SHAWORDS
Ahmad Jahangir

Ahmad Jahangir

Ahmad Jahangir

Ahmad Jahangir

poet
8Sher
8Shayari
17Ghazal

Sherشعر

See all 8
شعر · Sher

taar kas kar koi ragni chheD de ai tava.if aziyyat bhari raat hai

تار کس کر کوئی راگنی چھیڑ دے اے طوائف اذیت بھری رات ہے جانتی ہے سرائے کی ہر اونٹنی اس مسافر کی یہ آخری رات ہے

شعر · Sher

chand ghanTon men suraj nikal aa.ega tab ye ziina utar kar chali ja.iyo

چند گھنٹوں میں سورج نکل آئے گا تب یہ زینہ اتر کر چلی جائیو زندگی دیکھ آگے بیابان ہے شمع گل ہو گئی رک اری رات ہے

شعر · Sher

afrinash ke hafte men chhe roz tak ek tasvir paiham bana.i ga.i

آفرینش کے ہفتے میں چھ روز تک ایک تصویر پیہم بنائی گئی دن ضیا ساز ہاتھوں سے ظاہر ہوا اور مصور کی کاری گری رات ہے

شعر · Sher

ek taraf kuchh honT mohabbat ki raushan ayat paDhen

ایک طرف کچھ ہونٹ محبت کی روشن آیات پڑھیں اک صف میں ہتھیار سجائے سارے جنگ پرست رہیں

شعر · Sher

kaifiyat ke ishare pe tasvir men chand rangon ki tartib badli ga.i

کیفیت کے اشارے پہ تصویر میں چند رنگوں کی ترتیب بدلی گئی آسماں زرد ہے اور زمیں نیل گوں چند کالے شجر اک ہری رات ہے

شعر · Sher

das moharram ki faqa-shikan asr ka sar jhuka.e hue baiTh kar sochna

دس محرم کی فاقہ شکن عصر کا سر جھکائے ہوئے بیٹھ کر سوچنا چند پھولوں میں لپٹی ہوئی فجر تھی کچھ چراغوں کی نوحہ گری رات ہے

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

kaam aaiin ta'alluq ki baisaakhiyaan chand maathon pe mahtaab Taanke gae

کام آئیں تعلق کی بیساکھیاں چند ماتھوں پہ مہتاب ٹانکے گئے آخری صف میں بیٹھے ہوؤں کی کہو کب اٹھایا گیا اور ہانکے گئے شمع دان غزل سے بھڑکتی ہوئی بلی ماراں میں کوئی حویلی نہیں گومتی کے کنارے اندھیرا ہوا مرثیہ سن کے مجلس سے بانکے گئے چق اٹھائی تو دنیا کے بازار میں خواہشوں کی نجاست کا انبار تھا ہم نے بجتا ہوا ہر کٹورا سنا اور کھڑکی سے چپ چاپ جھانکے گئے زرد سکوں کا صندوق کھلتا رہا باٹ چڑھتے رہے مال تلتا رہا چار جانب سے بولی بڑھائی گئی شعر بیچے گئے لفظ آنکے گئے شاہ شانوں پہ رکھے ہوئے تخت پر دیوتا کی سماجت میں مصروف تھا بد دعائیں اگلتے ہوئے بد زباں آہ بھرتے رہے دھول پھانکے گئے آخری بستیوں کی کہانی سنو سرخ اینٹوں کی بھٹی بجھائی گئی پھول ریتی کے نیچے دبائے گئے چاہ مٹی کے ٹیلوں سے ڈھانکے گئے جاں کنی کی اذیت میں غم خوار کیا ایک مرتے ہوئے کو عزادار کیا کب لحد میں کہیں شمع رکھی گئی کیا کفن میں کبھی پھول ٹانکے گئے

غزل · Ghazal

firozi tasbih kaa gheraa haath mein jalva-afgan thaa

فیروزی تسبیح کا گھیرا ہاتھ میں جلوہ افگن تھا نارنجی شمعوں سے حجرہ خیر کی شب میں روشن تھا راہ رووں نے دشت سفر میں ہر امید سنواری تھی رنج کی راہ پہ چلنے والوں کا ہر خواب مزین تھا رات ہوئی ہے خیمہ تو ناقہ سے اتارا جائے گا دیپ کہاں رکھا ہے جس میں کچھ زیتون کا روغن تھا رنگوں کی یہ قاب الٹ دے تصویروں پر ماٹی لیپ کھوج جو سونے کے سکوں کا اک گوشے میں برتن تھا چین میں سنتے ہیں شاید اب آئینہ ایجاد ہوا ورنہ اک تالاب ہی اپنی آرائش کا درپن تھا ماتم کی آواز اٹھائی زنجیروں کے حلقوں نے ہاتھ بندھے تھے گردن سے پر گریہ شام تا مدین تھا

