"tum jafa par bhi to nahin qaa.em ham vafa umr bhar karen kyun-kar"
Abdul Mannan Bedil Azimabadi
Abdul Mannan Bedil Azimabadi
Abdul Mannan Bedil Azimabadi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"aql kahti hai na ja kucha-e-qatil ki taraf sarfaroshi ki havas kahti hai chal kya hoga"
tum jafaa par bhi to nahin qaaem
ham vafaa umr bhar karein kyun-kar
aql kahti hai na jaa kucha-e-qaatil ki taraf
sarfaroshi ki havas kahti hai chal kyaa hogaa
Ghazalغزل
maail us but kaa jidhar tir-e-nazar hotaa hai
مائل اس بت کا جدھر تیر نظر ہوتا ہے صورت قبلہ نما دل بھی ادھر ہوتا ہے درد سینے میں کہاں اور کدھر ہوتا ہے یہ تو ہم کہہ نہیں سکتے ہیں مگر ہوتا ہے مطمئن آپ رہیں خوف کی کچھ بات نہیں کہیں عاشق کے بھی نالوں میں اثر ہوتا ہے دل ہوا جاتا ہے جولاں گہ یاس و حرماں دیکھ کس طرح سے ویراں ترا گھر ہوتا ہے میری تدبیر پہ ہنس دیتی ہے تقدیر مری نالہ جس وقت کہ جویائے اثر ہوتا ہے تجھ کو ڈر کیا ہے مرا قصۂ غم سن تو سہی کہیں عاشق کے بیاں میں بھی اثر ہوتا ہے جاگزیں ہوتا ہے اک دل میں کوئی پردہ نشیں یعنی اب رشک دو صد کعبہ یہ گھر ہوتا ہے رحم کیوں آئے انہیں سن کے ہمارا نامہ کب سیہ بختوں کے رونے میں اثر ہوتا ہے واعظو کعبہ کی تعریف سے ثابت یہ ہوا کہ صنم خانہ ہی اللہ کا گھر ہوتا ہے برگ ہائے گل تر کیسے بکھر جاتے ہیں گریۂ بلبل نالاں میں اثر ہوتا ہے زاہد گوشہ نشیں کب اسے پہچان سکا وہی عارف ہے جسے ذوق نظر ہوتا ہے شب کو سب لوگوں سے پوشیدہ جناب بیدلؔ آپ کا جانا یہ ہر روز کدھر ہوتا ہے
meraa lab-e-khamosh agar iltijaa kare
میرا لب خموش اگر التجا کرے شاید تری نگاہ کرم اعتنا کرے اللہ زور بے اثری کا بھلا کرے یکساں ہے کوئی نالہ کرے یا دعا کرے دل اعتماد وعدۂ صبر آزما کرے کام اپنا تیری شوخیٔ طاقت ربا کرے اس کا شباب جوش پہ آئے خدا کرے دل زندگی سے ہاتھ اٹھا کر دعا کرے گر ہو سکے تو اتنا شہید جفا کرے ہیں تیغ نگاہ یار کے حق میں دعا کرے پروانہ دور گرد بساط امید ہو در پردہ شمع بزم محبت جلا کرے ایذا کشی کا دور بہار حیات ہے دل اپنا گل فروشیٔ داغ جفا کرے کچھ اختیار بھی ہے جو مجبوریاں ہیں کچھ اس کشمکش میں کہئے تو انسان کیا کرے پہنچے یہ عرش پر بھی تو پروا نہ ہو انہیں کہئے تو نالہ میرا رسا ہو کے کیا کرے آہ فلک رسا سے تو کچھ بھی نہ ہو سکا شاید کہ کچھ بلندئ دست دعا کرے مجبوریٔ اتم میں ہے زور اختیار کا جو کام مجھ سے ہو نہ سکے وہ خدا کرے قرآن میں لکھا ہے جو لا تقنطو صریح ذوق نگاہ کہئے تو کیوں کر خطا کرے کیوں چھیڑیں شوخیاں دل شورش پسند کو کیوں بیٹھے بیٹھے کوئی قیامت بپا کرے پھر دام میں پھنسوں گا کہ میں صید شوق ہوں صیاد مشق کے لئے مجھ کو رہا کرے لب آشنائے آرزوئے دل کبھی نہ ہو اور ماجرائے عشق کا قصہ ہوا کرے بیدلؔ جو مست ہو خبر فصل گل سے وہ دعوائے پارسائی بے صرفہ کیا کرے
kyon kahaa paas tire aaina-e-dil na rahe
