SHAWORDS
Adnan Mohsin

Adnan Mohsin

Adnan Mohsin

Adnan Mohsin

poet
5Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

یہ ریت قیس کے نقش قدم پہ چلتی رہی سمندروں کے خد و خال کو بدلتی رہی کسی کے قدموں سے رستے لپٹ کے رویا کیے کسی کی موت پہ خود موت ہاتھ ملتی رہی اسے کنارے کا کنکر سمجھ کے پاؤں نہ رکھ یہ آرزو میرے دل کے صدف میں پلتی رہی غرور تشنہ دہانی تری بقا کی قسم ندی ہمارے لبوں کی طرف اچھلتی رہی جمی تھی برف رویوں کی سرخ آنکھوں پر درون جسم کوئی آگ تھی مچلتی رہی تماش گاہ زمانہ میں زندگی اپنی سنبھل کے گرتی رہی گر کے پھر سنبھلتی رہی یہ کون آئنہ پیکر یہاں سے گزرا ہے کہ جس کی گرد سفر پر نظر پھسلتی رہی

ye ret qais ke naqsh-e-qadam pe chalti rahi

41 views

غزل · Ghazal

میرے خوش رہنے سے اس کو کچھ پریشانی نہ تھی اس کو زندہ دیکھ کر مجھ کو بھی حیرانی نہ تھی دو تھکے ہارے دلوں نے اک ندی پر رات کی تھی مگر جذبوں میں وہ پہلی سی طغیانی نہ تھی رک گیا تھا وہ مرے حجرے میں جانے کس لیے آسماں شفاف تھا اور رات طوفانی نہ تھی تیغ زن کو وار سے پہچان لیتا تھا ہدف لفظ کی ایجاد سے پہلے رجز خوانی نہ تھی رفتہ رفتہ قہقہوں کے رنگ پھیکے پڑ گئے ہونٹ تھے سرسبز لیکن وہ ہنسی دھانی نہ تھی ایک سے دیوار و در کو دیکھنا تھا عمر بھر اپنی آنکھوں کے مقدر میں جہاں بانی نہ تھی وقت مہنگا ہو رہا تھا لفظ بھی کم یاب تھے شاعروں کو خواب بننے میں بھی آسانی نہ تھی

mere khush rahne se us ko kuchh pareshaani na thi

41 views

غزل · Ghazal

وہی کہ جس میں غرور شہی ملایا گیا مرا خمیر اسی خاک سے اٹھایا گیا اب اس پہ چاند ستارے بھی رشک کرتے ہیں وہ اک دیا جو کبھی دشت میں بجھایا گیا اگے گی فصل مضافات میں بغاوت کی فصیل شہر سے مجھ کو اگر گرایا گیا مگر میں ذات کے صحرا میں محو رقص رہا مجھے بھی کوہ ندا کی طرف بلایا گیا مرے لیے تیرے کھیتوں میں بھوک اگتی ہے مرے لیے تو یہ گلشن نہیں سجایا گیا

vahi ki jis mein ghurur-e-shahi milaayaa gayaa

41 views

غزل · Ghazal

تازہ پھول سجائیں کیوں ہم کمرے کے گل دانوں میں تیری خوشبو شامل ہے روزانہ کے مہمانوں میں کیسی کیسی بستی اجڑی اہل خرد کے ہاتھوں سے دیوانوں نے شہر بسائے جا کر ریگستانوں میں اپنے آنسو دفن ہوئے ہیں آنکھ کی گیلی قبروں میں اپنی چیخیں قید رہی ہیں ذہنوں کے زندانوں میں اس کے روپ کی دھوپ کا سایہ چھاؤں بچھاتے پیڑوں پر اس کی شوخ ہنسی کا چرچا شہر کے قہوہ خانوں میں دھند تو پونچھی بھی جا سکتی ہے چشمے کے شیشوں سے وقت کی راکھ پڑی رہتی ہے ٹھنڈے آتش دانوں میں پیروں سے ٹکراتے ہیں جب جھونکے سرد ہواؤں کے ہاتھ لرزنے لگ جاتے ہیں چمڑے کے دستانوں میں تنہائی کا بھاری پتھر ایک ذرا سا سرکا ہے کڑیوں کی آواز پڑی ہے اک قیدی کے کانوں میں

taaza phuul sajaaein kyuun ham kamre ke gul-daanon mein

41 views

غزل · Ghazal

کبھی تو خواب کبھی رت جگے سے باتیں کیں ترے گمان میں ہم نے دیے سے باتیں کیں ردائے شب پہ نئے طرز سے وصال لکھا بچھڑنے والوں نے اک دوسرے سے باتیں کیں رہی نہ یاروں سے امید غم گساری کی گھر آئے گریہ کیا آئنے سے باتیں کیں عجب مذاق ہے ہم نے خدا کے دھوکے میں تمام عمر کسی وسوسے سے باتیں کیں جناب شیخ سے اک بار سامنا ہو جائے کرے گا یاد کسی سرپھرے سے باتیں کیں بہت ادق تھیں عبارات زندگانی کی ذرا سی دیر رکے حاشیے سے باتیں کیں ہمارے ہونٹوں پہ پر لطف قہقہے بکھرے ہماری آنکھوں نے کتنے مزے سے باتیں کیں چلے تو چلتے گئے ہاتھ تھام کر چپ چاپ جدا ہوئے تو بہت راستے سے باتیں کیں

kabhi to khvaab kabhi ratjage se baatein kiin

41 views

غزل · Ghazal

اسم بن کر ترے ہونٹوں سے پھسلتا ہوا میں برف زاروں میں اتر آیا ہوں جلتا ہوا میں اس نے پیمانے کو آنکھوں کے برابر رکھا اس کو اچھا نہیں لگتا تھا سنبھلتا ہوا میں رات کے پچھلے پہر چاند سے کچھ کم تو نہ تھا دن کی صورت تری بانہوں سے نکلتا ہوا میں تیرے پہلو میں ذرا دیر کو سستا لوں گا تجھ تک آ پہنچا اگر نیند میں چلتا ہوا میں میری رگ رگ میں لہو بن کے مچلتی ہوئی تو تیری سانسوں کی حرارت سے پگھلتا ہوا میں وہ کبھی دھوپ نظر آئے کبھی دھند لگے دیکھتا ہوں اسے ہر رنگ بدلتا ہوا میں

ism ban kar tire honTon se phisaltaa huaa main

41 views

Similar Poets