"tankhvah ek bosa hai tis par ye hujjaten hai na-dahind aap ki sarkar be-tarah"

Abdul Rahman Ehsan Dehlvi
Abdul Rahman Ehsan Dehlvi
Abdul Rahman Ehsan Dehlvi
Sherشعر
See all 47 →tankhvah ek bosa hai tis par ye hujjaten
تنخواہ ایک بوسہ ہے تس پر یہ حجتیں ہے نا دہند آپ کی سرکار بے طرح
yaara hai kahan itna ki us yaar ko yaaro
یارا ہے کہاں اتنا کہ اس یار کو یارو میں یہ کہوں اے یار ہے تو یار ہمارا
kaun saani shahr men is mere mah-pare ka hai
کون ثانی شہر میں اس میرے ماہ پارے کی ہے چاند سی صورت دوپٹہ سر پہ یک تارے کا ہے
dil men tum ho na jalao mire dil ko dekho
دل میں تم ہو نہ جلاؤ مرے دل کو دیکھو میرا نقصان نہیں اپنا زیاں کیجئے گا
nasib us ke sharab-e-bahisht hove mudam
نصیب اس کے شراب بہشت ہووے مدام ہوا ہے جو کوئی موجد شراب خانے کا
agar baiTha hi naseh munh ko si baiTh
اگر بیٹھا ہی ناصح منہ کو سی بیٹھ وگرنہ یاں سے اٹھ اے بے حیا جا
Popular Sher & Shayari
94 total"yaara hai kahan itna ki us yaar ko yaaro main ye kahun ai yaar hai tu yaar hamara"
"kaun saani shahr men is mere mah-pare ka hai chand si surat dupaTTa sar pe yak-tare ka hai"
"dil men tum ho na jalao mire dil ko dekho mera nuqsan nahin apna ziyan kijiyega"
"nasib us ke sharab-e-bahisht hove mudam hua hai jo koi mujid sharab-khane ka"
"agar baiTha hi naseh munh ko si baiTh vagarna yaan se uTh ai be-haya ja"
gale se lagte hi jitne gile the bhuul gae
vagarna yaad thiin ham ko shikaayatein kyaa kyaa
dil-rubaa tujh saa jo dil lene mein ayyaari kare
phir koi dilli mein kyaa dil ki khabardaari kare
aag is dil-lagi ko lag jaae
dil-lagi aag phir lagaane lagi
ba-vaqt-e-bosa-e-lab kaash ye dil kaamraan hotaa
zabaan us bad-zabaan ki munh mein aur main zabaan hotaa
tankhvaah ek bosa hai tis par ye hujjatein
hai naa-dahind aap ki sarkaar be-tarah
namaaz apni agarche kabhi qazaa na hui
adaa kisi ki jo dekhi to phir adaa na hui
Ghazalغزل
phir aayaa jaam-ba-kaf gul-ezaar ai vaaiz
پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظ شکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظ نہ جان مجھ کو تو مختار سخت ہوں مجبور نہیں ہے دل پہ مرا اختیار اے واعظ انار خلد کو تو رکھ کے ہیں پسند ہمیں کچیں وہ یار کی رشک انار اے واعظ اسی کی کاکل پر پیچ کی قسم ہے مجھے کہ تیرے وعظ ہیں سب پیچ دار اے واعظ ہمارے درد کو کیا جانے تو کہ تجھ کو ہے نہ درد یار نہ درد دیار اے واعظ کیا جو ذکر قیامت یہ کیا قیامت کی کہ یاد آیا مجھے قد یار اے واعظ بھلائے گا نہ کبھی یاد گل رخاں احساںؔ کوئی وہ سمجھے ہے سمجھا ہزار اے واعظ
yunhi kufr har subh har shaam hogaa
