SHAWORDS
Afzal Hazarvi

Afzal Hazarvi

Afzal Hazarvi

Afzal Hazarvi

poet
6Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

حیرت کا امکان بناتا رہتا ہوں کچھ منظر ویران بناتا رہتا ہوں کوئی تو ان میں پھول سجانے آئے گا سارا دن گلدان بناتا رہتا ہوں پتھر جیسے خواب سجاؤں آنکھوں میں مٹی کے ارمان بناتا رہتا ہوں اک ادنیٰ سا شاعر ہوں میں لاکھوں میں اپنی اک پہچان بناتا رہتا ہوں بن جاتی ہے جب اس کی تصویر تو پھر ہونٹوں پر مسکان بناتا رہتا ہوں گاؤں کی جب جب یاد ستاتی ہے افضلؔ کھیت شجر دہقان بناتا رہتا ہوں

hairat kaa imkaan banaataa rahtaa huun

41 views

غزل · Ghazal

بعد مدت کے مجھ سے ملا آئنہ دیکھ کر مجھ کو حیراں ہوا آئنہ اس نے مجھ سے تعلق کیا منقطع جس کسی کو بھی میں نے دیا آئنہ جا بہ جا عکس میرا تھا بکھرا ہوا ہاتھ سے جب مرے گر گیا آئنہ اس کو بننے سنورنے سے فرصت نہیں ہاتھ اس کے ہے جب سے لگا آئنہ روز دیکھوں میں چہرہ خراشوں بھرا روز دینے لگا ہے سزا آئنہ ہر کوئی مجھ سے نظریں چرانے لگا جب سے افضلؔ میں جگ میں بنا آئنہ

baa'd muddat ke mujh se milaa aaina

40 views

غزل · Ghazal

آنکھ سے عداوت کی نیند نے بغاوت کی اس کتابی چہرے کی رات بھر تلاوت کی بے حجاب ہونے پر آپ نے قیامت کی آپ چپ رہے لیکن آنکھ نے جسارت کی دیکھ کر ہماری اور آپ نے عنایت کی موم تھے مگر افضلؔ آگ سے محبت کی

aankh se 'adaavat ki

40 views

غزل · Ghazal

پا پیادہ چلتا ہوں بے ارادہ چلتا ہوں تھک نہ جاؤں اس لئے میں زیادہ چلتا ہوں چشم کور بستی میں بے لبادہ چلتا ہوں رستے حیرت کرتے ہیں اتنا سادہ چلتا ہوں ہو نہ جاؤں پورا میں آدھا آدھا چلتا ہوں مفلسی میں کر کے میں دل کشادہ چلتا ہوں افضلؔ آس کے رستے پر بے مرادہ چلتا ہوں

paa-pyaada chaltaa huun

40 views

غزل · Ghazal

یادوں کی جاگیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا گر اس کی تصویر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا اس کے دم سے رانجھا تھا میں وہ ہی مری پہچان بنی وہ گر میری ہیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا قائل کرنا کام تھا مشکل پر وہ قائل ہو ہی گیا لہجے میں تاثیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا میرا کام تمام تھا ورنہ اس کے نیک ارادے سے ہاتھوں میں شمشیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا اندر سے میں ٹوٹا پھوٹا ایک کھنڈر ویرانہ تھا ظاہر جو تعمیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا ظلمت شب میں روشن افضلؔ اک ننھا سا جگنو تھا اتنی بھی تنویر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

yaadon ki jaagir na hoti to main yaaro kyaa kartaa

40 views

غزل · Ghazal

خواب بن کر ہر خوشی رہ جائے گی بن ترے کیا زندگی رہ جائے گی ہجر کی منظر کشی رہ جائے گی آنکھ میں یارو نمی رہ جائے گی پنچھی سارے پیڑ سے اڑ جائیں گے صحن میں اک خامشی رہ جائے گی یوں تو سب ہی لوگ ہوں گے بزم میں تو نہ ہوگا تو کمی رہ جائے گی جانے والا لوٹ کر نہ آئے گا آنکھ در پر ہی جمی رہ جائے گی پھر کہاں افضل خلوص دوستاں نام کی جب دوستی رہ جائے گی

khvaab ban kar har khushi rah jaaegi

40 views

Similar Poets