SHAWORDS
Ahmad Mahfuz

Ahmad Mahfuz

Ahmad Mahfuz

Ahmad Mahfuz

poet
41Sher
41Shayari
49Ghazal

Sherشعر

See all 41

Popular Sher & Shayari

82 total

Ghazalغزل

See all 49
غزل · Ghazal

in aankhon se yuun raah-e-sukhan vaa nahin karte

ان آنکھوں سے یوں راہ سخن وا نہیں کرتے خاموش رہا کرتے ہیں بولا نہیں کرتے اندیشۂ طوفان بلا خیز بہت ہے اس واسطے ہم قطرے کو دریا نہیں کرتے پروا نہیں کچھ ان کو ہماری تو ہمیں کیا رخ ان کی طرف ہم بھی زیادہ نہیں کرتے غرقابی کا اتنا ہی اگر ڈر ہے تو یہ لوگ کیوں ساحل دریا سے کنارہ نہیں کرتے بس قطرۂ خوں سے ابھر آتے ہیں کئی رنگ ہم سینے پہ خود باغ لگایا نہیں کرتے

غزل · Ghazal

shikva karte hain jo ik baar kahin milte hain

شکوہ کرتے ہیں جو اک بار کہیں ملتے ہیں ایک ہی شہر میں کیوں رہ کے نہیں ملتے ہیں ہم نے اک عمر اٹھائی ہے اذیت کیا کیا پھر خدا خیر کرے وہم و یقیں ملتے ہیں نہیں ملتے تو خذف بھی نہیں ملتے ہم کو اور ملتے ہیں تو کیا در‌ ثمیں ملتے ہیں ایسے ملنے سے تو بہتر ہے ملے دل کو نجات جہاں ملنا نہیں ہوتا وہ وہیں ملتے ہیں

غزل · Ghazal

ajab balaa kaa tasarruf thaa khvaab par us kaa

عجب بلا کا تصرف تھا خواب پر اس کا کھلی جو آنکھ تو پہروں رہا اثر اس کا ہم اپنی تاب تماشا پہ اتنے خوش کیوں ہیں ابھی ان آنکھوں نے دیکھا کہاں ہنر اس کا عجب نہیں رگ گردن جو آپ ہی ٹوٹے ادھر کشیدہ بہت ہو گیا ہے سر اس کا وہ رات جس کے لیے کیسے کیسے دن کاٹے وہ رات آئی تو عالم ہی تھا دگر اس کا زمینیوں کی کہاں ہمسری نصیب اسے کہ ہے سدا سے دماغ آسمان پر اس کا

غزل · Ghazal

kyaa hijr mein taskin ki surat nahin rahti

کیا ہجر میں تسکین کی صورت نہیں رہتی رہتی ہے مگر تیری بدولت نہیں رہتی اب جیسے کوئی کام ہی رکتا نہیں اپنا اب جیسے کسی شے کی ضرورت نہیں رہتی دنیا سے گزر جاتے ہیں دنیا کی طلب میں دنیا سے ہمیں کوئی شکایت نہیں رہتی وہ موج صد آواز بلاتی تو ہے اب بھی مجھ کو ہی ادھر جانے کی فرصت نہیں رہتی ناگن کی طرح رات سمٹ آتی ہے دل میں جب سامنے اک چاند سی صورت نہیں رہتی کہتے تھے بہت دل نہ لگا کار ہوس میں لے دیکھ کہ اس شوق میں عزت نہیں رہتی

غزل · Ghazal

bhalaa kin aankhon se ab ye rang-e-bahaar dekhun

بھلا کن آنکھوں سے اب یہ رنگ بہار دیکھوں نظر اٹھاتے ہی باغ کو شعلہ زار دیکھوں کبھی وہ عالم کہ اس طرف آنکھ ہی نہ اٹھے کبھی یہ حالت کہ اس کو دیوانہ وار دیکھوں یہ ساری بے منظری سواد سکوت سے ہے صدا وہ چمکے تو دھند کے آر پار دیکھوں یہ کیسا خوں ہے کہ بہہ رہا ہے نہ جم رہا ہے یہ رنگ دیکھوں کہ دل جگر کا فشار دیکھوں ترے سوا بھی ہزار منظر ہیں دیکھنے کو تجھے نہ دیکھوں تو کیوں ترا انتظار دیکھوں

غزل · Ghazal

ho hi jaataa hai kisi tarah guzaaraa apnaa

ہو ہی جاتا ہے کسی طرح گزارا اپنا ورنہ اب شہر میں ہے کون ہمارا اپنا دل کے دریا میں ہوئیں غرق تمنائیں تو کیا موجۂ خوں سے ہے گل رنگ کنارہ اپنا کس قدر سنگ ملامت ہے مرے چاروں طرف میں نے اس در پہ یوں ہی سر نہیں مارا اپنا اک تماشا ہی سہی آج ہوا دیں اس کو اور کس دن کے لیے تھا یہ شرارہ اپنا نام اونچا رہے اے پستیٔ دنیا تیرا ہے ترے دم سے بلندی پہ ستارہ اپنا

Similar Poets