یوں ہی کفر ہر صبح ہر شام ہوگا الٰہی کبھو یاں بھی اسلام ہوگا کہیں کام میں وہ تو خود کام ہوگا یہاں کام آخر ہے واں کام ہوگا یہی دل اگر ہے یہی بے قراری تہ خاک بھی خاک آرام ہوگا صنم تین پانچ آپ کا چار دن ہے سدا ایک اللہ کا نام ہوگا یہ مژگاں وہ ہیں جن کی کاوش سے اک دن مشبک جگر مثل بادام ہوگا بتو جب کہ آغاز الفت ہے یہ کچھ خدا جانے کیا اس کا انجام ہوگا دعا کے عوض گالیاں اور تو کیا عنایات یہی مجھ کو انعام ہوگا یہ دو اک بلا ہیں گرفتار ان کا کوئی صبح ہوگا کوئی شام ہوگا یہی صبح اور شام تک گر عمل ہے عمل تیری زلفوں کا تا شام ہوگا میں وہ ناتواں ہوں اگر ذبح کیجے نہ اک نالہ مجھ سے سرانجام ہوگا جو بسمل تو کرتا ہے بسم اللہ اے شوخ ترے کام میں میرا بھی کام ہوگا مری لگ رہیں چھت سے آنکھیں ہیں دیکھو مشرف کب اس سے لب بام ہوگا کبھو تو بھی ہوگا مسلمان اے بت سدا تیرا جھوٹا ہی پیغام ہوگا شکار اجل ہوں گے اک روز ہم سب ہمیشہ نہ رستم نہ یاں سام ہوگا کہاں ہے وہ صید افگنی گور میں آہ خدا جانے کیا حال بہرام ہوگا نہ سن میری احساںؔ مبارک تجھے عشق مجھے کیا ترا نام بدنام ہوگا
marte dam naam tiraa lab ke jo aa jaae qarib
مرتے دم نام ترا لب کے جو آ جائے قریب جی کو ٹھنڈک ہو تپ غم نہ مرے آئے قریب بوسہ مانگوں تو کہیں مجھ سے یہ بلوا کے قریب کس کا منہ ہے جو مرے منہ کے وہ منہ لائے قریب ہاتھ دوڑاؤں نہ کیوں جبکہ وہ یوں آئے قریب پاؤں پھیلاؤں نہ کیوں پاؤں جو پھیلائے قریب پاس آؤں تو کہے پاس ادب بھی ہے ضرور دور جاؤں تو وہاں جائے تقاضائے قریب مجھ کو اے پیر مغاں محتسب ناہنجار قرب محشر ہے کہ بے قربی سے بلوائے قریب غم دوری سے ترے کوچے کے رویا عاشق واں سے جب روضۂ رضوان اسے لائے قریب میری بیداری سے اے دولت بیدار ہو کیا بخت جاگیں جو مجھے اپنے تو بلوائے قریب میرے نالوں سے نہ دن چین نہ شب کو ہے قرار مرگ کے پہنچے ہیں اب تو مرے ہم سایے قریب ایسی مجلس سے اگر رہیے بعید اولیٰ ہے دل دماغ اپنا تو وہ اور یہ غوغائے قریب پاس جاؤں تو مچل کر کہے چل یاں سے دور دور بیٹھوں تو گھڑک کر مجھے فرمائے قریب عشق کے پیچ میں ہوں چاہئے ہمدم پس مرگ عشق پیچاں ہی مری قبر کے لگوائے قریب مشک و صندل ہو ترے رنگ سے بالوں ہم سر غصہ دل کو مرے کس طرح نہ آ جائے قریب کچھ ردیف اب کی بڑھا قافیہ احساںؔ تو بدل پھر قریب ایسے بٹھا تجھ کو وہ بٹھلائے قریب
mahfil ishq mein jo yaar uThe aur baiThe
محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھے ہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھے رقص میں جب کہ وہ طرار اٹھے اور بیٹھے بے قراری سے یہ بیمار اٹھے اور بیٹھے کثرت خلق وہ محفل میں ہے تیری اک شخص نہیں ممکن ہے کہ یکبار اٹھے اور بیٹھے سر اٹھانے کی بھی فرصت نہیں دیتا ہے ہمیں چو حباب سر جو یار اٹھے اور بیٹھے خوف بدنامی سے تجھ پاس نہ آئے ورنہ ہم کئی بار سن اے یار اٹھے اور بیٹھے درد کیوں بیٹھے بٹھائے ترے سر میں اٹھا کہ قلق سے ترے سو بار اٹھے اور بیٹھے تیری دیوار تو کیا گنبد دوار بھی یار چاہئے آہ شرربار اٹھے اور بیٹھے آپ کی مجلس عالی میں علی الرغم رقیب بہ اجازت یہ گنہ گار اٹھے اور بیٹھے آپ سے اب تو اس احقر کو سروکار نہیں جس جگہ چاہئے سرکار اٹھے اور بیٹھے حضرت دل سپر داغ جنوں کو لے کر یوں بر عشق جگر خوار اٹھے اور بیٹھے چوں دلیرانہ کوئی منہ پہ سپر کو لے کر شیر خونخوار کو للکار اٹھے اور بیٹھے کفش دوز ان کے جب اپنے ہی برابر بیٹھیں ایسی مجلس میں تو پیزار اٹھے اور بیٹھے زاہد آیا تو گوارا نہیں رندوں ہم کو اپنی اس بزم میں مکار اٹھے اور بیٹھے دونوں کانوں کو پکڑ کر یہی ہے اس کی سزا کہہ دو سو بار یہ عیار اٹھے اور بیٹھے بیٹھتے اٹھتے اسی طرح کے لکھ اور غزل جس میں احساںؔ ہو نہ پیکار اٹھے اور بیٹھے
