SHAWORDS
Ahmad Aqeel

Ahmad Aqeel

Ahmad Aqeel

Ahmad Aqeel

poet
1Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

تیرے بے ربط بیانات سے خوف آتا ہے مجھ کو اب شہر کے حالات سے خوف آتا ہے اول اول میں سمجھتا تھا مسیحا تجھ کو منصفا اب تری ہر بات سے خوف آتا ہے ہم جنوں خیز مزاجوں کو نہیں تاب شعور واعظ شہر کے خطبات سے خوف آتا ہے ہاں مجھے گوشہ نشینی سے بہت الفت تھی اب مگر شورش جذبات سے خوف آتا ہے پہلے سنتا تھا بڑے شوق سے افسانہ مرا اب اسے میری حکایات سے خوف آتا ہے میری آنکھوں میں تلاطم تری آنکھوں میں سکون بس مجھے ایسے تضادات سے خوف آتا ہے

tere be-rabt bayaanaat se khauf aataa hai

40 views

غزل · Ghazal

عالم ذات میں جھانکو کوئی کب اچھا ہے دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ سب اچھا ہے رونے لگتا ہوں تو آتے ہیں دلاسے دینے شعر پڑھتا ہوں تو کہتے ہیں عجب اچھا ہے جانتا ہوں تو کسی اور سے مل کر خوش ہے چل ترے پیار میں مرنے کا سبب اچھا ہے جب فقیروں کی بھی کردار کشی کی تو نے کیسے مانے گا کوئی تیرا نسب اچھا ہے حال پوچھا تھا کسی نے ترے دیدار کے بعد بائیں پہلو کو دبایا کہا اب اچھا ہے آخری بار ملا بیٹھا رہا ساری رات جانے والے کی عنایات کا ڈھب اچھا ہے تو وہ دیپک ہے کہ شیدائی ہزاروں جس کے مجھ سے بے یار و مددگار کا رب اچھا ہے

aalam-e-zaat mein jhaanko koi kab achchhaa hai

40 views

غزل · Ghazal

دل کے گھاؤ بھی کام آئیں مجھے دیکھ کر لوگ مسکرائیں مجھے وہ ہی دنیا وہی پرانا پن یا خدا کچھ نیا دکھائیں مجھے لوٹ آؤں گا سب بھلا دوں گا سرسری سا اگر بلائیں مجھے با وضو بزم یار میں جاؤں آیت وصل گر سنائیں مجھے بڑی مشکل سے آ کے بیٹھا ہوں درد اٹھتے ہیں مت اٹھائیں مجھے آنکھ رونے کا مانگتی ہے خراج اب وہ آ کر گلے لگائیں مجھے

dil ke ghaav bhi kaam aaein mujhe

40 views

غزل · Ghazal

وہ کسی اور سمت جاتے رہے ہم فقط اپنا دل جلاتے رہے اس کی انگڑائی کیا قیامت تھی ہم نئے زاویے بناتے رہے ہر طرف رات کا نظارہ تھا دل بنا کر دیا جلاتے رہے اس کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ ہم پتھروں کو غزل سناتے رہے ہم فقط زاہدان خشک نہیں بات بگڑی ہوئی بناتے رہے اس کی آنکھیں تھیں عام سی آنکھیں ہم سخن یوں ہی ڈگمگاتے رہے دنیا روتی رہی مگر ہم لوگ قہقہوں میں کسک چھپاتے رہے

vo kisi aur samt jaate rahe

40 views

غزل · Ghazal

یہ طرز تکلم ہے ترا ہم نفساں سے تو دیکھ رہا ہے نظر سود و زیاں سے تحقیر مری اس سے سوا بزم میں کیا ہو میں تجھ سے مخاطب تو فلاں ابن فلاں سے کیا معرکۂ طور بپا ہونے لگا ہے اک شعلہ لپکتا ہے مرے قلب تپاں سے مے خانۂ اجمیر سے وہ رنگ ہے مفقود اب شکوہ مجھے کچھ بھی نہیں پیر مغاں سے فرہاد کی مسند پہ اگر بیٹھنا چاہے پھر سوچ کی بنیاد اٹھا کوہ گراں سے ہنستے ہوئے کرنا ہے رفو زخم جگر کا کچھ کام نہیں بنتا یہاں آہ و فغاں سے شاعر ہوں مروں گا تو کسی ڈھب سے مروں گا اے دوست کوئی ریل گزرتی ہے یہاں سے

ye tarz-e-takallum hai tiraa ham-nafasaan se

40 views

غزل · Ghazal

خود کو ہر دن نئی تربت پہ کھڑا پاتے ہیں اشک خوں رنگ بھی اب ختم ہوئے چاہتے ہیں بزم ہستی میں قیامت کا سماں لگتا ہے لوگ اٹھتے ہیں اور اٹھتے ہی چلے جاتے ہیں دل کو ہے تاب و تواں اور نہ آنکھوں کو مجال قدم اٹھتے ہیں تو پیچھے کی طرف آتے ہیں بات بنتی نظر آتی نہیں اس عالم میں اب کسی اور ہی دنیا کی ہوا کھاتے ہیں حادثہ یہ ہے کہ محبوب ہمیں مل نہ سکا اور پا سکتے نہیں وہ جنہیں ہم بھاتے ہیں اب کسی بو سے لگاؤ نہیں ہوتا ہم کو مشت خاک در سرکار اٹھا لاتے ہیں

khud ko har din nai turbat pe khaDaa paate hain

40 views

Similar Poets