت پر اگر برسائے وہ آب کرم کوپلیں پھوٹیں ابھی ہر دانۂ زنجیر میں ایک دن کے درد فرقت نے یہ نقشہ کر دیا ہو گئی بیگانگی مجھ میں مری تصویر میں دیکھیے قسمت کی خوبی کچھ پڑھا جاتا نہیں اس نے نامہ بھی جو لکھا تو خط تقدیر میں آرزو ہے بزمؔ کی خالق وہ دن لائے کہیں مرثیہ جا کر پڑھوں میں روضۂ شبیر میں
umr guzri in buton ke vasl ki tadbir mein
41 views
محبت تجھ سے وابستہ رہے گی جاوداں میری ترے قصہ کے پیچھے پیچھے ہوگی داستاں میری کریں گی دیکھیے الفت میں کیا رسوائیاں میری جہاں سنئے بس ان کا تذکرہ اور داستاں میری قیامت میں بھی جھوٹی ہوگی ثابت داستاں میری کہے گا اک جہاں ان کی وہاں یا مہرباں میری بہت کچھ قوت گفتار ہے اے مہرباں میری مگر ہاں سامنے ان کے نہیں کھلتی زباں میری قیامت کا تو دن ہے ایک اور قصہ ہے طولانی بھلا دن بھر میں کیوں کر ختم ہوگی داستاں میری وہ رسوائے محبت ہوں رہوں گا یاد مدت تک کہانی کی طرح ہر گھر میں ہوگی داستاں میری سناؤں اس گل خوبی کو کیوں میں قلب کی حالت بھلا نازک دماغی سننے دے گی داستاں میری کہوں کچھ تو شکایت ہے رہوں چپ تو مصیبت ہے بیاں کیوں کر کروں کچھ گو مگو ہے داستاں میری اکیلا منزل ملک عدم میں زیر مرقد ہوں وہ یوسف ہوں نہیں کچھ چاہ کرتا کارواں میری یہ دل میں ہے جو کچھ کہنا ہے دامن تھام کر کہہ دوں وہ میرے ہاتھ پکڑیں گے کہ پکڑیں گے زباں میری پھنسایا دام میں صیاد مجھ کو خوش بیانی نے عبث پر تو نے کترے قطع کرنی تھی زباں میری نہ چھوٹا سلسلہ وحشت کا جب تک جاں رہی تن میں وہ مجنوں ہوں کہ تختے پر ہی اتریں بیڑیاں میری مشبک میں بھی تیر آہ سے سینے کو کر دوں گا لحد جب تک بنائے گا زمیں پر آسماں میری محبت بت کدہ کی دل میں ہے اور قصد کعبہ کا اب آگے دیکھیے تقدیر لے جائے جہاں میری بھلا واں کون پوچھے گا مجھے کچھ خیر ہے زاہد میں ہوں کس میں کہ پرسش ہوگی روز امتحاں میری تصدق آپ کے انصاف کے میں تو نہ مانوں گا کہ بوسے غیر کے حصے کے ہوں اور گالیاں میری مصنف خوب کرتا ہے بیاں تصنیف کو اپنی کسی دن وہ سنیں میری زباں سے داستاں میری فشار قبر نے پہلو دبائے خوب ہی میرے نیا مہماں تھا خاطر کیوں نہ کرتا میزباں میری قفس میں پھڑپھڑانے پر تو پر صیاد نے کترے جو منہ سے بولتا کچھ کاٹ ہی لیتا زباں میری وہ اس صورت سے بعد مرگ بھی مجھ کو جلاتی ہیں دکھا دی شمع کو تصویر ہاتھ آئی جہاں میری ہر اک جلسے میں اب تو حضرت واعظ یہ کہتے ہیں اگر ہو بند مے خانہ تو چل جائے دکاں میری طریقہ ہے یہی کیا اے لحد مہماں کی خاطر کا میں خود بے دم ہوں تڑواتی ہے ناحق ہڈیاں میری پسند آیا نہیں یہ روز کا جھگڑا رقیبوں کا میں دل سے باز آیا جان چھوڑو مہرباں میری ہزاروں ہجر میں جور و ستم تیرے اٹھائے ہیں جو ہمت ہو سنبھال اک آہ تو بھی آسماں میری یہ کچھ اپنی زباں میں کہتی ہیں جب پاؤں گھستا ہوں خدا کی شان مجھ سے بولتی ہیں بیڑیاں میری بنایا عشق نے یوسف کو گرد کارواں آخر کہ پیچھے دل گیا پہلے گئی تاب و تواں میری پڑھی اے بزمؔ جب میں نے غزل کٹ کٹ گئے حاسد رہی ہر معرکہ میں تیز شمشیر زباں میری
mohabbat tujh se vaabasta rahegi jaavedaan meri
41 views
عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لو اگر دیکھا نہیں جاتا تو منہ اپنا ادھر کر لو عوض الفت کے دل ہے فیصلہ باہم دگر کر لو رضا کے ساتھ ہے سودا نہ ڈر کر دو نہ ڈر کر لو بگڑنے کا بھلا ہے وصل کی صحبت میں کیا موقع بدی یہ کب تھی ایسے میں تم اپنا منہ ادھر کر لو فنا ہونا ہے جب غم اور خوشی پھر سب برابر ہے جہاں میں چار دن کی زیست کیسی ہی بسر کر لو خوشا شوخی دوپٹہ جب ہٹا سینہ سے فرمایا تمہیں میری قسم ہے منہ نہ اپنا گر ادھر کر لو جب اپنے غم کا قصہ بیٹھتا ہوں ان سے کہنے کو تو کہتے ہیں لب اپنے خشک کر لو چشم تر کر لو اشارہ پر تمہارے چل رہا ہے عالم امکاں اسی جانب ہو سب کا رخ تم اپنا منہ جدھر کر لو شکایت جب کبھی جور و جفا کی ان سے کرتا ہوں تو سختی سے یہ فرماتے ہیں پتھر کا جگر کر لو بھروسہ اس کی رحمت پر ہے جب زاہد تو پھر کیا ہے حسینوں کو تو زندہ رہ کے لو حوروں کو مر کر لو بہت کار اہم ہے کاٹنا عاشق کی گردن کا اٹھاؤ تیغ پھر پہلے نزاکت پر نظر کر لو پہنچ کر سامنے ان کے نہ پھر آواز نکلے گی یہاں اے حضرت دل جتنا چاہو شور و شر کر لو تمہارا یاں سے جانا بزمؔ سے دیکھا نہ جائے گا سحر فرقت کی آ پہنچی ابھی سے منہ ادھر کر لو
adu ki bazm mein ai 'bazm' ye shab to basar kar lo
41 views