tumhaare qad se hain qaaem qayaamatein kyaa kyaa
تمہارے قد سے ہیں قائم قیامتیں کیا کیا اٹھی ہیں بیٹھے بٹھائے یہ آفتیں کیا کیا لبوں پہ جان کا آنا یہ خواب کا جانا خیال لب میں ہیں تیری حلاوتیں کیا کیا دل اپنا تم کو دیا پھر رکھے وفا کی امید بیاں اپنی کروں میں حماقتیں کیا کیا زمیں میں شرم سے اس قد کی گڑ گیا ہے سرو ہوئی ہیں اس کو نہ حاصل ندامتیں کیا کیا پھرا عدم سے کوئی اب تلک نہ اکتا کر خدا ہی جانے وہاں ہیں فراغتیں کیا کیا تو بے نصیب ہے ناصح تجھے کہوں کیا میں کہ رنج عشق میں ہوتی ہیں راحتیں کیا کیا گلے سے لگتے ہی جتنے گلے تھے بھول گئے وگرنہ یاد تھیں مجھ کو شکایتیں کیا کیا مجھے ہے گریہ میں مچلائے پر ہنسی آتی کہے ہے سن کے تو جب میری حالتیں کیا کیا کہے ہے مجھ کو مرا شعلہ رو بصد تشنیع بیان تیری کروں میں شرارتیں کیا کیا کہوں جو آ تو پھرے میرے گرد پہروں تلک جو بولوں جا تو جتائے نقاہتیں کیا کیا ڈرائے آہ سے گر آہ سن کے میں نہ ڈروں دکھائے اشک کی اپنی سرایتیں کیا کیا جو زلف دیکھی تو چمٹی مجھے بلا کی طرح نصیب اپنے کی بتلائیں شامتیں کیا کیا جو کھولوں بند قبا پھر کھلے ہے تیری زباں نکالتا ہے تو اس میں قباحتیں کیا کیا جو سرمہ دوں ہوں تو اک توتیا سا باندھے ہے کہوں جو بات بنائے حکایتیں کیا کیا مریض عشق تو ہو اور مجھ کو روگ لگے رہیں ہیں اب کی زمانے میں چاہتیں کیا کیا جو ذکر کل کا کیا میں نے منہ چھپا کے کہا تجھے بھی یاد ہیں احساںؔ کنایتیں کیا کیا
nim-chaa jald myaan hi na miyaan kijiyegaa
نیم چا جلد میاں ہی نہ میاں کیجئے گا نیم جانوں کا ابھی کام رواں کیجئے گا طاقت گرمیٔ خورشید قیامت ہے کسے تاب کی داغ جگر سے نہ فغاں کیجئے گا دل میں تم ہو نہ جلاؤ مرے دل کو دیکھو میرا نقصان نہیں اپنا زیاں کیجئے گا کہہ دو بقال پسر سے کہ مرا دل لے کر قصد اخذ دل اغیار نہ ہاں کیجئے گا دل سے دل پاس ہیں تو بھی ہے دلوں کی خواہش کیا دلوں کی کہیں دلی میں دکاں کیجئے گا اور بھی سوز جگر بزم میں ہوگا روشن شمع ساں قطع اگر میری زباں کیجئے گا یار جب ساتھ سفر میں ہو کہاں کی روزی روز روزوں ہی میں عید رمضاں کیجئے گا کس سے یا رب کہوں احوال یہ کہتا ہے وہ بت اپنی یاں رام کہانی نہ بیاں کیجئے گا وہ دھواں دھار سی زلفیں ہیں نظر میں ہر شب ورد اب سورۂ واللیل و دوخاں کیجئے گا شہر دل کی تمہیں آبادی کا کچھ بھی ہے خیال یا جہاں رہیے گا ویراں ہی وہاں کیجئے گا میری جانب سے کہو محتسب شہر سے یہ سعیٔ ارزانیٔ مے از دل و جاں کیجئے گا پانی پی پی کے تمہیں دیویں گے دشنام یہ رند تم سبک ہو گے اگر بادہ گراں کیجئے گا جلد احساںؔ سے کہو وہ بت خودکام آیا اب تو للہ کہیں بند زباں کیجئے گا





