"tamam umr guzar jaati hai kabhi pal men kabhi to ek hi lamha basar nahin hota"
Akhtar Amaan
Akhtar Amaan
Akhtar Amaan
Sherشعر
tamam umr guzar jaati hai kabhi pal men
تمام عمر گزر جاتی ہے کبھی پل میں کبھی تو ایک ہی لمحہ بسر نہیں ہوتا
badan ke shahar men abad ik darinda hai
بدن کے شہر میں آباد اک درندہ ہے اگرچہ دیکھنے میں کتنا خوش لباس بھی ہے
hamen har aane vaala zakhm-e-taza de ke jaata hai
ہمیں ہر آنے والا زخم تازہ دے کے جاتا ہے ہمارے چاند سورج اور ستارے ایک جیسے ہیں
Popular Sher & Shayari
6 total"badan ke shahar men abad ik darinda hai agarche dekhne men kitna khush-libas bhi hai"
"hamen har aane vaala zakhm-e-taza de ke jaata hai hamare chand suraj aur sitare ek jaise hain"
tamaam umr guzar jaati hai kabhi pal mein
kabhi to ek hi lamha basar nahin hotaa
hamein har aane vaalaa zakhm-e-taaza de ke jaataa hai
hamaare chaand suraj aur sitaare ek jaise hain
badan ke shahar mein aabaad ik darinda hai
agarche dekhne mein kitnaa khush-libaas bhi hai
Ghazalغزل
zindagi ki tez itni ab ravaani ho gai
زندگی کی تیز اتنی اب روانی ہو گئی بات جو سوچی وہ کہنے تک پرانی ہو گئی عام سی اک بات تھی اپنی محبت بھی مگر یہ بھی جب لوگوں تلک پہنچی کہانی ہو گئی خوف کی پرچھائیاں ہیں ہر در و دیوار پر اپنے گھر پر جانے کس کی حکمرانی ہو گئی زندگی کے بعد اخترؔ زندگی اک اور ہے موت بھی جیسے فقط نقل مکانی ہو گئی
pahle ham ishq kiyaa karte the
پہلے ہم عشق کیا کرتے تھے ہاں کبھی ہم بھی جیا کرتے تھے اپنے دامن کی کبھی فکر نہ کی چاک اوروں کے سیا کرتے تھے پہلے ہر حال میں خوش رہتے تھے جانے کیا کام کیا کرتے تھے چاہنے والے بہت تھے لیکن ہم بس اک نام لیا کرتے تھے کبھی آنسو تو کبھی مے اخترؔ جو میسر تھا پیا کرتے تھے
tavil-tar hai safar mukhtasar nahin hotaa
طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا محبتوں کا شجر بے ثمر نہیں ہوتا پھر اس کے بعد کئی لوگ مل کے بچھڑے ہیں کسی جدائی کا دل پر اثر نہیں ہوتا ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک منزل ہے کوئی کسی کا یہاں ہم سفر نہیں ہوتا تمام عمر گزر جاتی ہے کبھی پل میں کبھی تو ایک ہی لمحہ بسر نہیں ہوتا یہ اور بات ہے وہ اپنا حال دل نہ کہے کوئی بھی شخص یہاں بے خبر نہیں ہوتا عجیب لوگ ہیں یہ اہل عشق بھی اخترؔ کہ دل تو ہوتا ہے پر ان کا سر نہیں ہوتا
yahaan mausam bhi badlein to nazaare ek jaise hain
یہاں موسم بھی بدلیں تو نظارے ایک جیسے ہیں ہمارے روز و شب سارے کے سارے ایک جیسے ہیں ہمیں ہر آنے والا زخم تازہ دے کے جاتا ہے ہمارے چاند سورج اور ستارے ایک جیسے ہیں خدایا تیرے دم سے اپنا گھر اب تک سلامت ہے وگرنہ دوست اور دشمن ہمارے ایک جیسے ہیں کہیں گر فرق نکلے گا تو بس شدت کا کچھ ورنہ یہاں پر غم ہمارے اور تمہارے ایک جیسے ہیں میں کس امید پہ دامن کسی کا تھام لوں اخترؔ کہ سب سے دوستی میں اب خسارے ایک جیسے ہیں
ye dil kahtaa hai koi aa rahaa hai
یہ دل کہتا ہے کوئی آ رہا ہے نظر کہتی ہے وہ بہلا رہا ہے ہر اک کے دل پہ کرتا ہے حکومت وہ اپنی سلطنت پھیلا رہا ہے کسی کی دسترس میں ہے مگر وہ کبھی آ کر ہمیں ملتا رہا ہے کبھی دیتا ہے دل کو زخم گہرے کبھی لگتا ہے وہ سہلا رہا ہے خبر اک اس کے آنے کی سنی تھی دیا گھر رات بھر جلتا رہا ہے کہیں گے لوگ میرے بعد سارے وہ جیسا بھی رہا اچھا رہا ہے کہاں پر آ کے اخترؔ رک گئے ہو چلو آؤ زمانہ جا رہا ہے
mohabbaton mein bahut ras bhi hai miThaas bhi hai
محبتوں میں بہت رس بھی ہے مٹھاس بھی ہے ہمارے جینے کی بس اک یہی اساس بھی ہے کبھی تو قرب سے بھی فاصلے نہیں مٹتے گو ایک عمر سے وہ شخص میرے پاس بھی ہے کسی کے آنے کا موسم کسی کے جانے کا یہ دل کہ خوش بھی ہے لیکن بہت اداس بھی ہے بدن کے شہر میں آباد اک درندہ ہے اگرچہ دیکھنے میں کتنا خوش لباس بھی ہے یہ جانتے ہیں کہ سب تھک کے گر پڑیں گے کہیں شکستہ لوگوں میں جینے کی کتنی آس بھی ہے وہ اس کا اپنا ہی انداز ہے بیاں کا امانؔ ہر ایک حکم پہ کہتا ہے التماس بھی ہے