کیوں کہا پاس ترے آئنۂ دل نہ رہے کیا یہ خواہش ہے کوئی تیرا مقابل نہ رہے طالب درد کو مطلوب ہے سامان تپش نشتر غم رہے پہلو میں اگر دل نہ رہے ان کی یہ ضد ہے نرالی کہ مرے سینہ میں دل وارفتہ رہے آرزوئے دل نہ رہے ہاتھ بسمل نے بڑھایا ہے لپٹ جانے کو کہ کفن بن کے رہے دامن قاتل نہ رہے رہرو راہ محبت کو ہدایت یہ ہے جادہ پیمائی رہے حسرت منزل نہ رہے خانۂ دل میں اترنے کا یہ مطلب ٹھہرا میہماں بن کے رہے خنجر قاتل نہ رہے قتل عشاق سے قاتل کا یہ مطلب تو نہیں غایت عشق و وفا عقدۂ مشکل نہ رہے دے کے جاں اس لئے لیتا ہوں سکون خاطر دائمی بن کے رہے دولت عاجل نہ رہے کیوں خفا ہوتے ہو دیوانوں کی خواہش یہ ہے نغمۂ عشق بنے شور سلاسل نہ رہے نذر غم اس لئے کی جان حزیں بیدلؔ نے اس کی گردن پہ کہیں منت قاتل نہ رہے
saaqi phir aaya saaghar-e-sahbaa liye hue
ساقی پھر آیا ساغر صہبا لئے ہوئے یا میری زندگی کا سہارا لئے ہوئے آنکھوں میں ہیں وہ چشمۂ صہبا لئے ہوئے یا آب زندگی کے ہیں دریا لئے ہوئے بیٹھا ہوں انتظار میں اک حیلہ جو کے پھر رگ رگ میں اضطراب کی دنیا لئے ہوئے تجدید وعدہ پھر ہوئی تمہید اضطراب پھر خرمن امید ہے شعلہ لئے ہوئے نذر نگاہ نرگس مستانہ ہو گیا آیا تھا شیخ خرقۂ تقویٰ لئے ہوئے میرا سکوت مطلب بے لفظ ہو تو ہو میں آؤں اور عرض تمنا لئے ہوئے اس طرح اس کی بزم سے دل لے چلا ہوں میں جس طرح کوئی جائے جنازہ لئے ہوئے پھر کر رہا ہوں غور وجوہات عشق پر اس پیکر جمال کا نقشہ لئے ہوئے ظالم کا ہر ستم ہے توجہ کی اک دلیل اس کی جفا وفا کا ہے نقشہ لئے ہوئے پھر جا رہا ہے بیدلؔ افسردہ دیکھیے غارت گر سکوں کی تمنا لئے ہوئے
doston ko yuun sataanaa chhoD de
دوستوں کو یوں ستانا چھوڑ دے دشمنوں کا دل بڑھانا چھوڑ دے تم ہی دنیا بھی مری ہو دین بھی کیا ہے گر سارا زمانہ چھوڑ دے حال دل کہنا جو چاہا یہ کہا بے سر و پا یہ فسانہ چھوڑ دے بزم دشمن میں وہ جا کر لٹ گئے رہزن اور ایسا خزانا چھوڑ دے شرم کر اے دل تغافل اس کا دیکھ اب بھی حال دل سنانا چھوڑ دے تاب نظارہ سے خود محروم ہیں عاشقوں سے منہ چھپانا چھوڑ دے اس کو میں پردہ نشیں سمجھوں اگر میری نظروں میں سمانا چھوڑ دے تند مے اور ساقیا وہ شعلہ خو آگ پانی میں لگانا چھوڑ دے داغ دل بلبل کو ہے رشک بہار کیوں خزاں میں چہچہانا چھوڑ دے کیوں جئے کیونکر جئے بیدلؔ اگر مہوشوں سے دل لگانا چھوڑ دے
dekhne vaale ye bole chashm-haa-e-yaar ke
دیکھنے والے یہ بولے چشم ہائے یار کے یہ تو مستانے ہیں شاید خانۂ خمار کے دل مرا شاید ہے شیداؤں میں تیر یار کے زخم ہائے دل مشابہ ہیں لب سوفار کے پار اتارا بحر نا پیدا کنار عشق سے صدقے جاؤں کیوں نہ تیری تیغ لنگر دار کے اٹھ سکا ہرگز کسی صورت نہ تیرا ناتواں دب گیا جو نیچے تیرے سایۂ دیوار کے کیا خبر اس کو کہ کب رات آئی اور کب دن گیا روز و شب یکساں ہیں آگے چشم شب بیدار کے جاں فزائی غم ربائی دل کشی فرحت دہی ہیں خواص خاص یہ خاک در دل دار کے جو دکھا دے جلوہ روئے شاہد مقصود کا صدقے ساقی اس شراب آئینہ کردار کے عشق میں اس بت کے رہبان و شیوخ و برہمن ہیں یہ سب کے سب مقید رشتۂ زنار کے بولے بہتر ہے حصول آرزو سے آرزو واہ صدقے جائیے اس پہلوئے انکار کے غم اٹھانا ظلم سہنا صبر کرنا یا کہ شکر کون ہے حسن عمل لائق تری سرکار کے کیوں نہ میں سمجھوں کہ مجھ کو مل گئی داد سخن وہ بہت شائق ہیں اے بیدلؔ مرے اشعار کے