غزل · Ghazal

is se pahle kahin imkaan ke minaare par

اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر ہم ملے ہوں گے کسی دوسرے سیارے پر یار لبریز نگاہوں سے زیارت تیری روشنی آئے گرے چشم کے اندھیارے پر آ تحیر کے کسی باغ اتر جاتے ہیں اور ملتے ہیں کمالات کے فوارے پر منظر مصر میں یعقوب کو یوسف دیکھے یوں رہے آنکھ ترے حسن کے نظارے پر ہاتھ آ جائے تبسم کا ترے پھول کبھی پاؤں پڑ جائے کبھی آہ کے انگارے پر شورش شہر مباہات کی ذلت سے پرے ایک حجرہ ہے مرا عجز کے چوبارے پر

غزل · Ghazal

sunaa hai kichaD ke sukhne par hayaat cholaa badal rahi thi

سنا ہے کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی شجر سے نیچے اتر کے خلقت نحیف قدموں پہ چل رہی تھی وسیع رقبے کا بے نہایت خطیر ملبہ سمٹ رہا تھا ضعیف تارے کی دھونکنی سے مہیب ظلمت ابل رہی تھی طواف کرتی ہوا کا رونا مطاف میں غل مچا رہا تھا حرم کے پھاٹک سے بین کرتی کوئی سواری نکل رہی تھی وبا کی آفت کا تازیانہ سیاہ پشتوں پہ پڑ چکا تھا نگار خانے کے طاقچے میں خبر کی ہانڈی ابل رہی تھی فلک کے کوٹھے پہ دیکھتا ہوں نیا ستارہ چمک رہا ہے زمیں پہ گرنے سے قبل شاید شعاع قرنوں سے چل رہی تھی سلام کرتی ہوئی سحر کا کواڑ چوپٹ کھلا ہوا تھا فلک کا نیلم چمک رہا تھا ندی میں چاندی پگھل رہی تھی سفر کا صفحہ کھلا تو اس پر فنا کا نقشہ بنا ہوا تھا ہمارا نشہ اتر چکا تھا ہماری مستی سنبھل رہی تھی

غزل · Ghazal

khushk roTi toDni hai sard paani chaahiye

خشک روٹی توڑنی ہے سرد پانی چاہیے کیا کسی گرجے کی کنڈی کھٹکھٹانی چاہیے اے سماعت اس فضا میں آج بھی موجود ہے ہاں نواے نغمۂ کن تجھ کو آنی چاہیے کاہنا ہم سے روایت کا مکمل متن سن بطن میں جلتی ہوئی شمع‌ معانی چاہیے سابقہ نقشے پہ تازہ سلطنت ایجاد ہو آسماں نیلا بنانا گھاس دھانی چاہیے گم شدہ سورج کو روتا ہے مرا یوم سپید سرمئی شب کو چراغ آں جہانی چاہیے حسن کے گارے میں آب عشق کی چھینٹیں ملا چمپئی رنگت میں آتش سنسنانی چاہیے جسم کی گوشہ نشینی اور کتنے روز ہے بندۂ رب علی کو لا مکانی چاہیے

غزل · Ghazal

hukm de qirtaas par rangin nazaara phunk duun

حکم دے قرطاس پر رنگیں نظارہ پھونک دوں مصرع تر میں سنہرا استعارہ پھونک دوں رمز کی بارہ دری میں ضبط واجب گر نہ ہو میں تیقن سے تعجب کا منارہ پھونک دوں مشتری کا تاج پہنے زحل پر اسوار ہوں گاہ سیارہ جلاؤں گاہ تارا پھونک دوں ہاں اسی دریا تلے آئندگاں کا شہر ہے آتشیں لب سے اگر پانی کا دھارا پھونک دوں ایک فوارے کے گیسو ایک چوبارے کی آنکھ چشم نظارہ جلا کر ہر اشارہ پھونک دوں قلب سے اٹھتی ہوئی شاخ تموج حکم دے کیا تنفس کے شرر سے باغ سارا پھونک دوں

Similar Poets